شکتی پیٹھوں نے صدیوں سے مشترکہ عقیدے اور مشترکہ ثقافت کے ذریعے ملک کو جوڑے رکھا :منوج سنہا
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ’’شکتی میمانسا‘‘ کے عنوان سے منعقدہ قومی سمپوزیم سے خطاب کیا، جس کا مشترکہ اہتمام سنٹرل سنسکرت یونیورسٹی (جموں کیمپس)، شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ اور شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی نے کیا تھا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آئندہ چار روز تک جاری رہنے والی اس علمی نشست میں 51شکتی پیٹھوںکے روحانی ورثے پر ہونے والی بحث ہمیں اس قدیم سناتن شعور سے دوبارہ جوڑنے کا موقع فراہم کرے گی، جس نے صدیوں سے ہندوستان کی روح کو تشکیل دی ہے۔انہوں نے کہا،’’شکتی کائنات کی دھڑکن اور اس کی بقا بخش شعور ہے۔ یہ ہر حرکت اور ہر تخلیق میں جلوہ گر ہوتی ہے اور ہمدردی، علم، محبت، صبر اور خود زندگی کی صورت میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ ویدی مناجات، اپنشدی فلسفے سے لے کر ’دیوی مہاتمیا‘ تک ہندوستان کے روحانی ورثے کا ہر پہلو اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ حقیقتِ مطلق اور شکتی ایک دوسرے سے ابدی طور پر جدا نہیں کیے جا سکتے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا فلسفہ اور روحانیت صرف قدیم مذہبی متون تک محدود نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی، روایات اور رسم و رواج میں بھی پوری طرح زندہ ہے۔منوج سنہا نے کہا’’یہ حقیقت دیہی علاقوں کی دعاؤں، گھروں میں منعقد ہونے والی نوراتری کی رسومات اور مادری قوت کے لیے ہمارے فطری احترام میں صاف نظر آتی ہے۔ ہمارے دیہات میں بے شمار ایسی خواتین موجود ہیں جنہوں نے کبھی سنسکرت کی ایک سطر بھی نہیں پڑھی، لیکن وہ اپنی روزمرہ زندگی میں شکتی کی حقیقی روح کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہی ہندوستان کی تہذیبی اور روحانی تسلسل کی اصل دھڑکن ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ شکتی پیٹھ قومی اتحاد کی مضبوط علامتیں اور مشترکہ تہذیبی شعور کے مینار ہیں۔ کسی بھی قوم کا اتحاد مشترکہ یادداشت، مشترکہ عقیدے اور مشترکہ تہذیبی سفر پر قائم ہوتا ہے اور شکتی پیٹھوں نے صدیوں سے یہی کردار ادا کیا ہے۔ ان مقدس مقامات نے صرف جغرافیائی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ جذباتی اور روحانی سطح پر بھی ہندوستان کو ایک لڑی میں پروئے رکھا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ موجودہ دور میں شکتی پیٹھوں پر علمی تحقیق پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے، کیونکہ اس کے کئی اہم مقاصد ہیں۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں اپنے قدیم علمی نظام کو ازسرِ نو زندہ کرنا ہوگا اور نوجوان نسل کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ یہ مقدس مقامات ہندوستانی فلسفے، فنِ تعمیر، فنونِ لطیفہ، موسیقی، سائنس اور تاریخ کے زندہ کتب خانے ہیں۔
انہوں نے کہا’’ہمارے آباؤ اجداد نے ان مقامات کا انتخاب صرف مذہبی بنیادوں پر نہیں کیا بلکہ ان کی قدرتی اور ثقافتی اہمیت کو بھی پیشِ نظر رکھا۔ ان مقدس مقامات کا مطالعہ ایک سنجیدہ علمی تحقیق ہے، جو ہمیں ہندوستان کی قدیم علمی روایت کو اس کے اپنے تناظر میں سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس تحقیق کا دوسرا اہم پہلو نسوانی شعور کی نشاۃِ ثانیہ ہے۔انہوں نے کہا’’دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان میں قدیم زمانے سے خواتین کو دیوی کا درجہ دیا جاتا رہا ہے۔ ہم ماں درگا، ماں سرسوتی، ماں لکشمی اور ماں شکتی کی عبادت کرتے ہیں، لیکن ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ کیا ہمارا معاشرہ ہر بیٹی، ہر بہن اور ہر ماں کو وہ عزت و احترام دے رہا ہے جس کی تعلیم ہماری تہذیب دیتی ہے؟ یاد رکھیں کہ دیوی کی عبادت اسی وقت بامعنی ہوگی جب خواتین کا احترام ہماری عملی زندگی کا فطری حصہ بن جائے۔ شکتی کی حقیقی پوجا اسی میں ہے کہ خواتین کو مساوات، تحفظ، وقار اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ تیسرا مقصد اپنے تہذیبی ورثے کا تحفظ ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہماری قدیم مخطوطات، سنگی کتبے، لوک کہانیاں اور تاریخی طرزِ تعمیر تیزی سے معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور اگر آج ان کی مناسب دستاویز بندی نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں اس بیش بہا ورثے سے محروم ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا’’یہ چار روزہ سمپوزیم دراصل ہماری تہذیبی یادداشت کے تحفظ کی ایک اہم قومی مہم ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ چوتھا مقصد قومی خوداعتمادی کو فروغ دینا ہے۔ان کے مطابق دنیا کے بہت سے معاشرے شناخت کے بحران سے دوچار ہیں، لیکن ہندوستان اپنی منفرد تہذیبی وحدت کے باعث مضبوطی سے کھڑا ہے۔ شکتی پیٹھوں کے وسیع سلسلے نے صدیوں سے مشترکہ عقیدے اور مشترکہ ثقافت کے ذریعے ملک کو جوڑے رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اس عظیم ورثے پر فخر ہونا چاہیے۔’’حقائق، شواہد اور گہری علمی تحقیق کے ذریعے وہ ہندوستانی تہذیب کی حقیقی عظمت کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ شعور نہ صرف ان کے اعتماد میں اضافہ کرے گا بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی بھرپور تہذیبی شناخت کو مؤثر انداز میں پیش کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔‘