جموں و کشمیر میں اردو افسانے کو فروغ دینے میں جہاں مرد ادباء پیش پیش نظر آتے ہیں وہیں ان خواتین افسانہ نگاروں کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے نسوانی مسائل اور طبقہ نسواں کی نفسیاتی الجھنوں کو انتہائی سلیقے سے اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر میں خواتین افسانہ نگاروں کی تعداد قلیل رہی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کہیں یہ بنیادی حقوق سے محروم رہی تو کہیں نفسیاتی جدوجہد میں مصروفیت ۔ گونا گوں مسائل سے نبرد آزما ہونے کے باوجود یہاں کی خواتین افسانہ نگار ادبی منظر نامے کا حصہ بنی رہی اور اپنی ادبی حیثیت کو عالمی سطح پر منوانے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی جن خواتین کی بحیثیت افسانہ نگار ادبی دنیا میں پہچان بنی ،ان میں ایک قابل قدر نام زنفر کھوکھر کا ہے۔زنفر کھوکھر 19 دسمبر 1957 ء کانڈی گلوہتہ، مینڈھر ضلع پونچھ میں پیدا ہوئیں۔ والد کا نام محمد شفیع کھوکھر اور شریک حیات کا نام حنیف کھوکر ہے۔1970ء میں درس تدریس سے وابستہ ہوئیں اور 2017 ء میں سبکدوش ہوئیں۔مادری زبان پہاڑی ہے اور اسی زبان میں لکھی کہانیاں کلچرل اکادمی کے پہاڑی جریدے شیرازہ میں چھپ چکی ہیں۔ پہاڑی زبان میں ایک افسانوی مجموعہ چمچے (2021ء ) شائع ہوچکا ہے اور دوسرا " اس اک ہاں" زیر ترتیب ہے۔ پہلی کہانی اردو میں’ نصیحت ‘ ہے۔نصیحت راجوری کے ایک ادبی انجمن جس کے بنیاد گزار خورشید میر جانم تھے، کے زیر اہتمام شائع ہونے والی کتاب " تشکیل " میں شائع ہوئی۔اس کے دو سال بعد یعنی 1991 ء میں ہند سماچار میں’’ نسخہ ‘‘ کے عنوان سے کہانی چھپی جس نے قارئین کو متوجہ کیا۔آپ کے اب تک چار افسانوی مجموعے خوابوں کے اس پار ( 1999ء)، کانچ کی سلاخ ( 2003ء)، عبرت (2010ء) اور ہم سب ایک ہیں (2016ء)شائع ہوچکے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ ہر تخلیق کار اپنے ذاتی تجربات ، احساسات ، مشاہدات اور آس پاس رونما ہونے والے واقعات کو قارئین کے سامنے بہترانداز میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔تخلیق کار اگر دور دراز اور سرحد کے قریب رہتا ہو تو ظاہر ہے کہ سرحدی علاقے کے حالات ، فوج کا برتاؤ ، عوام کو تنگ کرنے کے حربے ، ایجنسیوں کا رویہ ، خفیہ کاروائیاں ، روز کی جھڑپیں ، گولیوں کا شور اور دھماکوں سے آتش زدگی اور آگ کی لپٹیں ، انسانوں کے چیتھڑے ہونا ، عمارات کا ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہونا، بے گناہ انسانوں کی جانوں کا زیاں،بے جا تلاشیاں ، مار پیٹ کرنا جیسے موضوعات شعوری یا لاشعوری طور پر ان کی تخلیقات میں در آئیں گے۔زنفر کھوکھر چونکہ سرحدی علاقے سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ان کے افسانوں میں بھی یہ سارے موضوعات دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہ کون تھا ، دہشت کا سماں، تین وارداتیں اور دھماکہ جیسے افسانے مثال کے طور پر پیش کئے جا سکتے ہیں۔’’