برسلز// برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان علیحدگی کے لیے تیار کردہ بریگزٹ معاہدے کا مسودہ یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں منظور کرلیا گیا، اسپین نے معاہدے کی مخالفت کردی۔ تفصیلات کے مطابق برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث کے بعد یورپی یونین کے 27 رکن ممالک نے برہگزٹ معاہدے کے مسودے کو تسلیم کرلیا ۔ ڈونلڈ ٹسک کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں اسپین کے آخری لمحات میں کارروائی سے باہر ہونے کے بعد تمام ممالک نے معاہدے پر دستخط کیے۔ وزیر اعظم تھریسامے کو مذکورہ معاہدے کے مخالف ایم پیز سمیت برطانوی پارلیمنٹ سے منظور کروانا ہوگا۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ بریگزٹ معاہدے کے منظور ہونے کی خبر یورپی یونین کونسل کے صدرڈونلڈ ٹسک سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کے ذریعے عام کی تھی۔ مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ امید ہے برطانوی رکن پارلیمنٹ آئندہ ماہ دسمبر میں معاہدے کے حق میں فیصلہ دیں لیکن فی الحال معاہدے کو منظور کرنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی، ایل آئی بی ڈیم، ایس این پی، ڈی یو پی اور حکمران جماعت متعدد ایم پیز اس معاہدے کے خلاف ووٹنگ کرنے کیلیے تیار ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم تھریسا مے نے برطانوی عوام سے گذارش کی ہے کہ وہ اس معاہدے کی حمایت کریں کیوں کہ یہ سب سے بہترین معاہدہ ہے۔ خیال رہے کہ اسپین نے گذشتہ روز متنبہ کیا تھا کہ اگر اجلاس کے آخری لمحات تک تاریخی جبل الطارق کا معاملہ حل نہیں ہوا تو معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے سربراہوں نے بریگزٹ کے حوالے سے خصوصی اجلاس میں بریگزٹ کی دستاویزات میں دو اہم چیزوں پر منظوری دی ہے۔