عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/سالانہ امرناتھ یاترا 3 جولائی 2026 سے شروع ہو رہی ہے، جس میں ملک بھر سے لاکھوں عقیدت مندوں کی شرکت متوقع ہے۔ ان میں بڑی تعداد ایسے یاتریوں کی بھی ہوگی جو ہر سال کشمیر کے بلند و بالا پہاڑوں میں واقع بابا برفانی کے درشن کے لیے امرناتھ گھپاکا سفر کرتے ہیں۔مدھیہ پردیش کے ضلع دتیا سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ چھوٹے تاجر دیپک کاکوریا نے بتایا کہ وہ اس بار 36ویں مرتبہ امرناتھ یاترا پر جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران یاترا کے لیے کیے گئے انتظامات ہمیشہ معیاری اور اطمینان بخش رہے ہیں۔
بہار کے ضلع نوادہ سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ فرنیچر تاجر منیش کمار نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ سال بھی امرناتھ یاترا کی تھی اور اس سال بھی جلد رجسٹریشن کروا کر یاترا میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ برس تمام سہولیات بہترین تھیں اور انہیں امید ہے کہ اس بار بھی انتظامات اسی معیار کے ہوں گے۔
راجستھان کے شہر بیکانیر سے تعلق رکھنے والے 70 سالہ پنڈت جیتھ مل، جو پیشے کے اعتبار سے پجاری ہیں، نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال بھی یاترا کی تھی اور اس سال بھی اسی سعادت کے خواہشمند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ یاترا کے دوران کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی اور تمام انتظامات قابلِ تعریف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر روحانی سکون کے لیے غسل کرنا ہو تو ہری دوار جائیں، اور اگر مقدس یاترا کرنی ہو تو امرناتھ ضرور جائیں۔‘‘
دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے سادھو سنت بھی جموں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں سے وہ مختصر قیام کے بعد کشمیر کی جانب روانہ ہوں گے۔ پرانی منڈی جموں میں واقع قدیم رام مندر حسبِ روایت ان سادھوؤں کے لیے بیس کیمپ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔اتر پردیش کے شہر آگرہ سے تعلق رکھنے والے جونا اکھاڑا کے سادھو رام بھجن نے بتایا کہ وہ اس بار چھٹی مرتبہ امرناتھ یاترا کریں گے۔ ان کے مطابق یہ یاترا انسان کو زندگی کی مشکلات سے نجات اور روحانی سکون عطا کرتی ہے۔
تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے سنت شیو رودرا نے کہا کہ یہ ان کی 24ویں امرناتھ یاترا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہر بار کشمیر آ کر انہیں خوشی محسوس ہوتی ہے اور یاترا کے تمام انتظامات ہمیشہ بہترین رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ یہ سفر دشوار گزار ہے، تاہم امرناتھ یاترا اپنی نوعیت میں منفرد ہے اور بابا برفانی کے درشن زندگی میں خیر و برکت کا باعث بنتے ہیں۔
اسی طرح تمل ناڈو کے ہی کرشنا گیری اکھاڑا سے وابستہ سنت بھیرَو سوامی نے بتایا کہ وہ پانچویں مرتبہ امرناتھ یاترا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی دنیاوی فائدے کی خاطر نہیں بلکہ بابا بھولے ناتھ سے عقیدت کے باعث اس مقدس سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے عوام کو ایک دوسرے سے محبت اور بھائی چارے کا پیغام بھی دیا۔
ہری دوار سے تعلق رکھنے والے پنچ دشنامی جونا اکھاڑا کے سادھو دیو گیری، جو اس بار 33ویں مرتبہ یاترا پر جا رہے ہیں، نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے اور حکام کی جانب سے جاری تمام ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔اتراکھنڈ کے بدریناتھ علاقے سے آئے شیو نیواس تانترک شمشانی نے بتایا کہ وہ دوسری مرتبہ امرناتھ یاترا کے لیے آئے ہیں۔ ان کے بقول، ’’میں یہاں بابا بھولے ناتھ کے بلاوے پر آیا ہوں۔‘‘
ادھر پرانی منڈی رام مندر کے مہنت رامیشور داس نے بتایا کہ مندر میں ایک وقت میں دو ہزار سے زائد سادھوؤں کے قیام کی گنجائش موجود ہے اور یہاں ان کے کھانے پینے اور رہائش کا مکمل انتظام کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 2007 سے یہ مندر امرناتھ یاترا پر جانے والے سادھوؤں کا بیس کیمپ ہے، جہاں قیام کے دوران سادھو بھجن، کیرتن اور دیگر مذہبی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے مطابق یاترا کا پہلا قافلہ 2 جولائی کو جموں سے روانہ ہوگا۔