راجوری// انسداد ملی ٹینسی کاروائےوں کے دوران خطہ پیر پنجال میں گزشتہ سولہ ہفتوں کے دوران 10 فوجی اور 7 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، رواں سال یکم جنوری کو مشتبہ مسلح افراد نے راجوری کے ڈھانگری گاوں میں ایک منصوبہ بند حملہ کیا تھا جس میں سات مقامی افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے تھے جب کہ 20 اپریل کو بھاٹہ دوڑیاں پونچھ میں ہوئے ایک عسکری حملے میں ایلیٹ سپیشل فورس کے پانچ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ وہیں 05 مئی کو راجوری کے کیسری ہل علاقے میں انسداد ملی ٹینسی آپریشن کے دوران ہوئے حملے میں 5 فوجی اہلکار اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔
یاد رہے کہ پیرپنجال کو جموں و کشمیر کا سب سے پر امن خطہ سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم ڈیڑھ درجن ہلاکتوں کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال بگڑتی نظر آ رہی ہے، خطے میں بڑے پیمانے پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔
ڈھانگری میں ہوئے حملے کے بعد راجوری اور پونچھ اضلاع میں سیکورٹی فورسز کی اضافی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی، اور خطے میں بڑے پیمانے پر انسداد بغاوت اور انسداد ملی ٹینسی آپریشن چلا جا رہے ہیں، اس کے باوجود بھی ملی ٹینٹ منصوبہ بند طریقے سے دو عسکری حملے کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
بتادیں کہ جمعہ کی صبح راجوری کے کیسری ہل علاقے میں ایک مسلح تصادم کے دوران کم از کم 5 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک افسر شدید طور پر زخمی ہو گیا ہے، جسے علاج کیلئے اودھم پور کے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
دفاعی ذرائع نے بتایا کہ قریب 10 مربع کلو میٹر علاقے کو محاصرے میں لیا گیا ہے اور حملہ آوروں کو تلاش کرنے کیلئے مختلف نوعیت کے جال بچھائے جا رہے ہیں۔
رواں برس راجوری، پونچھ میں 7 شہریوں سمیت 17 ہلاکتیں