حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسکرا رہے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی چیز ہنسی کا سبب ہوئی ۔فرمایا: میرے دو اُمتی اللہ کے سامنے گٹھنے ٹیک کر کھڑے ہوگئے ہیں ،ایک اللہ سے کہتا ہے کہ یا رب اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے ، میں بدلہ چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اُ س سے فرماتے ہیں کہ اپنے ظلم کا بدلہ ادا کرو ۔ ظالم جواب دیتا ہے یا رب میری کوئی نیکی باقی نہیں رہی کہ ظلم کے بدلے میں اُسے دے دوں، تو وہ مظلوم کہتا ہے کہ اے اللہ! میرے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دے ۔ یہ کہتے ہوئے حضور آبدیدہ ہوگئے اور فرمانے لگے کہ وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا ۔( تفسیر ابن کثیر جلد دوم صفحہ 269 )
عورت ذات کو اللہ تعالی نے اْسی طرح تخليق کیا، جیسے مرد ذات کو پیدا کیا ۔ مقصود پیدائش کی حیثیت سے دونوں کے مابین کوئی فرق نہیں ۔ کچھ فطری تفریق جو مردکے مقابلہ میں عورت میں پائی جاتی ہے، جس کی بنا پر صنف نازک کہلاتی ہے ۔کوئی درندہ صفت بے غیرت و بے مقصود انسان نے اسی صنف نازک کو اپنی ہوس کا شکار بناتا ہے اور معصوم کی زندگی کو ویران کرجاتا ہے ۔عام قائدہ کے مطابق اُس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن مذمت کے جتنے بھی لغت کے الفاظ موجود ہیں، سب کو اپنے خوش اسلوبی کے ساتھ ایک مذمتی بیان میں زور و شور سے استعمال کئے جائیں تب بھی ظلم روکنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ کرنےکا اصل کام یہ ہے کہ اس کا سدباب معلوم کرکے ،قوا انفسکم و اھلیکم نارا۔ کے بنیادی اصول پر کام کیا جائے اور اس اصول کو قیامت تک جاری و ساری رہنا ہے۔ وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں مختلف قسم کے ذریات پیدا کئے، جس میں ایک ذریت بنی نوع انسان کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بہترین پیدائش کی حیثیت سے ہمیں باشعور باوقار مخلوق بنا کر اس وسیع دنیا میں امتحان کے لئے بیجا ہے ۔ اس امتحان کی دنیا میں ایسے غیر فطری غیر شرعی واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، جو سراسر ہمارے انٹرسٹ کے خلاف ہوتے ہیں اور کچھ چیزیں ہمارے انٹرسٹ کے مطابق ہوتی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو wright and wrong کے اصول پر بنایا ئے ،کون سیدھی راہ چلتا ہے کون بھٹکتی ہوئی راہ ۔ اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی واقف ہےکہ بنی نوع انسان اگر چہ صحیح اور غلط کی تفریق جانتا ہے ، لیکن صحیح اور غلط کے مابین ایک شبہات کا پردہ حائل رہتا ہے جس کی وجہ سے ایک انسان وقت پر wright and wrong کی تمیز نہیں کرپاتا ہے۔ چیزوں کے درمیان ایک دریافتی پہلو ہے، اس کے بین elements of doubt کا انثر موجود ہوتا ہے جو ہمیشہ دو چیزوں میں حائل رہتا ہے۔ ایک حدیث بخاری شریف میں کتاب الایمان میں یوں آیا ہے کہ ۔ الحلال بین والحرام بین و بینھما مشبھات لا یعلمھا کثیر من الناس ۔ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات کا عنصر doubt موجود رہتا ہے ۔
اللہ کے رسول اکثر اپنی نمازوں میں یہ دعا پڑھتے تھے.. اللھم ارنا الحق ھقًا و ارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا و ارزقنا اجتنابہ و ارنا الأشياء کما ھی ۔اے اللہ تو ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا اور ہمیں اس کی پیروی کی توفیق دے اور ہمیں باطل کو باطل کے روپ میں دکھا اور ہمیں اس سے بچنے کی توفیق دے اور اے اللہ تو ہمیں چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔دنیا بھر میں انفرادی و اجتماعی سطح پر ظلم کی انتہا ہے۔ ظالم عام طور پر اس بات کا گمان کرتا ہے کہ مظلوم ظلم کا بدلہ لینے سے قاصر رہے گا ،کتاب و سنت کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کسی پرذرہ برابر ظلم نہیں کرتا اور نہ ہی ظلم کو پسند فرماتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ظالم قیامت کے دن اندھیرے میں ہوں گے ۔
(رابطہ ۔ 9906736886 )