بانہال // ضلع رام بن کے دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں طبی سہولیات کے فقدان اور کمی کی وجہ سے عام لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور دیہی علاقوں میں ڈاکٹر میسر رکھنے کے سرکاری دعوی غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ ضلع رام بن کے سب ڈویڑن بانہال کے خوبصورت علاقہ مہوْ میں پندرہ ہزار سے زائید کی دیہی آباد کیلئے نہ کوئی ہسپتال ہے اور نا ہی برسوں سے یہاں قائم یونانی ڈسپنسری میں کوئی ڈاکٹر تعینات ہی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ 1960 عیسوی کی دھائی میں بخشی غلام محمد کے دور میں قائم کی گئی ایک یونانی ڈسپنسری کرایہ کے چند خستہ حال کمروں سے چلائی جارہی اور ہزاروں لوگ ایک جونئیر فارماسسٹ کے رحم وکرم پر ہے جسے یہاں ہفتے میں تین دن ڈیوٹی کیلئے بھیجا جاتا ہے۔ مقامی سماجی کارکن شوکت ارشاد نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ مہو ، ہجوا ، ولو اور بجناڑی کا وسیع علاقہ بھاری برفباری کے دوران کئی ماہ تک باقی دنیا سے کٹ کر رہ جاتا ہے اور سینکڑوں مریضوں کیلئے موت اور زندگی کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے برفباری کے دوران مریضوں کو کندھوں پر اٹھا کر یہاں سے کھڑی یا بانہال کے ہسپتال پہنچانا پڑتا ہے اورماضی میں بعض اوقات کئی مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ یونانی ڈسپنسری سابقہ وزیر اعظم بخشی غلام محمد کے دور میں قائم کی گئی ہے لیکن تب سے اب تک نہ اس کا درجہ بڑھا کر پرائمری ہیلتھ سینٹر بنایا گیا اور ناہی یہاں کوئی ڈاکٹر تعینات کیا گیا ہے جبکہ پرائمری ہیلتھ سینٹر کی مانگ کیلئے مقامی لوگ کئی سابقہ وزراء اعلی اور حکام سے مل چکے ہیں لیکن یہ سب بے سود ہی ثابت ہوا ۔ انہوں نے کہا پچھلے کئی مہینے سے ایک جونئیر فارماسسٹ کو تین دن مہو ڈسپنسری میں اور تین دن ٹھٹھاڑ بانہال ڈسپنسری میں ڈیوٹی دینے کیلئے پابند کیا گیا ہے اور اس عارضی انتظام سے مقامی لوگ بھی اور یہ ملازم بھی پریشان ہیں۔ عبدالرشید نامی مقامی شخص نے بتایا کہ اس علاقے میں سب سے بڑی مشکل ڈاکٹر کی عدم موجودگی ہے اور قریب آٹھ سال پہلے مہو یونانی ڈسپنسری میں ایک ڈاکٹر ڈاکٹر کو تعینات کیا گیا تھا لیکن ان کے تبادلے کے بعد ڈاکٹر کی اسامی مسلسل خالی پڑی ہے اور عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ارشاد احمد نائیک نامی ایک اور مقامی شہری نے بتایا کہ ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے سخت بیماروں اور درد ذہ میں مبتلا خواتین کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مرد و خواتین کی مدد سے مریضوں کو برفباری کے دوران بانہال ہسپتال پہنچانا مجبوری بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی سال پہلے درد زہ میں مبتلا ان کی ایک بہن علاقہ مہوْ میں ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ بانہال ہسپتال پہنچانے سے پہلے ہی لقمہ اجل بنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مہو ، ہجوا ، بجناڑی ، باوا ، اڑی مرگ ، آکھرن کے علاقوں میں پندرہ سو کے قریب کنبے رہائش پذیر ہیں اور گرمیوں کے موسم میں چھ سو سے زائید خانہ بدوش کنبے بھی مہو کے اوپری علاقوں میں مقیم رہتے ہیں اور کل ملا کر پچیس ہزار کی آبادی کا انحصار اسی ڈسپنسری پر ہے اور یہاں کوئی ڈاکٹر موجود ہی نہ ہونے کی وجہ سے پوری ابادی کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں بات کرنے پر انڈین سسٹم آف میڈسنز کے ایک افسر نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ پوری ریاست میں آئی ایس ایم کے مراکز سٹاف کی کمی سے دو چار ہیں اور ضلع رام بن میں قائم کی گئی آئی ایس ایم ڈسپنسریوں میں ڈاکٹروں کی آدھ درجن سے زائید اسامیاں خالی پڑی ہیں۔