سہیل انجم
کچھ زہر ایسے ہوتے ہیں جو بڑی سرعت سے پورے جسم میں پھیل جاتے اور اپنے شکار کو موت کے دروازے پر پہنچا کر دم لیتے ہیں۔ مذہبی منافرت بھی ایک ایسا زہر ہے جو بڑی تیزی سے پھیلتا ہے اور پورے معاشرے کو تہس نہس کر دیتا ہےاور اگر اس زہر کے پھیلاؤ کو سیاسی سرپرستی حاصل ہو جائے تو پھر ا س کی تباہ کاری لامحدود ہو جاتی ہے۔ یہ مذہبی منافرت کسی بھی مذہب کے پیروکاروں یا کسی بھی سیاسی فکر کے ماننے والوں میں پائی جائے، غلط ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر ہم مذہبی تعصب میں مبتلا ہیں تو درست اور دوسرامبتلا ہے تو نادرست۔ ایک جیسے معاملے میں خود کو صحیح اور دوسروں کو غلط تصور کرنا ایک ایسی ذہنی بیماری ہے جو منافرانہ سوچ کو مزید ہوا دیتی ہے اور یہ بیماری رفتہ رفتہ لاعلاج ہو جاتی ہے۔ سردست ہم ملک کی موجودہ سیاست کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مذہبی تقسیم کے اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس طرح اس نے سماج کوزہر آلودہ کر دیا ہے۔ اس خطرناک سیاست نے اندرون ملک جو تباہی مچائی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب یہ زہر سات سمندر پار تک پہنچ گیا ہے۔ منافرانہ جماعتوں کی شاخیں دیگر ملکوں میں بھی قائم ہیں اور وہاں بڑی تعداد میں ان کے ارکان بھی موجود ہیں۔ ان سے وابستہ غیر مقیم بھارتیوں سے انھیں بڑی مقدار میں چندہ بھی ملتا ہے۔2014 کے بعد سے ہندوستان میں ہندوتوا کی سیاست کے نام پر جو مذہبی تفریق پیدا کی جا رہی ہے ،اس کے مظاہر دوسرے ملکوں میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔ حالیہ برسوں میں بعض دیگر ملکوں میں غیر مقیم ہندوستانی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں جن کی خاصی کوریج بھی ہو رہی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ’امریکہ اور دیگر بہت سے ممالک میں ایک عرصے سے ہندوستان کے متنوع عقائد سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن بھائی چارے اورمذہبی ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ امریکہ میں نیو جرسی اور نیو یارک دو ایسے شہر ہیں جہاں بڑی تعداد میں ہندوستانی ہندو اور مسلمان آباد ہیں۔ وہاں گزشتہ دہائیوں میں اگر کسی فرقہ وارانہ تشدد کی اطلاعات سامنے آئیں تو وہ کسی تیسرے فریق کی جانب سے تھیں۔ 1975 سے 1993 تک نیو جرسی میں ایک گینگ ’ڈاٹ بسٹرز‘کے نام سے سرگرم تھا ،جس میں ڈاٹ سے مراد وہ بندیا ہے جو ہندو خواتین اپنے ماتھے پر لگاتی ہیں۔ یہ گینگ ہندوستانیوں کے بزنس اوربرادری کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں ملوث تھا۔ اسی طرح نائن الیون کے بعد جب مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم شروع ہوئی تو اس میں بھی ان برادریوں نے ایک دوسرے کاساتھ دیا، ایک دوسرے کے خلاف کام نہیں کیا۔ بلکہ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد ہندوستانی اپنی داڑھی کی وجہ سے ان انتہا پسند حملوں کا نشانہ بھی بنے، جن کا ہدف دراصل مسلمان تھے۔ لیکن اس سال یعنی 2022 میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے جو مختلف عقائد کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی امریکیوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ بنے۔ اگست میں ریاست نیو جرسی کے علاقے ایڈیسن میں انڈین بزنس ایسوسی ایشن نیو جرسی کی جانب سے ہندوستان کے یوم آزادی پر ایک بڑی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس ریلی کے ترجمان بی جے پی کے سمبت پاترا تھے۔ اس پریڈ میں ایک بلڈوزر بھی شامل تھا جس پر اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور وزیراعظم نریندر مودی کی تصاویر لگی ہوئی تھیں۔ بلڈوزر کی موجودگی بہت سے ہند نژاد مسلمانوں میں غم وغصے کا باعث بنی۔ کیونکہ بہت سے لوگوں کے مطابق بلڈوزر ہندوستان کی مسلم اقلیت پر ظلم کی علامت بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس بلڈوزر کی تصاویر پر ملا جلا رد عمل دیکھنے میں آیا۔ نیو یارک ٹائمز سمیت متعدد موقر اخبارات نے اس متنازع اقدام پر تبصرے کیے۔ اسی طرح حال ہی میں کیلیفورنیا کے شہر Anaheim میں ایک تہوار منانے والوں اور ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ امریکہ میں ہونے والے ان حالیہ واقعات اور گزشتہ ماہ انگلینڈ میں لیسسٹر میں کچھ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پرتشدد تصادم نے ان خدشات کو بڑھا دیا ہے کہ ہندوستان میں شدید سیاسی اور مذہبی تقسیم غیر ممالک میں آباد ہندوستانی برادریوں میں بھی پھیل رہی ہے۔ بین الاقومی خبر رساں ادارے اے پی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان میں حکمراں جماعت کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے اقدامات پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ کچھ ہندوبھی یہی کہتے ہیں کہ اقلیتوں کے خلاف پرتشدد واقعات پر حکمرانوں کی خاموشی منافرانہ گروہوں کو حوصلہ دیتی ہے اور قومی اتحاد کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں مذہب اورروحانیت کے شعبے کے ڈین ورون سونی کا کہنا ہے کہ ہندو قوم پرستی نے ہندوستان کے تارکین وطن کو اسی طرح تقسیم کر دیا ہے جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو منقسم کیا تھا۔ اس یونیورسٹی میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے تقریباً دو ہزاراسٹوڈنٹس ہیں جو ملک میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ سونی نے اگرچہ ابھی تک کیمپس میں اس طرح کے تناؤ کو نہیں دیکھا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی کوان پچاس سے زیادہ امریکی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہونے کی وجہ سے دھچکا پہنچا ،جس نے ’عالمی ہندوتوا کے خاتمے‘ کے عنوان سے ایک آن لائن کانفرنس کو اسپانسر کرنے میں شراکت داری کی تھی۔اس ٹوئیٹ کے مطابق امریکہ کے ایک درجن سے زیادہ اسکالرز نے انٹرویوز میں کہا کہ ہندو قوم پرست گروپ اور ہندوستانی حکومت کے حامی ہندوستان اور جنوبی ایشیا کے ماہرین کے لیے ایک جارحانہ فضا پیدا کرنے کا خطرہ بن رہے ہیں‘۔ یہ رپورٹ کافی تفصیلی ہے۔ یہاں اس کے کچھ مخصوص حصوں کو پیش کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں ایسے کئی واقعات کا ذکر نہیں ہے جو غیر ممالک میں اس مذہبی تقسیم کے نتیجے میں پیش آئے ہیں۔ ان واقعات پر سوشل میڈیا میں بڑے پیمانے پر ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ہندوتو کی سیاست کے حامی بیشتر سوشل میڈیا صارفین نے بیرون ہند ہندوتو کے ابھار کو ہندوؤں میں بیداری کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن جس طرح سیاسی مقاصد کی حصولیابی کی خاطر ہر جائز و ناجائز حربہ اختیار کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات اور نفرت انگیز تقاریر پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے ،اس کے پیش نظر اندیشہ ہے کہ مذہبی منافرت کا یہ زہر ان دیگر ملکوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لے گا، جو ابھی تک اس سے اچھوتے ہیں اور جہاں ہند نژاد مسلمان اور ہندو آباد ہیں۔
پس نوشت: بیشتر مبصرین کا یہ خیال ہے کہملک کی حکمران جماعت ہر معاملے کو انتخابی نقطۂ نظر سے دیکھتی ہے۔ 2012 میں جب دہلی میں نربھیا کانڈ ہوا تھا تو بی جے پی نے اسے خواتین کے حقوق کی لڑائی کے طور پر لیا اور خواتین کے تحفظ کو اہم انتخابی ایجنڈہ بنایا۔ اس نے اس کی آڑمیں یو پی اے حکومت کے خلاف اسی طرح پرچار کیا ،جس طرح کرپشن کے نام پر کیا گیا تھا۔ لیکن اب بلقیس بانو کے مجرموں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ پہلے تو یہ پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ اس رہائی میں مرکزی حکومت کا ہاتھ ہے یا نہیں۔ لیکن سچ سامنے آگیا اور مرکز کا اقدام بے نقاب ہو گیا۔ مبصرین کے مطابق حکومت اس معاملے کو بھی انتخابی چشمے سے دیکھ رہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اس سے ہندوؤں کے مزید ووٹ مل جائیں گے۔ اسی طرح ہریانہ کے رام رحیم کو بھی پیرول پر رہا کر دیا گیا اور اس کے پروگراموں میں پارٹی اور حکومت کے ذمہ داران بھی شرکت کر رہے ہیں۔ رام رحیم پر عصمت دری اور قتل کا الزام ہے۔ لیکن حکومت سمجھتی ہے کہ شائد اس کی رہائی سے سیاسی فائدہ پہنچے ۔ گویا اب اس کے نزدیک خواتین کا احترام اور ان کا تحفظ کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا۔
[email protected]