مولانا وحید الدین خان مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ کے فارغ التحصیل عالم دین، مصنف، مقرر اور عصر حاضر کے مفکر ہیں۔مولانا اردو، ہندی، فارسی، عربی اور انگریزی زبان پر کامل دسترس رکھتے تھے۔ مذکورہ زبانوں میں مولانا نے تالیفی کام کیا ہے۔ مولانا کی کتب بلا تفریق مسلک و مذہب مطالعہ کی جاتی ہیں۔ عصر حاضر میں الحاد کے خلاف قلم چلانے والوں میں پہلا اور اونچا نام مولانا کا ہی ہے۔ مولانا یکم جنوری 1925ء میں پرتاپ گڑھ میں پیدا ہوئے اور21 اپریل 2021ء میں دہلی کے اندر رحلت اختیار کرگئے۔رواں سال میں کووڈ (covid-19) کی وجہ سے آپ انتقال کرگئے۔ مولانا نے اپنی حیات میں بطور مصنف، مترجم اور فلسفی خدمات پیش کیں۔ مولانا کو رواں سال میں ہی پدم وبھوشن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ اسلام کے ساتھ ساتھ مولانا دیگر مذاہب کی کتب پر بھی عبور رکھتے تھے۔مولانا نے جو کتب تالیف فرمائی ہیں ان میں آخری سفر، آخرت کا سفر، اتحاد ملت، احیائے اسلام، اسلام دین فطرت، امن عالم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ راقم کے پاس مولانا کی 75 تالیفات کتابی شکل میں موجود ہے۔
مولانا کی تالیفات میں ایک کتاب "دعوت الی اللہ" بھی ہے۔ دعوت الی اللہ سے مولانا "انسان کو اس کے خالق اور مالک سے ساتھ جوڑنا" مراد لیتے ہیں۔ ابتدائی صفحات میں ہی مولانا خودرخی کو ترک کرکے خدا رخی اپنانے کی دعوت دیتے ہیں۔ خود رخی کو انا پرستی بھی کہا جاسکتا ہے۔ جبکہ خدا رخی کو بندگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ دعوت الی اللہ کا بنیادی تقاضا ہے کہ بندگان خدا کو خود رخی کے برے انجام سے آگاہ کیا جائے۔ثانیاً طالب حق کو قرآن سے متعارف کرانا ہے۔ دعوتی کام تبھی کامیاب ہوسکتی ہے جب یہ مخلوق کے بنائے ہوئے ناقص تحریکوں، سیاست سے پاک ہو۔ کیونکہ یہ کام خدائی ہے اور اللہ کے مرادی معنیٰ کے اعتبار سے ہی ادا کیا جائے گا۔ دعوت کی تعریف بیان کرنے کے بعد مولانا نے تفصیلی کلام کیا ہے۔جب بندے کو اللہ کی طرف بلایا جائے تو اولاً مقصد حیات (creation plan) کو دل و دماغ میں اتارا جائے۔ ثانیاً بندے کی سوئی ہوئی روح کو جگانا ہے جو اللہ کی معرفت سے ہی ممکن ہے۔ بندہ اللہ سے براہ راست مربوط ہوجائے، آدمی دنیا میں رہتے ہوئے ہی آخرت کی مخلوق بن جائے، دنیا کی تکلیفوں سے بندہ جہنم کے مناظر یاد کرلے، اس فکر کو دلوں میں پیدا کرنے والا فرد ہی کامیاب داعی بن سکتا ہے۔
دعوت کے بعد مولانا نے داعی کی تعریف بیان فرمائی ہے۔ زندگی کے راستوں پر روشنی کا مینار بن کر کھڑا ہونے والا داعی کہلاتا ہے۔ انسانیت کے بھٹکے ہوئے قافلوں کو اللہ کی طرف رہنمائی کرنے والا داعی ہے۔ داعی دو اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں۔ خدائی پکار دینے والے اور طاغوتی نظام کی طرف بلانے والے۔ خدائی پکار پر لبیک کہنے والا خود کو خدائی اخلاقیات میں ڈال دیتا ہے۔ انسانی وجود میں ہی دونوں اطراف کے نمائندے ہوتے ہیں۔ ضمیر خدائی پکار کی ترجمانی کرتا ہے جبکہ انانیت شیطانی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ داعی وہ نہیں جو نقل در نقل روایات کو آگے پہنچاتا رہے، داعی وہ ہے جو اولاً انسان کے اندر ذہنی بیداری کو پروان چڑھائے۔
تعریفات کے بعد مولانا نے چند اوراق میں دعوت دینے والوں کی عظمت بیان فرمائی ہے کہ خدا اپنے فیصلوں کو ان کی زبان سے جاری فرمائے گا۔ دعوت الی اللہ کو مصنف نے نصرت خدا قرار دیا ہے۔ داعیان اسلام کی عظمت اجاگر کرنے کے لئے مولانا نے قرآنی آیات اور انکی تفاسیر کو بطور دلیل پیش کیا ہے۔ مصنف نے سیرت ابن اسحاق اور سیرے ابن ھشام کی بعض روایات کو بھی اپنی تائید کے لئے نقل کیا ہے۔ دعوت کے بنیادی دو ارکان ہے جنہیں انذار اور تبشیر کہتے ہیں۔ یہاں راقم اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ مولانا نے الفاظ کا چناؤ بڑا ہی دلکش انداز میں کیا ہے۔ یہ الفاظ دل کے اندر گھر کر جاتے ہیں۔ حالانکہ راقم بعض افکار میں مولانا سے اختلاف بھی رکھتا ہے لیکن علمی اور اخلاقی حدود میں۔ کتاب کے صفحہ نمبر 24 سے مولانا نے اپنے تجربات بیان کئے ہیں اور سابقہ آسمانی کتب سے بعض سطور نقل کی ہیں۔ دعاۃ کو نصیحت کرتے ہوئے مولانا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ، "ہمیشہ اپنے عمل کے نتیجے کو سامنے رکھ کر کام کریں".یعنی نتیجہ خیز کام۔ سلف صالحین کی طرح دین کے معاملات میں بغیر علم گفتگو نہ کریں۔ کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے ترجمان ہیں۔ اپنے قول کو اپنی عمل سے پختگی بخشیں، اپنی ترجیحات متعین کریں، ص 26-27 پر مولانا انگریزی ترجمہ قرآن کی ضرورت پر لب کشائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ دعاۃ کو ترجیحات میں عربی لغت بھی شامل کرنی چاہئے۔ کیونکہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مترجمین عربی محاورات وغیرہ سے لاعلم ہوتے ہیں جس کی وجہ سے عبارات کے متن میں معنوی تحریفات عیاں ہوجاتی ہیں۔ البتہ غیر مسلم سوسائٹی میں قرآنی پیغام پھیلانے کے لئے کسی حد تک تراجم فائدہ دے سکتے ہیں۔ مولانا نے اس بات کا اعتراف خود بھی کیاہے فرماتے ہیں، "مارکیٹ میں قرآن کے تقریباً دو درجن انگریزی ترجمے دستیاب ہیں ، لیکن المیہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک ترجمہ بھی ایسا نہیں ہے جس کو قرآن کا درست ترجمہ کہا جاسکے" (ص 27)
کتاب نے ص 29 پر مولانا نے دعویٰ کیا ہے کہ "میرا اردو لٹریچر اسلام کی صحیح تعبیر کو سمجھنے کا واحد ذریعہ ہے"۔راقم اس بات سے اختلاف کرتا ہے۔ تاریخ اسلام نے بڑے بڑے محدثین دیکھے، مفکرین دیکھے، فقہاء دیکھے، مفسرین دیکھے، منطقی دیکھے، فلسفی دیکھے، لیکن کسی نے بھی یہ دعوی نہیں کیا۔ ثانیاً عقائد و دیگر موضوعات میں مولانا سے کچھ بڑی خطائیں سرزد ہوچکی ہیں جن پر علماء نے احسن طریقے سے رد فرمایا ہے۔مولانا نے بار بار اپنی اردو تالیفات کی مدح فرمائی ہے اور ان کتابوں کو سمجھنے کے لئے قارئین کو اردو زبان سیکھنے کی دعوت دی ہے۔ یہ چیز معیوب ہے۔عصر حاضر میں یہ دعویٰ شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے نہ کیا، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے نہ کیا، کسی نے نہ کیا لیکن مولانا کا یہ دعویٰ جیسے علم کو قید کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ الحاد کے خلاف مولانا کے کام کو ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں لیکن یہ دعویٰ فقط دعویٰ ہے ، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مولانا سمجھتے ہیں کہ داعی کے لئے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا استعمال ضروری ہے۔ جو کسی حد صحیح بھی ہے لیکن پھر سے اپنی ہی ویڈیو اور آڈیو تقاریر کو سننے کی دعوت دینا اس بات سے پردہ اٹھاتا ہوا نظر آتا ہے کہ مولانا نے دھبے الفاظ میں ہی عصر حاضر کے تمام علماء کو جاہل سمجھا ہے۔یہ بات قطعی طور پر غلط ہے۔ مولانا نے ابتداء تو وسیع ذہن سے کی لیکن بیچ میں آکر ہی کروٹ بدل دی۔ کتاب کے ص 38 پر مولانا نے اتحاد پر زور دیا اور اختلاف کی مذمت کی۔ اجتماعیت اختیار کرنے پر ایک روایت بھی نقل کی ہے۔ ص 39 پر مولانا اپنی ہی دعویٰ کو باطل قرار دے رہے ہیں جو دعویٰ مولانا نے اپنے لٹریچر کے بارے میں کیا تھا۔ فرماتے ہیں، "کسی آدمی کے لئے سب سے بڑی قربانی اپنی رائے کی قربانی ہے"۔مصنف نے اپنے ناقص دعویٰ کو دہراتے ہوئے اپنے مقلدین کو اپنے لٹریچر کا ترجمہ کرنے کی تلقین کی۔ حالانکہ انگریزی زبان میں سلف علماء کا لٹریچر بھی موجود ہے۔ محدثین کی خدمات بھی موجود ہے۔ راقم کی نظروں میں مولانا کو ایک بڑی ٹھوکر لگی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے تمام ملت بالخصوص اہل علم کو لاعلم قرار دیا۔ چونکہ مولانا فلسفی ذہن کے آدمی تھے،دیگر مذاہب کی کتابوں سے بھی آپ کافی متاثر نظر آتے ہیں۔بعض جگہوں پر تو موضوع روایات کو اپنی کتب میں شامل کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ خان صاحب محدثانہ مزاج نہیں رکھتے تھے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگرچہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ خان صاحب کی کتابوں میں کافی خیر بھی موجود ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک طالب علم جب تک اصول و قواعد کی معرفت حاصل نہ کرلے، خان صاحب کی کتابیں اسے دھوکا دے سکتی ہیں۔مولانا کے لٹریچر سے انکار حدیث کی بو بھی آتی ہے۔لہٰذا نہایت ہی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔نتیجہ یہی نکالا جاسکتا ہے کہ شخص پرستی کو چھوڑ کر شخص شناس بننا چاہئے۔تاکہ حق اور باطل خلط ملط نہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راہ پر گامزن رکھے۔ آمین
(مدرس:سلفیہ مسلم ہائر سکینڈری
پرے پورہ۔رابطہ:6005465614)