سید سرفراز احمد
فطرت کا یہ قانون ہےکہ وہ دنیا کو آزمائشوں میں مبتلاء کرکے امتحان لینا چاہتی ہے اب یہ آزمائشیں آفات سماوی کی شکل میں کبھی زلزلوں کا روپ اختیار کرتی ہیں ،کبھی سیلاب کا تو کبھی وبائی امراض کی شکل میں دنیا کو مبتلاء کردیتی ہے، جو یہ بتلانا چاہتی ہےکہ دنیا کا نظام یوں ہی نہیں چل رہا ہے بلکہ اس نظام کو چلانے والا کوئی حقیقی خدا ہے تاکہ دنیا اس حقیقی خدا کو پہچان سکے ۔لیکن انسان اس خواب غفلت میں رہتا ہے کہ یہ سب دنیا کا معمول ہے ۔ در حقیقت یہ سب منجانب اللہ ہوتا ہے، اب چاہے اسکا کوئی اقرار کرے یا انکار ،کوئی اس حقیقت سے بیدار ہو یا نہ ہو، لیکن ان سب کا محور ومرکز فطری ہوتا ہے۔ انسان کبھی ہوش کے ناخن نہیں لیتا۔ حقیقی خدا ہر ایک آزمائش کے بعد بھی آرائش والی زندگی عطا کرتا ہے اور انسانوں پر رحم و کرم کی نظریں ڈالتا ہے، بس وہ آفتوں کے نزول سے صرف یاد دلانا چاہتا ہےکہ تمہارا خدا ایک ہے جو تاقیامت اس دنیا کا نظام بہترین طریقے سے چلارہا ہے تاکہ تم سنبھل جاؤ۔ لیکن انسان خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوتا، پھر بھی اسکا رحم و کرم کا معاملہ ہروقت انسانوں پر سایہ فگن رہتا ہے ۔
ابھی مانسون کے آغاز ہوتے ہی ایک ہفتہ طویل بارش کی جھڑی نے ریاست تلنگانہ اور مہاراشٹرا کو ساکت کردیا۔ دونوں ریاستوں میں مسلسل بارش نے سیلاب کی شکل اختیار کرتے ہوئے زبردست تباہی مچارکھی تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں ریاستیں ایک ہفتہ کیلئے منجمد ہوگئیں، بالخصوص ریاست تلنگانہ کو اس بارش نے اپنی زد میں لے کر معمولات زندگی کے نظام کو درہم برہم کردیا تھا۔ ریاست میں ہر طرف افرا تفری کا ماحول ہوگیا تھا، معاشرے کا عام طبقہ جو یومیہ مزدوری کرتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرتا ہے، وہ معاشی بدحالی کا شکار ہوگیا۔ پسماندہ علاقے اورنشیبی علاقے بارش کی زد میں تیر رہے تھے، ایک طرف سیلابی بارش ایسے لاچار اور بے سہارا بستیوں کے صبر کا امتحان لے رہی تھی تو دوسری طرف عید کی خوشیاں بھی بارش کے آگے مدھم سی ہوگئیں تھیں جو اسوۂ ابرہیمیؑ کی نسبت سے مسلمانوں سے جذبہ ایثار و قربانی کی مطلوبہ صفات کا شدت سے مطالبہ بھی کررہی تھی۔ ایسے آزامائشی حالات میں بھی امت مسلمہ نے بھر پور جذبہ ایثار اور قربانی کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ عید منائی اور سنت ابرہیمیؑ کو بھی زندہرکھا ۔
ریاست تلنگانہ کی راجدھانی شہر حیدرآباد سے لیکر ضلع نظام آباد ضلع کریم نگر سے لیکر ضلع عادل آباد تک ہر طرف ہر مقام پانی سے جل تھل نظر آرہا تھا، ریاست کے کئی علاقے ریڈ زون بھی قرار دیئے گئے تھے جبکہ تلنگانہ کے تمام پراجیکٹس خطرے کے نشان سے اوپر سے بہہ رہے تھے، ریاست کا کوئی بھی آبی پراجیکٹس ایسا نہیں بچا جس سے فاضل پانی کا اخراج نہیں کیا گیا۔ ایک طرف شہر حیدرآباد کے نشیبی علاقے جہاں کئی سالوں سے بارش کے موسم میں عوامی بستیاں ہر بار تیرتی نظر آتی ہے ۔جس سے عام کاروباریوں کا بے تحاشہ نقصان ہوا اس دوران کئی مقامات پر کئی حادثات کی اطلاع بھی ملی ہے کہیں قدیم مکانات منہدم ہوگئے کہیں انسانی بستیوں میں پانی گھس گیا کہیں برقی شاک کے واقعات ہوئے تو کہیں کوئی بہہ کر چلاگیا یقیناً یہ جانی اور مالی نقصانات کے واقعات ہر انسان کو شدید رنج و غم میں مبتلاء کردیتے ہیں ۔
