میں ہی نہیں بلکہ تقریباً ہر شخص یہ محسوس کررہا ہے کہ وقت بھاگ رہاہے اور بڑی تیزی کے ساتھ بھاگ رہا ہے ۔ لوگ صبح جاگتے ہیں اور ذہن میں دن کا پروگرام ترتیب دینے لگتے ہیں ایسا کرتے کرتے جب وہ گھڑی کی طرف دیکھتے ہیں تو دوپہرہوچکی ہوتی ہے ۔ پھر شام کے سائے کیسے گھیر لیتے ہیں پتہ بھی نہیں چلتا ۔ کئی دہائیوں سے وقت کی رفتار تیز ہورہی ہے ۔ پہلے وقت گزر جاتا تھا اب بھاگ رہا ہے ۔ بیل گاڑی ،تانگے اور سائیکل کا زمانہ بیت چکا ہے اب تیز رفتار موٹر کاریں انسان کے پاس ہیں۔ منٹوں میں وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے مہلت نہیں ملتی ۔ آرام کا ایک سانس بھی نہیں ملتا ۔ اس کے پاس آج زندگی کی ساری سہولتیں ہیں ۔ وہ اپنے گھر میں بیٹھ کر دنیا کے کسی بھی کونے سے رابطہ قائم کرسکتا ہے ۔ دنیا میں کہاں کیا ہورہا ہے اسے موبائیل فون پر اس کی تفصیل دستیاب ہے ۔سائنس اور ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو ایک گاوں میں تبدیل کردیا ہے لیکن گھر میں بیٹھ کرباپ کو بچوں کی خبر نہیں ہوتی کہ وہ کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں اور بچوں کو والدین کی خبر نہیں ہوتی ۔ عجیب بات ہے کہ نزدیکیوں نے ہی فاصلے بڑھادئیے ہیں اور یہ فاصلے اتنے طویل ہوگئے ہیں کہ خون کے رشتے بھی ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہورہے ہیں ۔مجھے کبھی کبھی اپنا بچپن یاد آجاتا ہے ۔ ہم ہرروز شام کے بعد اپنی ماں کے گرد بیٹھ جایا کرتے تھے ۔ اس کی گود میں سر رکھتے تھے اور وہ کہانیاں سنایا کرتی تھی ۔ میٹھی میٹھی باتیں کیا کرتی تھی اور ہمارے جسم و جاں ایک عجیب سی لذت سے آشنا ہوتے تھے ۔ وقت جیسے ٹھہر جاتا تھا ۔شام طویل ہوجاتی تھی ۔ بڑی دیر کے بعد ہم نیند کی پرسکون آغوش میں گم ہوجاتے تھے ۔ میرے بچے اپنی ماں کے پاس نہیں بیٹھتے ۔ ان کی شام موبائل پر شروع ہوتی ہے اور رات بھی موبائل پر بیت جاتی ہے ۔ صبح وہ دیر سے جاگتے ہیں اور ان کی صبح کیسے دوپہر تک پہنچ جاتی ہے انہیں پتہ بھی نہیں چلتا ۔تو کیا وقت اپنی ہی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ ہم ہی اس کے ساتھ قدم نہیں ملا رہے ہیں اور ہمیں لگ رہا ہے کہ وقت بھاگ رہا ہے اور بڑی تیزی کے ساتھ بھاگ رہا ہے۔سورج اپنے وقت پر طلوع ہوتا ہے اور اپنے ہی وقت پر غروب بھی ہوتا ہے ۔ ہم نہ اپنے وقت پرسوپاتے ہیں اورنہ اپنے وقت پر جاگ جاتے ہیں ۔ ہم کائنات کے نظام سے بغاوت پر اتر آئے ہیں اور اس بغاوت کی سزا کے طورپر وقت ہمارے ہاتھوں سے چھوٹا جارہا ہے ۔
ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ آخری زمانہ آگیا ہے اب اس دنیا کا اختتام ہونے والا ہے اوراس کی نشانی یہ ہے کہ کسی چیز میں بھی برکت نہیں رہی ہے ۔بات بالکل درست ہے کہ اب کسی چیز میں برکت نہیں رہی ہے ۔میں جب چھوٹا بچہ تھا مجھے یاد ہے کہ ایک پاو گوشت میرے والد صاحب لایا کرتے تھے ۔ پانچ افراد پر مشتمل کنبہ دو وقت یہ ایک پاو گوشت کھاتا تھا ۔ آج میرا کنبہ تین افراد پر مشتمل ہے ۔ ایک کلو گوشت بھی کم پڑ جاتا ہے ۔ کیوں ؟۔ پیمانے وہی ہیں ، ترازو بھی وہی ہے ۔ بھیڑ بھی ویسے ہی ہیں پھر کیوں اتنا بڑا فرق آگیا ہے۔کیا اس میں قدرت کا کوئی ہاتھ ہے یا انسان کی ہی کوئی خطا ہے ۔ بھیڑ مصنوعی غذاوں پر پلتے ہیں ۔ اور ہم قدرت کے نظام کے برخلاف انہیں دنوں میں وزن دار بنادیتے ہیں ۔چنانچہ جو گوشت ہم تک پہنچتا ہے اس میں پانی کی مقدار گوشت سے زیادہ ہوتی ہے پھر ہم اپنی ان خطاوں پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ آخری زمانہ آگیا ہے اور کسی چیز میں برکت نہیں رہی ہے ۔ ہم جنگل کاٹ رہے ہیں اور موسم بدل رہے ہیں ۔پانی کابحران پیدا ہورہا ہے لیکن ہم اپنے اوپر کوئی الزام نہیں لیتے ۔اپنی خطاوں پر پردہ ڈالنے کے لئے کہتے ہیں کہ آخری زمانہ آگیا ہے اوراب قیامت قریب ہے ۔مولوی صاحبان ہم سے کہتے ہیں کہ گناہوں کا بوجھ بڑھ چکا ہے اور اللہ کا قہر ہم پر نازل ہورہا ہے ۔اس لئے مسجدوں میں جائو ۔ اپنے گناہوں سے توبہ کرو ۔ اللہ سب ٹھیک کردے گا ۔ کوئی ہم سے یہ نہیں کہتا اللہ کا قائم کیا ہوا نظام مت بگاڑو۔اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا انسان خوداپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔ اپنا محاسبہ کرو ۔ جنگل مت کاٹو ۔ قدرت کے نظام کوتبدیل کرنے کی کوشش مت کرو ۔ نقلی دوائیاں مت بیچو ۔ایک دوسرے کو لوٹنے کی کوشش مت کرو۔براون شوگر اور چرس کا کاروبار مت کرو ۔رشوت مت لو۔منشیات کے تاجر وں کے حج سے واپس آنے کے بعد ان کا والہانہ استقبال مت کرو ۔ ان کا پیسہ مساجد کیلئے استعمال مت کرو ۔ رشوت خوروں کو سماج میں عزت کا اعلیٰ مقام مت دو ۔ کوٹھیوں کی طرف مت دیکھو کردار کی طرف دیکھو ۔ اگر نمازی اعلیٰ کردار کا مالک نہ ہو تو وہ نماز نہ پڑھنے والے سے زیادہ بڑا مجر م ہے کیونکہ وہ سیدھے اللہ جل شانہ کو دھوکا دے رہا ہے ۔
آج پوری دنیا میں مذاہب کی بالادستی قائم کرنے کا رحجان ہے ۔ کہیں پر خلافت قائم کرنے کے لئے لوگ اپنی جانیں نچھاورکررہے ہیں اور کہیں پر رام راجیہ قائم کیا جارہا ہے ۔ کہیں پر یہودی سلطنت کی وسعت کا انتظام ہورہا ہے اورکہیں پر عیسائیت کی بالا دستی قائم کرنے کا کام ہورہا ہے ۔تمام مذاہب میں اس کائنات کو تخلیق کرنے والے کا تصور موجود ہے ۔ ہرمذہب کا ایک اخلاقی نظام ہے جس میں کسی جبر یا کسی بالادستی کی گنجائش نہیں ۔ بالادستی ایک سیاسی اصطلاح ہے جس کا کسی مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کیونکہ بالادستی کا مطلب ہے جبر ، دوسروں پر زبردستی اپنا نظام قائم کرنا ۔نہ اسلام زبردستی اورجبر کی اجازت دیتا ہے نہ مریادا پرش رام نہ انجیل اور نہ زبور ۔ لیکن تمام مذاہب کے ساتھ یہ غیر مذہبی اصطلاح منسوب ہوچکی ہے ۔ ہر ایک دوسرے کو نیچا دکھانا مذہب کا ہی فرض قرار دیتا ہے اسی کے نتیجے میں مذاہب کا اخلاقی نظام فراموش ہوچکا ہے ۔مذاہب پر سیاست حاوی ہوچکی ہے ۔ اور مذہب کے نام پر لوگوں کو مار مار کر قتل کرنا ۔ انہیں گولیوں سے اڑادینا ۔ قتل عام کرنا ۔ جبر کرنا مذاہب کی سب سے بڑی خدمت سمجھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں قدرت کے نظام کو بگاڑنے ۔ ایک دوسرے کو دھوکہ دینے ۔ لوٹ مار کرنے ۔ دوسروں کا حق چھیننے ۔ ناجائز کام کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔دنیا کا کوئی قانون انسان کو ان بداعمالیوں سے نہیں روک سکتا صرف مذہب ہی روک سکتا ہے لیکن جب مذہب کی بنیادیں ہی تبدیل کردی گئی تو وہی اس بے لگام آزادی کا باعث بن چکا ہے اور اس بے لگام آزادی نے کائنات کے نظام کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے ۔ اب انسان کو لگ رہا ہے کہ وقت تیز بھاگ رہا ہے ۔ قیامت قریب آچکی ہے۔ برکت باقی نہیں رہی ہے ۔ قربتیں فاصلوں میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ انسان سب کچھ ہوتے ہوئے بھی محتاج ہے ۔ تنہا ہے ۔ پریشاں اور افسرد ہ ہے ۔ مہلت نہیں ۔ سکون نہیں اورآرام نہیں ۔ بھاگم بھاگ ہے اور دہشت و وحشت ہے ۔ اب انسان پانی کیلئے جنگ لڑے گا ۔ ایک دوسرے کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کی جنگ لڑے گا اور ایٹم بموں کااستعمال کرکے فنا ہوجائے گا ۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