جدت سے بھر پور اس دور میں ماہرین حیران کن چیزیں تیار کررہے ہیں ،اس سلسلے میں کورنیل یو نیورسٹی کے سائنس دانوں نے ویڈیو کیمرے پر مبنی ایک سسٹم تیار کیا ہے جو مکمل طور پر ہینڈ زفری ہے۔ اس کا نام ’’اسپی چن رکھا گیا ہے جو در حقیقت ایک انفرا ریڈ کیمرا ہے۔ اس کیمرے کو گلے میں باآسانی پہنا جاسکتا ہے۔
یہ سینے کے اوپری حصے پر رہتے ہوئے ٹھوڑی اور اس کے نیچے کے عضلات کی حرکات کو نوٹ کرتا رہتا ہے۔ اب بولنے والا خواہ سرگوشی کرے یا پھر صرف ہونٹ ہلائے تب بھی وہ اسے محسوس کرلیتا ہے۔ ٹھوڑی اور گلے کی حرکات کو پہلے ایک سافٹ ویئر دیکھتا ہے اور الگورتھم بتاتا ہے کہ خاموشی سے کیا الفاظ بولے گئے ہیں۔ اس کے بعد یہ ہدایات وہاں بھیجی جاسکتی ہیں جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم اس سسٹم پر بولنے والے کو کچھ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلے مرحلے میں اسے 20 افراد پرآزمایا گیا۔ ان میں سے دس افراد کو انگریزی میں گنتی یا سادہ الفاظ بولنے کو کہا گیا۔ بقیہ دس افراد کو چینی زبان میں 44 سادہ الفاظ کہنے کا کہا گیا۔ کچھ تربیت کے بعد کیمرا انگریزی کے 90 فی صد اور چینی زبان کے 91 فی صد الفاظ بہت اچھی طرح پہچاننے لگ گیا۔
ادھرامریکی سائنسدانوں نے فوم جیسا ہلکا پھلکا مادّہ (ہائیڈروجل) ایجاد کیا ہے جو خشک ہوا سے پانی نچوڑ سکتا ہے۔ابتدائی تجربات میں اس ہائیڈروجل نے صرف 30 فیصد نمی والی ہوا سے ایک دن میں 5.87 لیٹر فی کلوگرام کی شرح سے پانی جذب کیا۔ایسے بیشتر مادّے ہوا سے آبی بخارات جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں لیکن وہ بہت محدود ہوتی ہے، جس کی بناء پر انہیں ہوا سے پانی کی مناسب مقدار جذب کرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹن کے سائنسدانوں نے اس مسئلے کا حل ’’زویٹرآیونک‘‘ پولیمر ہائیڈروجل کی صورت میں تلاش کیا ہے جو نہ صرف بہت کم نمی والی ہوا سے آبی بخارات جذب کرسکتے ہیں بلکہ اس میں انہیں خاصا کم وقت لگتا ہے۔زویٹرآیونک وہ سالمے (مالیکیولز) ہوتے ہیں جن کے ایک حصے میں مثبت چارج جب کہ دوسرے حصے میں منفی چارج والے ایٹم ہوتے ہیں۔ اسی خاصیت کی وجہ سے ان میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت بھی زبردست ہوتی ہے۔ویسے تو ’’ہائیگرو اسکوپک‘‘ قسم کے نمکیات میں بھی یہی خاصیت ہوتی ہے اور وہ بھی ہوا سے براہِ راست پانی جذب کرسکتے ہیں لیکن انہیں ہائیڈروجل کا حصہ بنانا مشکل کام ہے۔ہائیگرو اسکوپک نمک کو ہائیڈروجل میں جمع کرنے کےلیے ماہرین نے زویٹرآیونک پولیمرز (مالیکیولز کی لمبی لمبی زنجیریں) تیار کیں۔اس پولیمر کی مدد سے ہائیڈروجل تیار کرتے وقت جب ہائیگرو اسکوپک کو نمک شامل کیا گیا تو وہ پختگی کے ساتھ ہائیڈروجل کا حصہ بن گیا۔ابتدائی تجربات میں اس ہائیڈروجل نے صرف 30 فی صد نمی والی ہوا سے ایک دن میں 5.87 لیٹر پانی جذب کیا۔ اس ہائیڈروجل کی کارکردگی کو مزید بہتر کرنے کے بعد یہ نظام خشک، دور افتادہ اور پسماندہ مقامات پر پانی کے کم خرچ حصول میں استعمال کیا جاسکے گا۔
دریں اثنابرطانیہ کی ایسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ مارٹن اور ساتھیوں نے بیکٹیریا کش لبا س،پیٹیوں اور دیگر سر جیکل آلات سے 100 گنا طاقتور اینٹی بیکٹیرئیل شیشہ تیار کیا ہے ۔یہ بایو ایکٹوو شیشہ ہے ،جس میں کو بالٹ ،جست اور تانبے کے آکسائید ز پر مبنی نینو ذرّات الگ الگ یا ایک ساتھ بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تجرباتی طور پر تمام دھاتی آکسائیڈز کو پیس کر باریک ذرّات میں ڈھالا گیا اور انہیں 24 گھنٹوں کے لئے ای کولائی، اسٹیفیلوکوکس اوریئس اور کینڈیڈا ایبی کانس نامی فنگس پر ڈالا گیا تو یہ مجموعہ تمام اقسام کے بیکٹیریا کش ادویہ اور ایجادات سے بھی سو فی صد مؤثر ثابت ہوا۔اس نے بہت تیزی سے بیکٹیریا اور جراثیم کے مجموعے کو تباہ کردیا۔اگلے مرحلے میں دھاتی آکسائیڈز کے نینوذرّات کو جب شیشے میں ملایا گا تو اس کی سطح بیکٹیریا اور جراثیم کش بن گئی۔ اس اہم اختراع کے بعد اب طبی آلات، ہسپتالوں اور تجربہ گاہوں کے شیشوں، برتنوں اور دیگر اشیا کو جراثیم اور بیکٹیریا کش بنانے میں مدد مل سکے گی۔