انسانی شعور اور احساس یادش بخیر کی پناہ گاہوں میں انسان کو تب داخل کرتا ہے جب اس کے قوی مضمحل ہو جائیں یا اچانک کسی آفت کی وجہ سے چلن چھوٹ جائے تب انسان یا تو اپنی قوت اور طاقت کا زمانہ یاد کر کے خود کو مطمئن رکھتا ہے یا اس خطے کی خوبیاں بار بار بیان کرتا ہے جہاں سے وہ بہت دور آ گیا ہے۔
انسان کے اس احساس کو انگریزی میں’’ناسٹلجیا‘‘اور اُردو میں ’’یاد ماضی‘‘ کہا جاتا ہے اس کے ارد گرد جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں وہ تبدیلیاں اور نیا زمانہ ترقی کے نام پر اس کی اُکتاہٹ اور اکیلے پن میں اضافہ کر رہا ہے۔ماضی میں راحت اور سکون کا سامان بننے والی چیزیں رفتہ رفتہ ناپید ہوتی جا رہی ہیں اور انسان ترقی کے سیلاب کے سامنے اکیلا کھڑا پچھلے زمانے کو یاد کر رہا ہے۔ وہ زمانہ جو سست رفتار تھا اوروہ اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا لیکن اب جب وہ دو قدم چلتا ہے تو دنیا اس سے بہت آگے نکل چکی ہوتی ہے اور وہ راستے کے کنارے بیٹھ کر گئے دنوں کا ماتم کرنے لگتا ہے۔ایک نسل جو ڈھلتی عمر کا شکار ہورہی ہے اس کی یادیں اس کے زخم بنتی جارہی ہیں اور ان زخموں کی دوا بھی یادیں ہی ہوتی ہیں یادوں میں کھو کر پرانی نسل زخموں کو کریدتی بھی ہے اور خود مرہم بھی رکھتی ہے۔
وہ ایک دور تھا جب سازوں اور رواجوں میں زندگی تھی ۔ گاؤں کی گلیوں میں’’ اکتارہ‘‘ لیے فقیر اور جوگی گاتے ہوئے اکثر مل جاتے، میلوں تک سوئی ہوئی دھرتی پر رہٹ کی روں روں سنائی دیتی تھی ۔ ہر طرف سبزہ تھا۔ گاؤں کی گوریاں پیتل کے کا سے لیے پنگھٹ پر اکٹھی ہوتیں ،اب یہ سب ایک عذاب ہے۔
کبھی کبھی نہیں بلکہ اکثر یہ دل چاہتا ہے کہ حال کی چلمن کو پرے دھکیل کر ذرا دیکھیں تو صحیح ماضی کی کون کون سی تفریحات کو ہم بھول چکے ہیں، یہ ہمیں ذہنوں کو کھنگالنے کے باوجود نہیں ملتے۔ بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ اس مشینی دور میں نجانے کتنے کھیل تماشے ہماری زندگیوں سے نکال باہر کر دیئے گئے کہ جیسے ان کا کبھی وجود ہی نہ تھا۔ یہ ساری تفریحات بچپن سے ہمارے ساتھ رشتہ بنائے ہوئے تھیں، اب ہمارے بچوں کو معلوم بھی نہیں۔ تو پھر دل واقعی ڈھونڈتا ہے فرصت کے اُن رات و دن کو، جب کرنے کو اور دیکھنے کو بہت کچھ تھا، جیسے کسی بوڑھے برگد کے سائے تلے بزرگوں کی بیٹھک کو، جہاں لفظوں کی بازی گری ہوتی۔ جہاں خیالات کا بے ہنگم طوفان برپا ہوتا ۔ کبھی ان کے پاس سے گزرتے تو قریب ہی ننھا منا سا سیل سے چلنے والا ریڈیو نظر آتا، جس پر نشر ہونے والی کسی خبر پر تجزیے سننے کو ملتے ،یہ اس دور کے ٹاک شوز تھے جو ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ریڈیو کے سامنے بیٹھا ہر بزرگ اپنے تجربے اور مشاہدات کے ساتھ ماہرانہ رائے دینے میں دیر نہ لگا رہا ہوتا تھا۔
کبھی محلے میں بندر کا تماشا دکھانے والا مداری آتا تو بچے چاروں طرف سے اسے گھیر لیتے، مداری، معصوم اور بے زبان بندر اور بکری سے وہ وہ اداکاری کراتا کہ آسکرایوارڈ دینے کو دل چاہے۔ تماشے والا جب کہتا کہ بابو، بن ٹھن کر سسرا ل کیسے جاتا ہے تو بندر کے انداز کو دیکھ کر لگتا جیسے اس کا اس معاملے میں گہرا مشاہدہ رہا ہے۔ اب یہ اور بات ہے کہ جب ہم خود سسرال کی پیشیاں بھگتنے کے مجرم ٹھہرے تو ذہن کے گوشوں میں مداری کا مکالمہ ہی گونج رہا ہوتا کہ ’’بابو، بن ٹھن کر سسرال کیسے جاتا ہے۔‘‘اسی طرح پرانے اور خستہ حال ٹھیلے پر میلے کچلے شیشوں کے جار میں رنگ برنگی ننھی منی مچھلیاں فروخت کرنے جب کوئی آتا تواس کے ارد گرد میلہ سا لگ جاتا۔ یہ بات سوچ کر ہی اب متلی آ جاتی ہے کہ گندے ہاتھوں سے ٹھیلے والا مچھلی نکال کر کسی بچے کو تھیلی میں دیتا اور انہی ہاتھوں سے چورن ایک کاغذ پر لپیٹ کر بھی بچے کے حوالے کرتا۔
