عمان//عرب لیگ نے فلسطینی ریاست تسلیم کرانے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔غیرملکی میڈیا کیمطابق مقبوضہ اردن کے دارالحکومت عمان میں عرب لیگ میں شامل 6 ممالک کا اجلاس ہوا جس میں بیت المقدس کے معاملے پر غور کیا گیا۔ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اجلاس کی صدارت کی جس میں مصر، مراکش، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، فلسطین اور اردن کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔اردن کے وزیرخارجہ نے عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہوگا، امریکی صدر کا فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکی فیصلے کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں جبکہ فیصلے سے خطے میں تشدد بڑھے گا۔اجلاس میں القدس کی حیثیت اور شناخت کی تبدیلی کے خلاف مزید مؤثر سفارتی اقدامات کرنے اور فلسطین کو ریاست تسلیم کرانے کیلئے مشترکہ سفارتی کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ خطے میں آزاد وخودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر امن ناممکن ہے۔عرب لیگ نے خطے اور فلسطین کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے سفارشات مرتب کردیں جنہیں رواں ماہ عرب وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائیگا۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ سعودی مملکت کے یروشلیم کے بارے میں مؤقف میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے اور وہ اس کو فلسطین کا دارالحکومت سمجھتا ہے۔انھوں نے یہ بات ہفتے کے روز اردن کے دارالحکومت عمان میں عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کہی ہے۔اس اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے القدس (یروشلیم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے متنازعہ فیصلے پر غور کیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ خطے میں ایران کی مداخلت کے مقابلے میں اردن کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا۔اس موقع پر اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفادی نے کہا کہ اس دیرینہ تنازع کے دو ریاستی حل اور خطے میں یروشلیم دارالحکومت کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر سلامتی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔انھوں نے اردن کے اس مؤقف کا ا عادہ کیا کہ وہ امریکا کے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ عرب لیگ دنیا سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کے لیے کام کرے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ عرب لیگ نے اردن کو دوسری ریاستوں کے ساتھ القدس کے ایشو پر ابلاغ کی ذمے داری سونپی ہے۔اس اجلاس میں عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط کے علاوہ اردن ، فلسطین ، سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور مراکش کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دسمبر میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے متنازع فیصلے پر عرب اور مسلم دنیا نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک غیر پابند قرارداد کے ذریعے اس فیصلے کو کثرت رائے سے مسترد کردیا تھا۔