ترال//2021کی پہلی مسلح تصادم آرائی کے دوران ترال کے ایک مضافاتی گائوں میں3مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے۔یہ واقعہ جمعہ کی سہ پہر سوا 4بجے پیش آیا۔بتایا جاتا ہے کہ دو جاں بحق جنگجو محض28روز قبل جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوئے تھے۔پولیس کے مطابق انہیں اس بات کی اطلاع ملی تھی کہ مندورہ نامی گائوں میں 3جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جس کے بعد گائوں میں موجود 42آر آر کیمپ سے وابستہ اہلکاروں، نے بٹ محلہ کا محاصرہ کیا۔ پولیس نے بتایا کہ محاصرے کے دوران جونہی تلاشی پارٹی جنگجوئوں کے ممکنہ ٹھکانے کے ارد گرد گھیرا ڈالنے کی کوشش میں تھی تو یہاں موجود جنگجوئوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا جو قریب 10منٹ تک جاری رہا جس کے بعد ایک مکان کے صحن سے 3جنگجوئوں کی لاشیں بر آمد کی گئیں۔گولیوں کی گن گرج سے پوری بستی لرز گئی اور لوگ خوف و دہشت کے مارے گھروں میں سہم کر رہ گئے۔ بعد میں سیکورٹی فورسز نے بستی کی تلاشی بھی لی اور کئی گنٹوں تک محاصرہ جاری رکھا جس کے بعد لاشیں اپنے ساتھ لیکر محاصرہ ہٹایا گیا۔تاہم مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 42آر آر کا کیمپ گائوں میں ہی موجود ہے اور فوج کی ایک گشتی پارٹی گائوں کی ایک گلی سے گذررہی تھی تو گلی میں اچانک انکا آمنا سامنا جنگجوئوں کیساتھ ہوا جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیاں چلیں اور جنگجو مرحوم عبدالاحد کے مکان کے صحن میں جا گھسے، جہاں پر طرفین کے مابین گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا جس میں 3جنگجو جاں بحق ہوئے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگجوئوں نے فورسز پر گولیاں چلا کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔بعد میں فورسز جنگجوئوں کی لاشیں اپنے ساتھ لیکر چلے گئے۔مقامی لوگوں کے مطابق پولیس نے بشیر احمد کو گرفتار کیا ہے جس کے مکان کے صحن میں جھڑپ ہوئی۔بتایا جاتا ہے کہ جاں بحق جنگجو مقامی تھے جن میں سب سے دیرینہوارث احمد بٹ ولد غلام حسن بٹ ساکن نئی بگ تھا جس نے26 اگست 2020 کو ہتھیار اٹھائے تھے، جو پولیس ذرائع کے مطابق حزب کا ضلع کمانڈر تھا۔انکے علاوہ دیگر 2جنگجوئوں کی شناخت عارف احمد شیخ ولد بشیر احمد ساکن مونگہامہ اور سید احتشام الحق ولد محمد اسحق چک نور پورہ اونتی پورہ کے بطور ہوئی ہے۔دونوں جنگجو یکم جنوری 2021میں گھر سے لاپتہ ہوکر جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوئے تھے۔انکی تحویل سے ایک رائفل، دو پستول اور2گرینیڈ وں کے علاوہ دیگر اسلحہ بر آمد کیا گیا۔تاہم پولیس نے شام دیر گئے تک انکی شناخت ظاہر نہیں کی تھی۔
پولیس
انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر وجے کمار نے کہا کہ پاکستان سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو بہکارہا ہے، لہٰذابچوں کی زندگی سنوارنے او ر انہیں غلط راستے پر جانے سے روکنے میں والدین کا کلیدی رول ہے ۔ پولیس کنٹرول روم سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وجے کمار نے کہا کہ مندورہ ترال جھڑپ میں حزب سے وابستہ تین جنگجو ہلاک ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ تین میں سے دو نے حال ہی میں عسکری صفوں میںشمولیت اختیار کی تھی جبکہ ایک گزشتہ سال سے سرگرم تھا اور وہ ترال میںسیکورٹی فورسز پر گرینیڈ حملے میں ملوث تھا ۔ انہوں نے کہا کہ تینوں مقامی ہیں جن کی شناخت حسن ، عارف بشیر اور سید حافظ کے بطور ہوئی ۔ جبکہ ان کے قبضے سے ایک AK-47، دو پستول اور دیگر اسلحہ بر آمد کیا گیا ۔ آئی جی پی نے کہا کہ پاکستان سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیری نوجوانوںکو بہکاتا ہے اور نوجوانوں کیلئے کونلسنگ شروع ہونے کا عمل پولیس کے زیر غور ہے ۔
شوپیان میں شبانہ کریک ڈائون
کھریو میں تلاشیاں
شاہد ٹاک
شوپیان // سیکورٹی فورسز نے شوپیان اور کھریو میں تلاشیاں لیں۔دراونی زینہ پورہ نامی گائوں کا جمعرات ساڑھے 10بجے44آر آر ، 178بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے محاصرہ کیا اور منفی درجہ حرارت اور قریب 4فٹ برف کی موجودگی میں رات بھر گائوں میں تلاشی آپریشن جاری رکھا۔ گھر گھر تلاشیاں لیں گئیں تاہم گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ادھر فوج ، سی آر پی ایف اور ایس او جی نے کھر یو پانپور کے شیخ محلہ کو محاصرے میں لیا اور تلاشی مہم شروع کی۔فوج نے بستی کی طرف جانے والے تمام راستے انتہائی سختی کے ساتھ سیل کردیئے ۔ فورسز کوبستی میں جنگجو ئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی تاہم فورسز اور جنگجوئوں کا آمنا سامنا نہیں ہوا اور نہ کسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
لیلہار کاکہ پورہ پلوامہ میں شبانہ جھڑپ
شدید فائرنگ کے بعد آپریشن صبح تک ملتوی
شاہد ٹاک
پلوامہ // لیلہار کاکہ پورہ پلوامہ میں امسال کی دوسری مسلح معرکہ آرائی ہوئی اور فورسز نے جنگجو مخالف آپریشن سنیچر کی صبح تک ملتوی کردیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق شام کے قریب 8 بجے 50آر آر کی گشتی پارٹی گائوں سے گذر رہی تھی اور گائوں سے باہر انکا جنگجوئوں کے ساتھ آمنا سامنا ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ جنگجوئوں نے گشتی پارٹی کو نشانہ بنانے کی غرض سے اس پر اندھا دھند فائرنگ کی اور اسی دوران بستی کی طرف فرار ہوئے۔ لیکن فورسز نے فوری طور پر سی آر پی ایف اور پولیس کی مزید کمک طلب کر کے بستی کا محاصرہ کیا جہاں جنگجوئوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک مشتبہ مکان کے نزدیک طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔ اسکے بعد بستی کے ارد گرد گھیرا تنگ کیا گیا اور گائوں کو سیل کر کے روشنیوں کا انتظام کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ آپریشن کو سنیچر کی صبح تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بستی میں دو یا تین جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی اب آپریشن کے بعد ہی دیگر معلومات کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔دریں اثنا پولیس نے بتایا کہ محاصرے میں موجودہ ممکنہ طور پر ایک جنگجو کے والد کو یہاں لایا گیا جو اپنے بینے کو سرینڈر کرنے پر آماد کررہا ہے۔