جموں//خراب موسمی حالات ، شاہراہ کے مسدود ہونے اور درماندگی سے قطع نظر امسال یاترا پر جانے والے عقیدتمندوں کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے جو ملک کے مختلف کونوں سے جموں آئے ہوئے ہیں تا کہ یہاں سے جنوبی کشمیر کی پہاڑیوںمیں سطح سمندر سے 13500فٹ کی اونچائی پر بنے برفانی لنگم کے درشن کر سکیں۔ پورے جموں کشمیر میں پچھلے چار روز سے ہورہی بارشوں کی وجہ سے جہاں وادی میں سطح آب مسلسل بلند ہو رہی تھی وہیں جموں سرینگر شاہراہ بھی متعدد مقامات پر پسیاں گر آنے اور چٹانیں کھسکنے سے بند ہو کر رہ گئی ، نتیجہ کے طور پر انتظامیہ نے یاترا کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیاتو جموں میں آئے عقیدتمندوں کی تعداد میں اضافہ ہونا قدرتی امر تھا۔ لیکن یاتری اس بات سے پوری طرح بے پرواہ ہو کر دل میں درشن کرنے کی تمنا لئے پورے اتساہ کے ساتھ یاترا کی بحالی کے منتظر رہے ، آخر کار اتوار کو یاترا کو جموں سے وادی کی طرف جانے کی اجازت دے دی گئی۔ بیس کیمپ یاتری نواس بھگوتی نگر میں دو دن سے پھنسے یاتریوں کے جذبہ و جوش میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے ۔ بم بم بھولے اور جے شو شنکر کے نعرے لگاتے ہوئے ان یاتریوں کا کہنا تھا کہ وہ بھولے شنکر کے درشن کر کے ہی لوٹیں گے۔ ونے تیواڑی نامی ایک یاتری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو قدر ت کو منظور ہوگا وہ اچھا ہی ہوگا۔ ونے تیواڑی اتر پردیشن سے آئے 50رکنی قافلے کا حصہ ہیں ان کا ہنا تھا کہ ہم گھر سے درشن کرنے کے ارادہ سے نکلے ہیں کتنا بھی طوفان سیلاب یا برفباری ہو ہمارے ارادے کو نہیں بدل سکتے۔ بیکانیر راجستھان سے آئے برجیش پانڈے کا کہنا تھا کہ ’یہ میری گیارہویں یاترا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ شوشنکر ہی میری حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ یاتری محکمہ سیاحت کے بھی مشکور ہیں جس نے جموں میں قیام کے دوران ان کے لئے باغ باہو، باہو مندر، مبارک منڈی ڈوگرہ میوزیم، ہری نواس پیلس اور پیر کھوہ جیسے مقامات کی تفریح کا بھی اہتمام کیا ہوا ہے۔ اگر چہ روایتی طور پر 28جون کو امر ناتھ یاترا شروع ہوئی تھی تاہم ناسازگار موسم کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں یاتری بال تل ،نن ون بیس کیمپوںمیں درماندہ ہو کر رہ گئے اور انہیں پویتراگپھا مین شیو لنگم کے درشن کرنے کی اجازت نہیں دے دی گئی ۔ 30جون کو موسم میں بہتری آنے کے بعد یکم جولائی سے علی الصبح بال تل کے بیس کیمپ سے صبح 7بجکر45منٹ پر 7352یاتریوں کو گھپا کی جانب جانے کی اجازت دے دی گئی جبکہ چندن وارڈی کے بیس کیمپ سے 9ہزار کے قریب یاتری شیو لنگم کے درشن کیلئے روانہ ہوئے ۔ خبر رساں ادارے اے پی آئی کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اننت ناگ محمد یونس ملک نے کہا کہ موسم میں بہتری آنے کے بعد یاتریوں کو پویتر گپھا کی جانب شیو لنگم کے درشن کی اجازت دے دی گئی اور ہیلی کاپٹر سروس بھی نل گراٹھ سونہ مرگ سے صبح9بجے شروع کی گئی جو موسم بہتر رہنے کی صورت میں ہر دن شام 7بجے تک جاری رہے گی ۔واضح رہے کہ امر ناتھ یاترا اس وقت روک دی گئی تھی جب چندن وارڈی اور بال تل کے راستے موسلا دھار بارش شروع ہونے سے پھسلن پیدا ہونے کے ساتھ چٹانیں اور پسیاں گر آئی تھیں جس کی وجہ سے یاتریوں کو 8830فٹ بلند پویتر گپھا کی جانب شیو لنگم کے درشن کرنے کی اجازت نہں دی گئی۔