ڈوڈہ // 70 فیصد سے زائد گوجر آبادی پر مشتمل قائم گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول چلی میں زیر تعلیم 527 طلاب کے لئے جہاں صرف 7 کلاس روم موجود ہیں وہیں 9 لیکچروں سمیت تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی 24 آسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ طالبات کے لئے بیت الخلاء و کھیل کے میدان کی بھی کمی پائی جاتی ہے۔تفصیلات کے مطابق ڈوڈہ ضلع کی تحصیل گندوہ کے دور دراز علاقہ چلی میں واقع گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول میں 527 طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں لیکن لیکچروں کی 15 اسامیوں میں سے صرف چھ لیکچرار تعینات ہیں جس میں میڈیکل شعبہ میں ایک ہی لیکچرر موجود ہے اور باقی خالی پڑی ہوئیں ہیں۔اس کے علاوہ 3 ٹیچرز، سینئر اسسٹنٹ ایک، 1 جونیئر لائبریرین، اکاؤنٹ اسسٹنٹ کی ایک، چار لیبارٹری اسسٹنٹ و درجہ چہارم کی 5 آسامیاں خالی ہیںجس کے نتیجے میں تعلیمی نظام و سرکاری کام کاج بھی متاثر ہو رہا ہے ہائر سیکنڈری میں کھیل کود کے لئے کوئی معقول انتظام نہیں ہے اور طالبات کے لئے علیحدہ بیت الخلا کی بھی کمی ہے۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے عامر حسین نامی ایک طالب علم نے کہا کہ انہوں نے میڈیکل شعبہ میں داخلہ لیا ہے لیکن صرف زولوجی کا ایک لیکچرر موجود ہے اور باقی مضامین کے لئے مستقل عملہ کی عدم دستیابی سے ان کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔مہندر کمار نامی ایک اور طالب علم نے کہا کہ حکام کھیل کود کو فروغ دینے کے لئے بلند بانگ دعویٰ کرتے ہیں لیکن ہمارے سکول میں کھیل کود کا کوئی معقول انتظام نہیں۔ سرپنچ پنچائت منو چوہدری شیر محمد نے کہا کہ 8 پنچائتوں پر ایک ہائر سیکنڈری سکول موجود ہے اور اس میں بھی بنیادی سہولیات نایاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہڈل، منو اے، منو بی، کوٹہ، گلی، بھٹولی، ملتھ و دیگر ملحقہ علاقوں سے سینکڑوں بچے اسی ادارہ سے اپنی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور سرکاری سطح پر ان بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں۔سرپنچ پنچائت چلی بالا منیر احمد شیخ و بلاک کونسل چیئرمین چلی چوہدری مخوبیگم نے حکومت سے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول چلی میں تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی خالی پڑی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرنے و بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ بچوں کو راحت مل سکے۔