تین وارداتیں میں گھریلو جھگڑے کو ملی ٹینسی کا روپ دے کر سرکاری مراعات کے چکر میں دو بھائی اپنی بھی جانیں گنواتے ہیں۔پہلی واردات میں دو بھائی مل کر اپنے سوتیلے بھائی کو جھگڑے کے دوران قتل کرتے ہیں،اپنا جرم ملی ٹنسی کے سر اور سرکاری مراعات کے طور ایک لاکھ کی لالچ میں اسے مخبر ثابت کرنے کے لیے درانتی سے اس کا گلہ کاٹتے ہیں۔دوسری واردات میں، لاش کو رات کے سناٹے میں ٹھکانے لگانے کی کوشش میں دونوں مارے جاتے ہیں اور صبح خبر پھیلتی ہے کہ تین دہشت پسند مارے گئے۔ تیسری واردات میں ، بے گناہوں کی ہلاکتوں پر نعرے بازی ہوتی ہے، لاٹھیاں اور گولیاں چلتی ہیں ، کچھ لوگ زخمی ہوتے ہیں اور ایک ہلاک ہوتا ہے‘‘۔اس افسانے میں گرد پیش کے حالات کو بہترین رنگ دیا گیا ہے۔زنفر کھوکھر نے اپنے افسانوں کے ذریعے زندگی کے متنوع رنگوں کی ترجمانی کی۔وہ طبقہ نسواں کے شب و روز ، نفسیاتی مسائل اور گھریلومعاملات کو افسانہ بنا کر جس عورت کو اپنے افسانوں میں پیش کرتی ہیں وہ باہمت ، ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والی ، کردار ساز اور تعمیری سوچ رکھنے والی ہے۔ایسی عورت مسائل کو دیکھ کر گھبراتی نہیں ، روتی بسورتی نہیں بلکہ بہادری کا مظاہرہ کرکے حالات کو بدلنے کی سعی کرتی ہے۔ان کے یہاں عورت شادی شدہ مرد کو ٹھکرانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔سیکنڈ ہینڈ کی راحلیہ کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔افسانہ سیکنڈ ہینڈ ثاقب کی کہانی ہے ،جس نے اپنے گھر والوں کے دباؤ میں آکر اپنی بیوی کو طلاق اس لیے دی کہ والدین پوتا پوتی سے کھیلنا چاہتے تھے۔بیوی سے علیحدگی کے بعد ثاقب ضدی ،چڑچڑا، جذباتی ہوگیا تھا۔اس کی زندگی یکسر بدل گئی تھی۔بات بات پر اُلجھ پڑتا، اپنی بات منوانے کے لیے لڑائی جھگڑا کرتا۔وہ تو بس’ ہاں‘ سننے کا عادی ہوچکا تھا۔اس نے گھڑی پاؤں سے صرف اس لیے لتاڑ دی کہ ساتھی نے گلہ کیا تھا کہ ٹائم غلط بتایا اور میں دس منٹ لیٹ ہوگیا۔داڑھی مونڈ کر مونچھیں اس لیے بڑھا دی کہ محلے کے مولوی صاحب داڑھی بڑھانے کا وعظ کرتے تھے۔بیوی کو طلاق دینے کے بعد ثاقب معمولی بات پر آگ بگولہ ہوجاتا اورناحق ہنس ہنس کر پاگل ساہوجاتا تھا۔چار ماہ بعد جب ثاقب راوی کے گھر آتا ہے تو اس کا موڈ خوشگوار تھا۔ثاقب نے رازداری کے انداز میں اپنے دوست سے کہا کہ میں ایک خاص مقصد سے یہاں آیا ہوں۔تمہاری بیوی کی مائیکے والی راحیلہ اور میں گزشتہ برس سے ایک ہی دفتر میں ساتھ کام کر رہے ہیں۔میں راحیلہ سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔تم راز داری سے اس سے بات کرو، وہ مان جائے گی۔کیا اسے اپنے چھوٹے قد اور چھوٹی ناک کا احساس نہیں ہے جو انکار کرے۔راوی راحیلہ سے اس بارے میں دو بار ملاقات کرنے کے بعد ایک روز ثاقب کو گھر آنا کا پیغام بھیجتا ہے اور وہ دوڑا چلا آتا ہے۔راوی نے اپنی بیوی صائمہ کو چائے کا بولا لیکن ثاقب بول پڑا چائے کو رہنے دو راحیلہ نے کیا کہا یہ بتاؤ۔ثاقب راحلیہ نے انکار کیا اور کہا کہ وہ ثاقب فول۔سیکنڈ ہینڈ مرد۔موضوع اور فنی لوازمات کے لحاظ سے سیکنڈ ہینڈ ایک بہترین افسانہ ہے۔