سمت بھارگو
راجوری//اسٹریٹجک لحاظ سے اہم مغل روڈ پیر کے روز مکمل طور پر بحال کر دی گئی، جس کے بعد سات دن تک مسلسل بند رہنے والی اس شاہراہ پر معمول کی ٹریفک کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی۔ سڑک کی بندش کی وجہ خراب موسم اور نامساعد حالات تھے، جس سے دونوں اطراف کے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اتوار کے روز انتظامیہ نے جزوی طور پر سڑک کو کھولا تھا اور صرف اْن گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی تھی جو بندش کے دوران دونوں جانب پھنس گئی تھیں۔ اس دوران آمدورفت کو سخت نگرانی میں رکھا گیا اور احتیاطی تدابیر کے تحت محدود پیمانے پر ہی ٹریفک کو چلنے دیا گیا تاہم پیر کے روز سڑک اور موسم کی صورتحال میں بہتری آنے کے بعد حکام نے مکمل طور پر مغل روڈ پر ٹریفک بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔اب تمام اقسام کی گاڑیوں کو مغل روڈ پر چلنے کی اجازت دے دی گئی ہے، جس سے وادی کشمیر اور جموں کے درمیان رابطہ ایک بار پھر مکمل طور پر بحال ہو گیا ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف عام مسافروں بلکہ تجارتی سرگرمیوں کے لئے بھی خوش آئند قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ مغل روڈ دونوں خطوں کے درمیان ایک اہم متبادل راستہ سمجھی جاتی ہے۔ادھر ٹریفک پولیس نے مغل روڈ پر گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے نئے کٹ آف ٹائم بھی جاری کئے ہیں۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق گاڑیوں کو مقررہ کٹ آف پوائنٹس سے آگے جانے کی اجازت صبح 10 بجے کے بعد اور دوپہر 2:30 بجے کے بعد دی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا اور کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔ٹریفک حکام نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ طے شدہ شیڈول کی سختی سے پابندی کریں اور ڈیوٹی پر موجود ٹریفک اہلکاروں کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ سفر محفوظ اور آسان بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ سڑک بحال ہو چکی ہے، تاہم پہاڑی علاقوں میں موسم اچانک تبدیل ہو سکتا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔مغل روڈ کی مکمل بحالی سے راجوری، پونچھ اور وادی کشمیر کے درمیان سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مقامی لوگوں اور مسافروں کا کہنا ہے کہ اس سڑک کی بندش کے دوران انہیں لمبے متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے تھے جس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہو رہا تھا۔ اب جبکہ مغل روڈ دوبارہ کھل گئی ہے، انہیں نہ صرف سہولت ملی ہے بلکہ خطے میں معمولاتِ زندگی بھی بحال ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