ہمیں یاد ہے کہ بچپن میں جب ایک بار سات دن تک سائیکل چلانے کا کرتب دکھانے ایک جانباز آیا تو بڑے سے میدان میں پنڈال لگایا گیا۔ موسم کی سختی کو سہتے ہوئے یہ سوار مسلسل ساری رات سائیکل چلاتا رہا۔ ایک دن ہمارے اندر ’’شرلاک ہومز‘ ‘کی روح جاگی اور یار دوستوں کو جمع کر کے رات کے اندھیرے میں یہ جاسوسی کرنے پہنچے کہ وہ واقعی خود ہے یا اس کی جگہ کوئی اور آدمی سائیکل چلا رہا ہے ۔ اس وقت ہمارے بارہ بج گئے جب اسی سوار کو ہم نے سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا۔ دل باغ باغ ہو گیا کہ چلو کوئی تو اپنا کام ایمانداری سے کر رہا ہے۔
یہ بھی عجیب ہی تھا کہ اس زمانے میں ہر موسم کے کھیل مخصوص تھے، اگر کرکٹ کا سیزن چل رہا ہوتا تو ہر کوئی اس میں ڈوبا ہوتا، تو کبھی ہاکی میں۔ بچے اور بوڑھے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر سارا دن کرکٹ کا میچ دیکھتے اور اس کھیل سے لطف اندوز ہوتے ۔اب تو وہ ٹی وی بنانے والی کمپنی کے ہمارے ہاں تمام دفاتر بھی بند ہوچکے ہیں۔ فٹ بال کا عالمی کپ ہوتا تو ہر گلی محلے میں کہیں نہ کہیں میراڈونا، پھر ڈیوڈ بیکہم تو مل ہی جاتا۔ سستے کھیل پٹو باری یا گلی ڈنڈا بھی ہر ایک کی جان ہوتا۔ اُن دنوں بجلی کا جانا ہمارے جیسے بچوں کے لئے خوشی کی خبر لاتا، چھپن چھپائی کا مزا اٹھایا جاتا۔
رمضان المبارک میں فجر کی نماز پڑھنے کے بعد کرکٹ یا پھر لڈو کی بساط بچھائی جاتی۔ اب تو لڈو ہو یا کیرم، سب ہی ڈیجیٹل ہو گئے ہیں۔ کوسوں دور بیٹھے یار دوستوں سے آن لائن کھیل کر ہی وقت کاٹا جاتا ہے۔ حد تو یہ تھی کہ جاڑے میں چوزے تک پال لیے جاتے تھے۔ جوتے کے خالی ڈبے کو بلب لگا کر ننھے منے پیارے پیارے نیلے پیلے چوزوں کی کابک بنائی جاتی۔ جوں جوں سردیاں عروج پر پہنچتیں تو ان چوزوں کی تعداد بھی دھیرے دھیرے کم ہونے لگتی کیونکہ یا تو ان میں سے کئی کو بلی کھا جاتی یا پھر سردی۔
ہم تو اپنا شمار ان خوش نصیبوں میں بھی کرتے ہیں جنہیں بچپن سے ہی کفایت شعاری اور رقم اکٹھی کرنے کا سلیقہ ملا۔ اس مقصد کو پانے کے لئے مٹی کا بنا ’’گولک‘ ‘ ہوتا، جس میں بچی ہوئی چونی اٹھنی ڈال دیتے اور جب پیسوں کی ضرورت ہوتی تو اسی گولک کو زمین بوس کر کے بڑے شوق و ذوق سے یہ گنتے کہ خزانہ کتنا بڑا ہے ۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب ہر خاص و عام کیلئے صرف بن مکھن ہوا کرتا تھا لیکن یہ فاسٹ فوڈ بھی برگر بن کر امیر اور غریب کا فرق بیان کر رہا ہوتا ہے۔کیا ہم بھول سکتے ہیںجب سبزی خریدنے جاتے تو دکاندار بنا بولے مٹھی بھر کر ہری مرچ یا ہرا دھنیا، پودینہ تھما دیتا۔ اب تو ان چیزوں کے بھی الگ سے دام چکانے پڑتے ہیں۔ دن بھر کھیل کود کے بعد بھی وقت تو جیسے آگے بڑھتا ہی نہیں تھا، آج یہ عالم ہے کہ وقت پر لگا کر اڑنے کے لئے بے تاب رہتا ہے۔ وقت کا پہیہ تو سائیکل چلاتے وقت بھی تھما رہتا تھا۔
