جدہ // سعودی حکومت کی جانب سے عمرہ کی اجازت دے دی گئی ہے تاہم ابتدائی طور پر صرف مملکت میں موجود غیر ملکی اور مقامی افراد ہی حج کر سکتے ہیں۔ جن کی روزانہ کی تعداد کو فی الحال 6 ہزار تک محدود رکھا گیا۔ ایک ہزار زائرین کو ایک گروپ کی صورت میں تین گھنٹے کے اندر عمرہ مناسک مکمل کرنا ہوں گے۔تاہم سعودی وزارت صحت نے چھ قسم کے افراد کو عمرہ اور زیارت کرنے سے منع کیا ہے۔ وزارت صحت نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر کہا ہے کہ 'چھ قسم کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو چاہیے کہ وہ فی الحال عمرہ اور زیارت کا ارادہ نہ کریں’’ایسے افراد جن کا بلڈ پریشر ہائی ہے اور اس کے باعث انہیں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہسپتال داخل ہونا پڑا ہو یا دل کے امراض میں مبتلا ہیں یا جن کے دل کا مسل کمزور ہے، وہ فی الحال عمرہ نہ کریں‘‘۔وہ افراد جن کا خود کار دفاعی نظام کمزور ہے، سینے کے امراض میں مبتلا ہیں اور جنہیں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہسپتال داخل ہونا پڑا ہو ان کے لیے بھی یہی ہدایت ہے۔'وزارت نے کہا ہے کہ 'حد سے زیادہ موٹاپے کا شکار افراد، جگر کے امراض میں مبتلا یا تاجی شریانوں کے امراض میں مبتلا افراد جنہیں گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس بیماری کی وجہ سے ہسپتال داخل ہونا پڑا ہو اور حاملہ خواتین بھی عمرہ اور زیارت موخر کریں۔'وزارت نے کہا ہے کہ 'مذکورہ بالا قسم کے افراد کو یہ ہدایت ان کی سلامتی کو مد نظر رکھ کر دی جا رہی ہے۔حرمین کی انتظامیہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ حرم انتظامیہ نے معذوروں اور بزرگوں کے لیے سپیشل ٹریک قائم کر دیا ہے تاکہ وہ سہولت اورآسانی سے طواف اور سعی کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے معذوروں اور بزرگوں کے مسجد الحرام تک پہنچنے کے لیے بھی سپیشل ٹریک کا انتظام کیا ہے۔ جبکہ مسجد الحرام کے دروازے مرحلہ وار کھولے جا رہے ہیں۔