راجوری//راجوری ضلع میں ایک نوجوان کی موت کے بعد اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجوری، محمد اسلم نے بتایا کہ پولیس ناکہ بکھر میں تعینات تین پولیس اہلکاروں کو لاپرواہی اور اس شخص کو ہسپتال نہ لے جانے پر معطل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے سی آر پی سی 174 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، ہفتہ کی شام راجوری ضلع کے دگل اور قریبی علاقوں کے دیہاتیوں نے اس شخص کی موت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
متوفی نوجوان کی شناخت شیر سنگھ (عمر 23) ولد چتر سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متوفی سندر بنی میں مزدوری کا کام کرتا تھا اور لوہری تہوار میں حصہ لینے کے لیے گھر واپس آرہا تھا لیکن راستے میں لاپتہ ہوگیا۔
اہلِ خانہ نے بتایا ،”جمعہ کو ہمیں معلوم ہوا کہ وہ سیوٹ میں نشے کی حالت میں پڑا تھا جس کے بعد بکھر پولیس چوکی سے پولیس کی ایک ٹیم اسے اپنے ساتھ لے گئی لیکن بعد میں اس کی موت ہوگئی”۔
مظاہرین نے الزام لگایا کہ پولیس کی لاپرواہی کی وجہ سے اس شخص کی موت ہوئی ہے۔
اُنہوں نے اس معاملے کی مناسب تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑک کو گھنٹوں تک بلاک کر دیا ۔
بعد ازاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کالاکوٹ، کرشن لال اور ایس ڈی پی او نوشہرہ توصیف احمد موقع پر پہنچے اور مظاہرین کو یقین دلایا کہ معاملے کی جانچ کی جائے گی۔
پولیس کی مبینہ لاپرواہی سے نوجوان کی موت،لواحقین کا احتجاج،3 اہلکار معطل