کرناٹک کے ساحلی قصبے اوڈوپی کے ایک کالج سے اُٹھنے والے حجاب تنازعے کو محض ایک وقتی مظہر کہہ کر نہیں ٹالا جا سکتا۔ یا اس تنازعے کو صرف مسلم طالبات کے حجاب پر پابندی تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سازش کی جڑیں بہت گہرائی تک پیوست ہیں اور یہ اُسی اسلاموفوبیا کا ایک حصہ ہے جو عالمی سطح پر دیکھا جا رہا ہے۔ کئی یوروپی ملکوں میں حجاب پر پابندی کا مقصد محض تعلیمی اداروں میں یکسانیت یا یونیفارمٹی لانے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے شرارِ بو لہبی والی وہ ذہنیت کارفرما ہے جو ازل سے تا امروز ستیزہ کار ہے۔ اسلاموفوبیا میں مبتلا عناصر خواہ وہ کسی ترقی یافتہ یوروپی ملک میں ہوں یا کرناٹک کے چھوٹے سے ساحلی قصبے میں ،ان سب کی سوچ یکساں ہے۔ یعنی وہ مسلم یا اسلامی شناخت کے اظہار کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں جہاں مسلمان اپنی شناخت کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہاں وہاں ان کے خلاف ماحول سازی کی جاتی ہے اور انھیں حاشیہ پر دھکیلنے کی کوشش تیز ہو جاتی ہے۔ کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں گزشتہ کچھ برسوں سے مسلم شناخت کے اظہار کا رجحان بڑھا ہے۔ وہاں کے بہت سے مسلمان خلیجی ملکوں میں برسرروزگار ہیں ،جس کی وجہ سے ان کی زندگی میں خوشحالی آئی ہے اور دین سے ان کی رغبت بھی بڑھی ہے۔ ذرائع کے مطابق پچھلے چند برسوں میں وہاں مسلم خواتین کے برقع پہننے یا اسکارف باندھنے کا چلن بھی کافی بڑھا ہے۔ یہاں تک کہ بنگلور وغیرہ کے میڈیکل کالجوں میں بھی مسلم خواتین برقعے میں جاتی ہیں اور کئی کالجوں میں وہ نماز بھی ادا کرتی ہیں۔ مسلم خواتین مالزمیں بھی برقعے میں دکھائی دیتی ہیں اور ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور بازاروں میں بھی۔ مسلم لڑکیاں اسکوٹی سے فراٹے بھرتے ہوئے بھی نظر آجاتی ہیں۔ لہٰذا منافرتی طاقتیں اس صورت حال کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ ایک عرصے سے ایسا کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرنے میں مصروف تھیں جو مسلمانوں کے خلاف ماحول بنانے میں معاون ہو۔ لہٰذا اوڈوپی میں اس کا تجربہ کیا گیا۔ باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ کرناٹک کے بعض مقامات پر پہلے بھی حجاب کا تنازع اٹھتا رہا ہے لیکن کالج انتظامیہ اسے گفت و شنید کے ذریعے حل کر لیا کرتی تھی۔ لیکن جب سے ہندوتو اکی طاقتوں کو عروج حاصل ہوا ہے، کالج انتظامیہ کو بھی اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وہاں کالج انتظامیہ میں جن لوگوں کو شامل کیا جاتا ہے، وہ سیاسی پس منظر رکھتے ہیں۔ اب منافر نظریات کے حامل افراد کو وہاں زیادہ جگہ ملنے لگی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اوڈوپی کے مذکورہ کالج کے پرنسپل کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ حجاب پر پابندی لگا دیں۔ انہوں نے وہی کیا اور پھر ایک تنازعے نے جنم لے لیا۔
جب یہ معاملہ بڑھنے لگا تو اس میں منافر تنظیموں کی طلبہ شاخیں بھی کود پڑی ہیں۔ ان کو لگا کہ ایسے وقت میں جبکہ ریاست کی موجودہ سرکار کافی نامقبول ہو رہی ہے اور اس کے تئیں عوام میں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے اور اگر یہی صورت حال رہی تو آئندہ سال مارچ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ان کی سرکار نہیں بننے والی ہے، تو انہوں نے حجاب تنازع پیدا کر دیا ہے۔ ایسی بھی خبریں سُننے میںآرہی ہیں کہ بنگلور کی کسی فیکٹری میں لاکھوں کی تعداد میں بھگوا رومال تیار کیے گئے جو ہندو طلبہ میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ اس میں کتنی صداقت ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔یہ بھی خبر آرہی ہے کہ اس کے جواب میں کیرالہ سے سرگرم ایک مسلم جماعت بھی سامنے آگئی اور اس کی طلبہ شاخ کے نمائندے مسلم طالبات کی حمایت میں پیش پیش نظر آنے لگے۔ اگر موجودہ بر سرِ اقتدار پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات سنیں تو ان کا کہنا ہے کہ کیرالہ میں مسلم فرقہ واریت بہت زیادہ بڑھ رہی ہے اور وہی فرقہ واریت کرناٹک میں بھی اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن وہ منافر تنظیموں کی سرگرمیوں اور ان کی جانب سے غیر مسلم طلبہ کی پشت پناہی یا انہییں اُکسانے اور مسلم شناخت کے خلاف ماحول بنانے کو فرقہ واریت نہیں کہتے۔ اگر مسلم شناخت کو نمایاں کرنا مسلم فرقہ واریت ہے تو اس کے خلاف محاذ بنانا یا ہندو شناخت کو تھوپنے کی کوشش کرنا فرقہ واریت کیوں نہیں ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کی جانب سے اپنی تہذیب و ثقافت کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ صرف یہ کوشش کی جاتی ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ زندہ رہیں۔ جبکہ منافر عناصر کی جانب سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ہندو تہذیب و ثقافت کو بزور طاقت تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بہرحال یہ تنازع پہلے رفتہ رفتہ کرناٹک کے دوسرے تعلیمی اداروں میں پہنچا اور پھر دوسری ریاستوں میں بھی پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی چھا گیا۔ حجاب پر پابندی کو جہاں ایک طرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے وہیں اسے انسانی حقوق کی خلاف روزی بھی بتایا جا رہا ہے۔ اس بارے میں حکمراں جماعت کی جانب سے منافقانہ باتیں کی جا رہی ہیں۔ ایک طرف یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی جی یہ کہتے ہیں کہ یہ ملک آئین سے چلے گا ،شریعت سے نہیں اور دوسری طرف ان کی حکومت ہو یا مرکزی، دونوں نے آئین کو طاق پر رکھ دیا ہے اور ملک کو منافر تنظیموں کے نظریات یا شدت پسند ہندوؤں کی پسند کے مطابق چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک مذہب کے پیروؤں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے اور دوسروں کی مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔ مذہبی آزادی پر نظر کھنے والے بین الاقوامی اداروں نے ہندوستان میں کم ہوتی مذہبی آزادی پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ حالانکہ حکومت ہند ایسی تشویشوں کو مسترد کرتی آئی ہے۔ اس نے ابھی حال ہی میں مذہبی آزادی سے متعلق ایک امریکی ادارے کی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔
اب چند باتیں ان لوگوں سے جو حجاب پر پابندی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور سڑکوں پر اُترے ہوئے ہیں۔ اس سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ اپنے حقوق کے لیے لڑنا زندہ قوموں کی نشانی ہے اور حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج اور مظاہرے لائق ستائش ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جو بھی مظاہرہ ہو وہ پُرامن ہو۔ اس میں ایسی کوئی بات نہ کہی جائے جو اشتعال انگیزی کے ذیل میں آجائے یا جس کی بنیاد پر مسلم مخالف قوتوں کو متحد ہونے کا موقع مل جائے۔ جذباتی اور پرجوش نوجوانوں کے لیے یہ بات بڑی پُرکشش ہے کہ ایک دن کوئی باحجاب خاتون ہندوستان کی وزیر اعظم بنے گی۔ لیکن کیا واقعی ایسا ممکن ہے۔ کیا ہندوستان میں عملاً اس کی گنجائش ہے۔ اسی طرح علیگڑھ سے ایک خبر نظر آئی جس میں ایک مسلم خاتون سیاست داں فرما رہی ہیں کہ حجاب کی طرف جو ہاتھ بڑھے گا ،ہم وہ ہاتھ قلم کر دیں گے۔ کیا ایسے بیانات مسلم مخالف قوتوں کو متحد کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ وہ تو شکر ہے کہ کسانوں اور مسلمانوں کے اتحاد اور یوپی میں یوگی حکومت کے خلاف زبردست ناراضگی اور ہندوؤں کے بڑے حلقے کی جانب سے فرقہ واریت کے جال میں پھنسنے سے انکار کی وجہ سے مذہب کے نام پر عوام کو بانٹنے اور انتخابی فائدہ اٹھانے کا ماحول نہیں بن رہا ہے۔ ورنہ ایسے بیانات ہوں یا ڈومریا گنج کے بی جے پی امیدوار کا یہ بیان ہو کہ اگر وہ دوبارہ کامیاب ہوئے تو مسلمان گول ٹوپی لگانا ترک کرکے پیشانی پر تلک لگانا شروع کر دیں گے، فرقہ واریت کی آگ لگانے کے لیے کافی تھے۔ یہ محض بیانات نہیں ہیں بلکہ پیٹرول میں ڈوبے ہوئے فلیتے ہیں جو معمولی سی چنگاری کو شعلۂ جوالہ بنا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر چہ فسطائی قوتیں اپنے کھیل میں تادم تحریر کامیاب نہیں ہیں لیکن ابھی تو یوپی میں محض دو مرحلوں کی پولنگ ہوئی ہے ابھی تو پانچ مرحلوں کی پولنگ باقی ہے اور کب کون سا بیان خرمن امن کو خاکستر کردے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اس لیے حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو بڑی دانشمندی سے کام لینا ہوگا۔ میں نے پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی کہہ رہا ہوں کہ مسلمانوں کو کسانوں کے احتجاج سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک سال تک دھرنا دیا لیکن ہاتھ قلم کرنے جیسا ایک بھی بیان سامنے نہیں آیا تھا۔ کیا مسلمان اس سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار ہیں۔