عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// یوکرین نے بلا اجازت میزورم میں داخل ہونے اور بھارت میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں چھ یوکرینی شہریوں کی گرفتاری پر بھارت سے احتجاج درج کرایا ہے۔یوکرین کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق یوکرین کے سفیر اولیکسنڈر پولشچوک نے وزارت خارجہ میں سکریٹری سبی جارج سے ملاقات کی اور یوکرین کے شہریوں کو قونصلر رسائی فراہم کرنے اور انہیں فوری طور پر رہا کرنے کی درخواست کی۔یوکرین کی طرف سے یہ رد عمل اس وقت سامنے آیا ہے جب قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے ایک امریکی اور چھ یوکرینی شہریوں کو میانمار میں نسلی جنگی گروپوں کو ہتھیاروں فراہم کرنے اور انہیں تربیت دینے کے الزام میں گرفتار کیا۔ملزمان کی شناخت امریکی شہری میتھیو آرون وان ڈائک، چھ یوکرین کے باشندوں میں ہربا پیٹرو، سلویاک تاراس، ایوان سکمانوسکی، اسٹیفنکیو ماریان، ہونچاروک میکسم، اور کامنسکی وکٹر کے طور پر ہوئی ہے۔ انہیں دیگر متعلقہ دفعات کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ 18 کے تحت درج کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ان ساتوں کواین آئی اے کی متعدد ٹیموں کی جانب سے مربوط کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔ امریکی شہری وان ڈائک کو کولکاتا کے ہوائی اڈے پر حراست میں لیا گیا جب کہ دیگر چھ کو لکھنؤ اور دہلی کے ہوائی اڈوں پر حراست میں لیا گیا۔ این آئی اے کے مطابق، ساتوں ملزمین کے پاس بھارتی ویزے تھے، وہ اجازت نامے کے بغیر میزورم گئے تھے۔
خصوصی این آئی اے جج پرشانت شرما نے پیر (16 مارچ) کو سبھی ساتوں ملزمین کو 11 دن کی این آئی اے حراست میں بھیج دیا۔ این آئی اے نے 15 دن کی تحویل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزمین، نسلی مسلح گروہوں سے وابستہ ہیں، ہتھیار، دہشت گردی کے ہارڈ ویئر اور تربیت فراہم کرکے بعض ممنوعہ بھارتی باغی گروپوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایجنسی نے کہا کہ “یہ پہلو یقینی طور پر بھارت کی قومی سلامتی اور مفادات کو متاثر کرتے ہیں۔”عدالت نے 11 دن کا ریمانڈ دیتے ہوئے کہا کہ “صورت حال یہ ہے کہ ایف آئی آر ایسی غیر قانونی کارروائیوں کے بارے میں بتاتی ہے، جو بھارت کی قومی سلامتی اور مفادات کے خلاف ملزمین کی طرف سے سرزد ہو رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں UA(P)A کی دفعہ 18 بڑے پیمانے پر لاگو ہوتی ہے۔”این آئی اے کی طرف سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر (ایس پی پی) اتل تیاگی، امیت روہیلا اور دیگر پیش ہوئے۔ الزام ہے کہ ملزمین میزورم کے راستے میانمار میں داخل ہوئے اور نسلی جنگی گروپوں سے رابطہ کیا۔امریکی شہری کی حراست کے بارے میں پوچھے جانے پر امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ “ہم صورت حال سے آگاہ ہیں۔ رازداری کی وجوہات کی بنا پر ہم امریکی شہریوں سے متعلق معاملات پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں ہے کہ غیر ملکی شہری میزورم میں کیوں تھے۔”