اگر ہم اپنے معاشرے کے کسی فرد کو کوئی سُکھ نہیں پہنچا سکتے تو دُکھ دینے کا حق بھی تو نہیں ہے۔اس لئےاگر ہم سماج میں کسی کو انصاف دلانے کی بات نا ہی کریں تو شاید گناہ نہیں بلکہ بہتر ہوگا ۔ کیونکہ مادیت اور دکھاوے کے اس دور میںمعاشرے کے زیادہ تر لوگ اب اچھے اور بُرے،جائز اور ناجائز میں تمیز کرنا ہی بھول گئے ہیں۔
ایک طرف ہم کسی پر ہونے والے ظلم کے خلاف سڑکوں پر انصاف دلانےکے نعرے بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری طرف اپنے مفاد ،اور شہرت کے حصول کے لئے مظلوم فرد Victim کی آنے والی زندگی کو مزید ابتر اور جہنم ِزاربنا نے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتےہیں کر رکھ دیتے ہیں۔انٹرنیٹ Internet اور سوشل میڈیا Social Media پر اُس مظلوم شخص کی تصویریں شائع کرکے ہم اُس پر ایک اور ظلم کرتے رہتےہیں جس میں کسی قسم کی کوئی ہمدردی، کوئی خلوص نہیں ہوتا، محض دکھاوا ہوتا ہے،کیونکہ ہم لوگ مادہ پرستی اور دکھاوے کے دلدل میں پھنس چکے ہیں۔
ہمارے سماج میں گندگی اتنی پھیل چکی ہے کہ دھیرے دھیرے ہر شخص اس ماحول کے ساتھ جینے کاعادی ہوگیا ہے۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ مظلوم اور متاثرہ فرد کی تصویر شائع کرنے سے اُس کی آنے والی زندگی میں مزید کتنے مشکلات و مصائب پیدا ہو سکتے ہیں۔ خاص کر تب جب وہ اُس سماج کی بیٹی ہوگی، جس سماج میں انہیں مختلف طریقوں کے تشدد،زیادتیوںکا شکار بناکراُن کی زندگیاں اجیرن بناتے ہیں اور اُنہیں خوکشی کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔تو بھلا بتایئے _ پھر یہ سماج اُس بیٹی یا اُس بہن کو کیسے جینے دے گا ،جس کے چہرے پر آپ نے تیزاب پھینک کر پہلے سے ہی ایک بدنما داغ لگایا ہو۔اُس مظلوم کے والدین کو آپ ایسے انٹرنیٹ پر ذلیل نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہرمشکل گھڑی اور تکلیف دہ معاملے کا سامنا اُنہیں کو کرنا ہے۔ مجھے اور آپ کو نہیں!لہٰذا کسی کے ساتھ ہمدردی اس طرح کرنی چاہیے تاکہ اُس کو سہولت اور سہارا مل جائے نہ کہ انصاف اور حق کی باتوں کی آڑ میں اُس کے زخموں پر نمک چھڑکیںاور انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی زینت بناکر اُس کی تذلیل کروائیں۔
(ماگام بڈگام)