شعبہ صحافت سے وابستہ ایک مخلص و ہر دل عزیز رپورٹر محمد ضمعیر الدین بھی اس سیلاب کی نذر ہوگیاجبکہ ماریڈی میں ایک ہی خاندان کے ماں باپ کمسن بھائی بہن ایک ہی جھٹکہ میں برقی زد میں آکر ہلاک ہوگئے۔ اگرچہ سیلاب کا آنا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ سیلاب ماضی میں بھی آتے رہے ہیں اورمستقبل میں بھی بار بار آتے رہیں گے لیکن حکومتیں ہر باران سیلابوں سے نمٹنے میں ناکام ہوجاتی ہیں حالانکہ سیلاب ہویا طوفان حکومت کی جانب سے ہی پیشن گوئی کی جاتی ہے پھر حکومتیں اسکو نمٹنے میں ناکام کیوں ہوتی ہیں…؟کیوں وقت سے پہلے اس سے نمٹنے کی تیاری نہیں کرتی؟ ہم مانتے ہیں کہ سیلاب قبل از وقت کسی مخصوص جگہ یامقام کا تعین نہیں کرتا بلکہ کسی بھی مقام کو اپنی زد میں لے سکتا ہے لیکن بعض ایسے مقامات بھی ہوتے ہیں جو حکومت کے علم میں ہوتے ہیں جسکو حکومت اس پر نظر رکھتے ہوئےوقت سے پہلے اس علاقہ کو سیلاب سے متاثر ہونے سے بچا سکتی ہے لیکن حکومتیں اس طرف توجہ نہیں دیتی۔ سیلاب سے جو تباہی ہوتی ہے،اس کا اصل محور ومرکز آباشی پراجیکٹ ہوتے ہیں کیونکہ جب پراجیکٹس میں خطرے سے اوپر پانی ہوجاتا ہے تو اسکا پانی بھی اسی انداز میں بے تحاشہ خارج بھی کیا جاتا ہے جبکہ بھارت میں ایسے فاضل پانی کو چھوڑنے کے جدیدٹیکنالوجی کا استعمال نہیں ہوتا۔اگر ایسا کی جاتا توبالخصوص ایسے علاقوں پر جہاں رہائشی علاقے ہوتے ہیں، ان سیلابوں سے بچایا جا سکتا۔ کیونکہ جب ڈیم کے پانی کو چھوڑا جاتا ہے تو پانی کا بہاؤ تالاب کے پشتوں کو کمزور کرکے توڑ دیتا ہے، جسکے بعد پانی آبادی والے علاقوں میں داخل ہوجاتا ہے، لہٰذا ایڈوانس سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے عوامی رہائش علاقوں کو ایسے سیلابوں سے محفوظ رکھا جا سکتا۔ لیکن ہماری حکومتیں ایسے ترقی یافتہ اور جدید ٹکنالوجی میں بجٹ خرچ کرنے کے بجائے غیر ضروری بجٹ کا اسراف کرتی ہیں۔ اگر حکومتیں ایسے ریڈ زون علاقوں کو پہلے ہی خالی کروادیتی تو آج یہ نوبت بھی نہیں آتی۔ایک اہم بات یہ ہےکہ ایسے علاقے جہاں پہلے سے ہی ریڈ زون ہیں تو حکومتیں ان علاقوں میں عوامی بستی کیوں بننے دیتیں؟کیا یہ حکومت کی سب سے بڑی نا اہلی نہیں ہے ،بہر کیف یہ کہنا مقصود ہےکہ اس سیلاب سے جتنا عوامی املاک کا نقصان ہوا ہے، حکومتیں اسکا دس فیصد حصہ بھی برداشت نہیں کرسکتی۔ حکومت کی ناکامی کا خمیازہ بھی عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ کئی خاندان اپنے گھروں سے محروم ہوگئے، کئی تاجر اپنی تجارت سے محروم ہوکر بے روزگار ہوگئے، غریب بھی اور متوسط خاندان بھی ۔ جنکو ابھی تک حکومتوں کی جانب سے کوئی خاص امداد نہیں پہنچائی جارہی ہے۔ یہی حال گذشتہ سال بھی تھا ،ایسے ہی بارش نے سیلاب کا رُخ اختیار کرلیا تھا لیکن پھر بھی حکومتیں باز نہیں آتی اور ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ ابھی بھی کئی دینی، فلاحی و سماجی تنظیموں کی جانب سے امدادی کاموں کو انجام دیا جارہا ہے، لیکن ایسے سیلاب انسانوں کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑ جاتے ہیں کہ کون ایسے وقت میں کتنا انسانیت کا ہمدردی کا درد رکھتا ہے جبکہ ہمیں ان حالات میں بھی اللہ کا شکر بجا لانا چاہئے کہ اُس نے سسکتی بلبلاتی انسانیت پر رحم فرماکر قیمتی جانوں سےزیادہ املاکی نقصانات پر ہی روک لگادی ہے، ورنہ حالات اس سے بدتر ہوسکتے تھے۔ ابھی بھی ریاست میں مسلسل بارش کے امکانات ہیں، لہٰذا حکومتیں اس سے نمٹنے کی تیاری کریں ۔