سری نگر//حکام نے ریاسی میں پانچ سرکاری اساتذہ کو اس وقت معطل کر دیا، جب انہوں نے اوقاتِ کار کے درمیان زونل ایجوکیشن آفیسر (ZEO) سمیت ایک قریبی سرکاری سکول میں دعوت کا لطف اٹھانے کے لیے 5 سکولوں کو تالا بند کر دیا۔
خبر رساں ایجنسی – کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) نے کہا کہ چیف ایجوکیشن آفیسر (سی ای او) ریاسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کام کے اوقات کے دوران پانچ سکولوں کو بند کرنے کی شکایت موصول ہونے کے بعد کمپلیکس کے سربراہ شجرو نے ان سکولوں کا دورہ کیا۔
اسی دوران کمپلیکس کے سربراہ نے ان سکولوں کو اوقات کار میں بند پایا اور جس کے بعد انہوں نے تصاویر کے ساتھ ایک رپورٹ پیش کی جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ یہ سکول بند تھے۔
رپرٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ معاملے کی گہرائی سے انکوائری کے لیے ایچ ایس ایس چنہ کے پرنسپل ریاض حسین، ایچ ایس ایس مہور کے سینئر لیکچرار ریاض حسین اور ایچ ایس جملان کے ہیڈ ماسٹر پر مشتمل ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
بیان کے مطابق،”کمیٹی نے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جس میں کمیٹی نے اعلیٰ حکام کی اجازت کے بغیر سکولوں کو بند کرنے کی تصدیق کی”۔
“زیڈ ای او مہور نے سکولوں کو بند کرنے پر ان سکولوں کے سربراہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے، وہ خود ان کے ساتھ مڈل سکول ترمالہ میں دعوت میں شریک ہوۓ“۔
کمیٹی نے زیڈ ای او مہور کے خلاف DSEJ کے قواعد کے تحت مناسب سزا دینے کی سفارش کی ہے”۔
سی ای او نے کہا کہ نہ تو ایم ایس ترمالہ کے ہیڈ ماسٹر کسی بھی صورت میں کسی بھی سکول کو بند کرنے کی ہدایت دینے کا مجاز ہے اور نہ ہی ان سکولوں کے ایچ او ایل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اعلیٰ حکام کی اجازت کے بغیر سکولوں کو بند کریں۔ تمام کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
بیان کے مطابق، “تمام سکولوں کے ایچ او ایل کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور سی ای او ریاسی کے دفتر سے منسلک کر دیا گیا ہے“۔