سارا دن کی بھاگ دوڑ کے بعد شام میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ جانا بھی ایک الگ قسم کی عیاشی تھی، جب ٹی وی بصری تاثرات میں کوتاہی دکھاتا تو بھیا کے حکم پر چھت پر چڑھ جاتے، انٹینے کو ایسے ہلاتے جیسے ہم’’’ناسا‘‘ سے ہی آئے ہیں۔ کھیل تماشوں کے لئے کسی زمانے میں کھلے سے میدان میں سرکس لگتا تھا، اب یہ بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔ اب سر جوڑ کر کوئی چور سپاہی بھی نہیں کھیلتا، جس میں کوئی ایک یہ صدا لگاتا تھا کہ میرا وزیر کون؟ تو وزیر صاحب کے ذمے چور سپاہی کا پتا لگانے کا کام دیا جاتا، خیر اب تو حقیقی دنیا میں وزیر ہو یا مشیر سبھی بغیر کسی پولیس کی مدد سے چور کا پتہ لگانے پر مامور ہیں۔کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے وہ ٹیپ ریکارڈ جس پر والد صاحب کی غیر موجودگی میں گانے سنتے تھے۔ یاد تو ہمیں یہ بھی ہے کہ اپنی پسند کے گانے ریکارڈ کیسے کرائے جاتے تھے۔ باقاعدہ لسٹ بنا کر دی جاتی کہ اے اور بی سائیڈ پر کون کون سے گانے آنے چاہئیں۔ ٹیپ ریکارڈ کی جگہ پہلے واک مین آیا پھر آئی پوڈ نے ان دونوں کو پیچھے کھسکا کر اپنی جگہ بنائی اور جناب اب یہ بھی نایاب ہو گیا۔ اب تو ننھی منی سی ’’یو ایس بی‘‘ میں سینکڑوں گانے محفوظ ہو سکتے ہیں۔ جنہیں سن سن کر گاڑی میں رومان پرور ماحول خود بخود طاری ہو جاتا ہے۔ کسی زمانے میں بڑے بڑے کمپیوٹر میں محفوظ مواد کو فلاپی اور پھر سی ڈی میں منتقل کیا جاتا، اب یہ بھی کام ننھی منی سی یو ایس بی کر رہی ہے۔
خوشی تو وی سی آر کی آمد پر بھی ہوئی۔ نئی فلم کا پہلا شو دیکھنے کے لئے دکاندار کی منت سماجت کی جاتی اور یہ بھاری رقم کے عوض کام ہو جاتا۔ ارے سب چھوڑیں کون بھول سکتا ہے کیمرا اور اس کی ریل کو، جس میں36,24,12تصاویر ہوتیں اور پھر انہیں دھلوایا جاتا، کچھ سیانے پہلے نیگیٹوز بنواتے اور پھر کام کام کی تصویروں کا پرنٹ تاکہ رقم بچائی جائے۔ اب تو جناب سمارٹ فون کے ذریعے تصاویر ہی نہیں مووی کیمرے کا بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ تصاویر یا ویڈیو کو اپنی پسند کے مطابق خوبصورت سے خوبصورت بنانے کی بے شمار اپلی کیشز دستیاب ہیں۔
کلائیوں پر بندھی گھڑیاں وقت کے پابند ہونے کا اشارہ دیتیں لیکن یہ اب ذرا کم کم ہی اپنا دیدار کراتی ہیں۔ بھاری بھرکم الارم جب بجتا تو مردوں تک کو اٹھانے کی اہلیت رکھتا اور اب یہ سہولت بھی سمارٹ فون کے ذریعے مدھر اور جل ترنگ الارم سے پوری کی جا رہی ہے۔ ایک دوست کے ان خیالات سے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ ’’سمارٹ فون‘ ‘عمرو عیار کی زنبیل کی طرح ہے۔ جس میں آپ کے مطلب کا سب کچھ آپ کی جیب میں قید ہو کر رہ جاتا ہے۔
ڈائل والا ٹیلی فون ہو، پوسٹ کارڈ، فیکس مشین، ٹائپ رائٹر، ٹیلی گرام سب کچھ اب تو بابا آدم کے زمانے کی چیزیں لگتے ہیں۔ سچ مانیں تو پہلے ان سب چیزوں کے لئے وقت ہی وقت تھا۔ مگر اب گردن جھکا کر سیل فون پر ایسے لگتے ہیں کہ وقت کہاں اڑن چھو ہو گیا، کسی کو اس کا احساس ہی نہیں ہو پاتا۔ہرعہد بدلتاہے۔۔۔۔اقدار بدلتی ہیں۔۔ سامان عیش و تعیش اورتفریح کے ذرائع بھی بدلتے ہیں۔۔ اسی طرح محنت و مشقت کے اوزار اور آلات پیداوار بھی بدل جاتے ہیں چونکہ ایسا ہونا فطری عمل ہے۔ اہم بات یہ کہ ان تیز تر تبدیلیوں کو برپا کر کے بہتر سے بہترین شکل میں لانے کا سب سے بڑا محرک اور کردار انسان خود ہی ہے۔