جموں وکشمیر میں لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ نے بظاہرہر محکمہ پر اپنا ردبدبہ قائم کرتے ہوے عوام کی فلاح وبہبود ،ترقی اور خوش حالی کے لئے متحرک کیاہواہے۔ لیکن زمینی سطح پر زیادہ تر محکموںکی کارکردگی میں کوئی بہتری نظر نہیں آرہی ہے۔محکمہ صحت عامہ کے لئےپینے کے پانی کا محکمہ جسےاب’’ جل شکتی‘‘ کا نام دیکر عوام میں متعارف کروایاگیاہے۔اس محکمہ میں اگر کوئی تبدیلی آئی ہے توو ہ محض اس کا بدلا ہوا نام ہے۔ کام کے میدان میں ابھی تک اس میں کوئی بدلائو نہیں آیا ہے، صارفین کے تئیں ایک اور مصیبت کھڑی کرکے’’ جل شکتی محکمہ ‘‘نےاپنی ایک نئی منطق بناڈالی ہے۔جس کے تحت لوگوں کو جل(پانی) میسرہو یا نہ ہو،صارفین کو جَل ملے یا نہ ملےلیکن اُن کو جَل کےبِل ضرورملیںگے۔ جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں ماہ فروری میں اس ’’محکمہ جَل شکتی‘‘ نے’’محکمہ خوارک ‘‘کوبھی یرغمال ہی بنا کے رکھا اور تمام راشن کارڈہولڈروں سے’ پانی کنکشن ‘کےکاغذات پیش کرنے پر راضی کرلیاتھااور اسِسٹنٹ ڈائریکٹر خوراک سے حکم نامہ جاری کرواکر تمام تحصیل سپلائی افیسران کو بھیج دیاگیاتھا،جنہوں نے تمام راشن ڈیلروں اور سیل مینوں کو یہ ہدایت جاری کردی کہ جو صارف پانی کنکشن کی ’این او سی‘ جمع کروائے گا،اُسی کو راشن دیا جائے گا۔جوکہ دیہی علاقوں کےغریب عوام پر ایک اور مصیبت ثابت ہواتھا۔ تحصیل منڈی کے بلاک لوؔرن میں کھڑپہ سیل ڈیپو پر سیلز مین نے لوگوں سے این او سی طلب کی اورواضح کردیاکہ پانی کی’ این او سی‘ جمع کرنے کے بعد ہی راشن دیا جائے گا۔پریشان حال لوگوں کو خالی ہاتھ گھروں کو واپس لوٹنا پڑا۔چنانچہ جب یہ بات ضلع اور پھر ضلع سے ڈائریکٹر خوارک تک پہونچی تو انہوں نے اپنے فیصلے کو مسترد کرنے کا من بنالیا۔کیوں کہ راشن کا جو کوٹاان لوگوں کے لئے ماہوار آتا ہے۔اُسےوہ لوگوں میں تقسیم کرنےسے روک نہیں پاتے، محکمہ خوارک کے اس فیصلے سے غریب عوام کو راحت ملی۔اور صارفین کو پھرسے راشن ملنا شروع ہوگیا،تاہم پھر بھی محکمہ’’ جل شکتی‘‘ عوام کا پیچھا نہیں چھوڑ رہاہے۔
منڈی تحصیل کے بلاک لورن میں بھی محکمہ جل شکتی کے ملازم متحرک ہیں اور لوگوں سے جی آرکٹوا کر پانی کے بل کٹوانے پر زوردے رہے ہیں۔اس سلسلہ میں حلقہ لورن کے سرپنچ کامران بشیر نے کہاکہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ اب پانی کے بلوں کو کٹوانے کے لئے راشن بھی بند کیاجاتاہے۔محکمہ پی ایچ ای نے ابھی ایک پائپ تک نہیں دی ہے۔لوگوں کو دور دور سے پینے کا پانی لانا پڑتا ہے۔بعض لوگوں نے ربڑ کی پائپیں خرید کر اپنے گھروں تک پانی کی فراہمی حاصل کرلی ہے،سرکاری پائپیں اگر کہیں موجودہیں بھی،جو 1980سے قبل بچھائی گئی ہیں،پانی کی سپلائی کے لئے بالکل بیکار ہوچکی ہیں۔اگرچہ کئی بار محکمہ’’ جل شکتی‘‘ ملازمین، افیسران، سُپر وائزر،جونیر انجینئر، ایکزیکٹیو انجینیر وغیرہ تک کو ان کی بابت متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی اور نئی پائپیں بچھانے کی اپیلیں کی گئیںلیکن متعلقہ محکمہ آج تک کو ٹس سے مس نہیں ہوسکا ہےاور غریب عوام پر طرح طرح کے حربے استعمال کرکے پانی کے بل کاٹنے پر مجبور کیاجارہاہے۔