جس میں اس مرد کی نفیسات کو بیان کیا گیا ہے جو اپنی بیوی سے علیحدہ ہوتا ہے۔ اختتام دلچسپ بھی ہے اور تجسس سے پُر بھی۔زبان و بیان ، کردار نگاری ،منظر نگاری اور جملوں کی ساخت بھی قابل داد ہے۔زنفر کھوکھر کے افسانوں کے موضوعات کی کائنات وسیع ہے ۔یہاں شہوت پرست باپ کی کہانی ، ذات پات سے شادی میں رکاوٹوں کی داستان ، شادی شدہ سے پیار کا قصہ ، شادی شدہ مرد کو ٹھکرانے کا حوصلہ ، بہو کو بانجھ ہونے کے سبب گھر سے نکال باہر کرنا، ساس بہو کے جھگڑے ، لڑکی کو فریب دے کر گونگے بہرے کی دلہن بنانا، عورتوں کی بے بسی اور لاچاری جیسے موضوعات کو افسانوں کے قالب میں ڈھالا گیا ہے ۔ان کا مشاہدہ وسیع ہے اور موضوعات میں تنوع۔جہاں مزاحیہ افسانوں میں ان کا قلم روانی سے چلتا ہے اور مزاح بکھیرتا ہے وہیں سنجیدہ افسانوں میں واقعات اور واردات کو ثقاہت اور سنجیدگی سے لکھتی ہیں۔بچوں کی لالچ اور خود غرضی کو دیکھ کر ماں اپنی دولت کو غریبوں میں بانٹنے کا قصہ ہو یا ماں کے لاڈ پیار کی بدولت اولاد کا بگڑنا، ماں باپ کے ڈر سے بیٹے کا محبوبہ کو چھوڑ کر دوسری لڑکی سے شادی کرنا ہو یا سیاسی ،سماجی حالات، دہشت گردی ہو یا بربریت ،مذہب ہو یا رسوم ان کے یہاں موضوعات میں رنگا رنگی دیکھنے کو ملتی ہے۔ بقول آنند لہر :’’زنفر کھوکھر کے افسانوں کے متنوع موضوعات میں "عورت" کو مرکزی مقام حاصل ہے جہاں وہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر تو ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان حوادث کا شکار بھی ہے جو مردوں کے اس سماج میں جابجا وقوع پذیر ہورہے ہیں۔زنفر کھوکھر نے اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ عورت محض شوپیس نہیں بلکہ عورت کا وجود ایسا درپن ہے جس میں یہ بے حس سماج اپنی کھوکھلی رنگا رنگی کے ساتھ ساتھ اپنی بے رنگی کا نظارہ بھی کر سکتا ہے۔جموں و کشمیر کی سیاسی اور سماجی بحران کو بھی زنفر کھوکھر نے اپنی افسانوی کائنات میں نمایاں جگہ دی ہے اور سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کے دگرگوں حالات کا نقشہ بڑی مہارت کے ساتھ کاغذ پر اتارا ہے۔ایک طرف دہشت گردی ، دوسری طرف سرکاری ایجنسیوں کا آہنی شکنجہ اور تیسری طرف بے گناہ ،بے قصور اور سادہ لوح عوام کی مجبوریاں اور لاچاریاں۔ان تینوں کیفیات کا کھلا مظاہرہ زنفر کھوکھر کے افسانوں کا نمایاں وصف ہے۔‘‘ آپ کے افسانے شاعر (ممبئی)، تریاق (ممبئی)، شگوفہ (حیدر آباد) ، پرواز ادب( پنچاب) ، کسوٹی (پٹنہ) ، نگینہ (کشمیر )جیسے معیاری رسائل و جرائد میں اہتمام سے شائع ہوتے ہیں۔ ادبی خدمات کے صلے میں آپ کو اردو فاؤنڈیشن ممبئی نے تریاق ایوارڈ سے نوازا اور برائے افسانہ نگاری سند امتیاز پیش کی، ہمالین ایجوکیشن مشن نے افسانہ نگاری کے اعتراف میں گولڈ میڈل دیا اور فروغ اردو ماسٹر عبد العزیز وانی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ابھی لکھ رہی ہیں اور امید ہے کہ اپنے قلم سے مزید فن پاروں کو وجود بخشیں گی۔
(رابطہ :-8493981240)