جموں//انجمن امامیہ جموں نے سپریم کورٹ آف انڈیاکی طرف سے آئین ہندکی 377 اور497دفعات کی منسوخی کوباعث افسوس اورچیئرمین شیعہ وقف بورڈ یوپی وسیم رضوی کے بیان کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے۔یہاں میڈیاسے بات کرتے ہوئے انجمن امامیہ جموں کے نائب صدرسیدآفاق کاظمی نے کہاکہ دفعہ 377 کی منسوخی قدرت کے قوانین کوچیلنج کرنے کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان متنوع ثقافت اورامیرثقافت پرمشتمل ہے لیکن ابھی تک سماج کے کسی بھی طبقہ سے 377 اور497 دفعات کی منسوخی کے فیصلے پرافسوس کااظہارکرنے کےلئے سامنے نہیں آئی ہے لیکن ہم اس فیصلے پرافسوس ظاہرکرتے ہیں اورحکومت سے پرزورمطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کرکے سپریم کورٹ کوفیصلے پرازسرنوغورکرنے کےلئے قائل کرے۔آفاق کاظمی نے کہاکہ ہم چیئرمین شیعہ وقف بورڈ یوپی وسیم رضوی کے بیان کی بھی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔شوکت گوجر،صدرجے کے گرجرفیڈریشن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دفعہ 497 کی منسوخی سے لگتاہے کہ ہمارےسماج میں کچھ چیزیں قابل قبول نہیں ہیں ۔ہماری عدلیہ ایسے فیصلے کررہی ہے جن پرپھرسے غورہوناچاہیئے۔انہوں نے کہاکہ ہم یورپین سماج نہیں ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خواتین کوبرابرحقوق دیئے جانے چاہیئں لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جوناقابل قبول ہیں۔مولانا بادشاہ امام جمہ پیرمٹھا مسجدنے کہاکہ وسیم رضوی کا بیان قابل مذمت ہے ۔انہوں نے کہاکہ رضوی مسلمانوں میں تفریق پیداکررہے ہیں لیکن متحدہوکران کے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔مولاناشیخ محمدعلی محمدی نے کہاکہ سپریم کورٹ کا377 اور497 دفعات کی منسوخی کافیصلہ ہندوستان کی قدیم روایات کے مخالف ہے ۔قابل ذکرہے کہ عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیاہے کہ ہم جنس پرستی کوئی جرم نہیں ہے ۔مقررین نے کہاکہ اسلام ان حرکات کوجرائم تصورکرتاہے اوران جرائم کی اجازت نہیں دیتاہے ۔غلام محمدنوری نے عدلیہ کے فیصلے کی شدیدالفاظ میںافسوس کااظہارکرتے ہوئےمطالبہ کیاہے کہ قوانین میںمناسب ترامیم کی جائیں ۔انہوں نے کہاکہ اگرترامیم نہیں کی گئیں توسماج میں اخلاقی قدریں ختم ہوکررہ جائیں گی اورہمارامعاشرہ مغربی تہذیب کی طرف گامزن ہوجائے گا۔