حاجی خادم حسین سابقہ سرپنچ جن کی عمر 65سال سے زاید ہے،نے کہاکہ اس وقت محکمہ جل شکتی ناحق غریب عوام پر ظلم ڈھارہی ہے۔ جبکہ یہاں گزشتہ کئی برسوںسے لوگ محکمہ کی ناقص کارکردگی سے تنگ آکر اپنی ذاتی پائیپیں خرید کر پانی گھروں تک لانے پر مجبور کردیئے گئے ہیں اور ابھی بھی اکثریت ایسے گھروں کی ہے،جنہیںدودو تین تین میل سے پینے کاپانی چشموں سے لانا پڑتا ہے۔ ان گھرانوں میں نہانے ، کپڑے دھونے یہاں تک کہ پینے کے لئے پانی مہیا نہیں ہوتاہے۔لورن کے سراں علاقہ کا ذکرکرتے ہوے کہاکہ ابھی تک یہاں پانی کی لائین کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہے۔اس لئے انصاف کا تقاضا ہےکہ لیفٹننٹ گورنر صاحب اس حکم نامے پر نظر ثانی کرے۔لال دین جن کی عمر 63سال ہے، ان کا کہناہےکہ لوگ پانی کو ترس رہے ہیںاور محکمہ جل شکتی بلوں کے پیچھے پڑاہواہے۔دیگر کئی ترقیاتی کاموں کو چھوڑ کر پانی کی قلت کو دیکھتے ہوئے پنچایت فنڈ کو پائیپوں کے لئے مختص کیاگیاہے مگر اب تک وہ پائیپیں بھی محکمہ نہیں دے سکاہے۔ اب جو بلوں کی بات ہورہی ہے تویہ قابل مذمت ہے۔لورؔن ہی نہیں بلکہ ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے ہر گاوںاور ہر محلہ سے یہ آواز آرہی ہے کہ محکمہ کی طرف سے نصف صدی قبل بچھائی گئی پانی کی پائپیںبوسیدہ ہوچکی ہیں۔لائینوں کی اس قدر خستہ حالت ہے کہ محکمہ کے فیلڈملازم بھی پریشان ہیں۔
35برس کےتنویر احمد تانترے نے تشویش ظاہر کرتے ہوے کہاکہ اس وقت محکمہ جل شکتی کی لائینوں کی حالت انتہائی نا گفتہ بہ ہے۔ بوسیدہ اور گندے کپڑے،موم جامے، پلاسٹک لفافے پائپوں کی ایک ایک فُٹ پر باندھ دئے گئے ہیں۔ محکمہ جل شکتی کے ملازمین کو ایک رسی بھی نہیں دی جارہی ہے۔ ندی نالوں کی مٹی کیچڑ اور گند ا و غلیظ پانی پائیپوں میں بھرا ہواہے۔ لوگ پریشان ہیں لیکن محکمہ کے اعلی آفیسران ان باتوں کو بالائے طاق رکھ کراپنے ماتحتوں اور دوسرے چھوٹے ملازمین عوام پر اپنا دبائوبنائے ہوئے ہیں،جو قابل تنقید ہے۔ سرپنچ اسلم ملک کے مطابق اُسےسرپنچ بنے ہوئےتین سال ہوچکے ہیں۔لیکن آج تک محکمہ جل شکتی نے ایک ساکٹ تک نہیں فراہم نہیں کیا ہےاور آج یہ پانی کے بل کاٹنے کی مہم چلارہے ہیں۔انہوں نے کہا،جب تک پائیپوں کی حالت بہتر نہیں ہوتی،تب تک کسی بھی فرد کا پنچائیت میں بل کاٹنے نہیں دیاجائےگا۔ سابقہ ایم ایل اے حویلی شاہ محمد تانترے کے مطابق دہلی میں پانی تو مفت مل سکتا ہے۔مگر جموں وکشمیر میں بغیر پانی دِیے ہی بل کاٹے جارہے ہیں۔وہ بھی دیہی علاقوں میں جہاں 80فیصدی لوگ مزدوری پیشہ سے منسلک ہیں جبکہ اس موسم میں محکمہ جل شکتی کا یہ قدم نامناسب اور قابل مذمت ہے کیوں کہ اب ضلع پونچھ کے تمام دیہی علاقوں کے مزدور پیشہ افراد بیرون ریاست ہوتے ہیں۔ ایسے میں زیادہ تر خواتین ہی گھروں میں ہوتی ہیں۔انہوں نے لیفٹنٹ گورنر کے متعدد اچھے کام گنوانے کے بعد محکمہ جل شکتی کے ملازم کی جانب سے بل کاٹنے کی مہم پر نظر ثانی کی مانگ کی ہے۔سینکڑوں دیہاتوں کی عوام کی یہی مانگ ہے کے پانی کے بل کاٹنے کا حکم نامہ منسوخ کیا جائے۔جب پائیپوں کی حالت بہتر ہوگی اور عوام کو مناسب طریقے پر پینے کا صاف پانی مہیا ہوگاتو بل کاٹنے کا جواز بھی بن سکتاہے۔ان سارے حالات کے پیش نظر جب پائیپیں بہتر حالت میں نہیں تو اس قدر محکمہ کے چھوٹے ملازمین کا عوام پر بل کٹوانے کا دباؤ کیوں؟ اس حوالے سے علاقوں میں تعینات محکمہ جل شکتی کے سپروائیزروں سے بات کی گئی تو ان کا کہناہے کہ ہمیں سخت ترین حکم ہے کہ آپ لوگ اگر بل نہیں کٹواتے ہیں تو پانی کے کنیکشن کاٹ دئے جائیں گے، اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اُن کی تنخواہیں بندکرنے کا دھمکی آمیز حکم نامہ صادر کیاگیاہے۔
افسوس کا مقام ہے کہ ہندوستان کی راجدھانی دلی جو کہ ہر نقطہ نظر سے ترقی یافتہ ہے، جہاں لوگوں کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے،وہاں لوگوں کو مفت میں پانی فراہم کیا جا رہا ہے اور جموں و کشمیر کے منڈی علاقے میں جہاں لوگ غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں، انہیں پانی کی فراہمی کے بغیر بل جمع کروائے جا رہے ہیں۔آخر جموں وکشمیر میں اس قدر سختی کیوں؟کیاغریبوں کے لئےاچھے دن یہی ہیں کہ اب پانی کے لئے اُن کا راشن بھی بند ہوگا؟