یو این آئی
نئی دہلی//سوچھ بھارت مشن محض ایک قومی کامیابی ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے بھی ایک تحفہ اور عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے اجتماعی کاوش کی انقلاب آفریں طاقت کا ثبوت ہے ۔ان خیالات کا ظہار حکومت ہند کے پینے کے پانی اورصفائی ستھرائی کے محکمہ کی سکریٹری ونی مہاجن نے ایک مضمون میں کیاہے ۔محترمہ مہاجن نے کہاکہ اس وقت جب کہ ہم ‘‘تبدیلی کو مہمیز کرنے ’’ کے مرکزی موضوع کے ساتھ بیت الخلا کا عالمی دن منا رہے ہیں، ہماری اجتماعی توجہ دنیا بھر میں صفائی ستھرائی کے لیے جاری جدوجہد کی طرف مبذول ہوتی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق 350 کروڑ افراد اب بھی محفوظ بیت الخلا تک رسائی سے محروم ہیں اور 41.9 کروڑ افراد کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ نہ صرف انسانی وقار اور حفاظت کے لیے سنگین خطرہ ہے ، بلکہ بیماریوں کے پھیلاؤ میں بھی کردار ادا کرتا ہے ، جس سے ہر روز پانچ سال سے کم عمر کے 1000 بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ پائیدار ترقیاتی ہدف 6 (ایس ڈی جی 6) ، یعنی 2030 تک سبھی کے لیے محفوظ بیت الخلا اور پانی کو یقینی بنانا ، کے حصول میں محض سات سال باقی ہیں۔ ہندوستان کا سوچھ بھارت مشن (ایس بی ایم) محفوظ صفائی ستھرائی کے لیے عالمی کاوشوں میں ایک اہم طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے ۔سکریٹری موصوف کے مطابق صفائی ستھرائی کی عالمی ہنگامی صورت حال کے پس منظر میں ہندوستان کا سوچھ بھارت مشن اس بات کی روشن نظیر ہے کہ عزم، اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور ملک گیر تعاون سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ سال 2014 میں شروع کی گئی اس پرجوش پہل نے ہندوستان کے صفائی ستھرائی کے منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا اور یہ نہ صرف ایک قومی پروگرام بن گیا ہے ، بلکہ وسیع تر عالمی تناظر میں بھی امید کی کرن ثابت ہوا ہے ۔ سوچھ بھارت مشن (2014-2019)کے ابتدائی مرحلے نے صفائی ستھرائی کے بارے میں بھارت کے اپروچ میں ایک اہم تبدیلی کا غماز ہے ۔ پانچ سال کی مدت میں 10 کروڑ سے زیادہ گھریلو بیت الخلا کی تعمیر نے صفائی ستھرائی کا کوریج 2014 میں صرف 39 فیصد سے بڑھا کر 2019 میں 100 فیصد کر دیا۔ مہاتما گاندھی کو ان کی 150 ویں جینتی پر خراج عقیدت پیش کرنے کے مقصد سے حاصل ہونے والے اس کارنامے نے یہ ثابت کردیا کہ اجتماعی کوششیں انقلاب برپا کر سکتی ہیں۔ یہ مشن انفرادی گھرانوں تک محدود نہیں رہا۔ اس نے مختلف شعبوں کو بھی متاثر کیا، دیگر وزارتوں نے شاہراہوں، پٹرول پمپوں،ریلوے ،اسکولوں،اسپتالوں اور دیگر علاقوں میں صفائی ستھرائی کے لیے 50,000 کروڑ روپے سے زیادہ مختص کیے ۔ محترمہ ونی مہاجن نے مزید کہاکہ اعداد و شمار کے سنگ میل سے آگے ، ایس بی ایم نے زندگیاں بچائیں، لوگوں کو معاشی طور پر بااختیاربنایا، اور ماحولیات کے تحفظ میں مدد کی۔ عالمی ادارہ ٔصحت (ڈبلیو ایچ او) نے 2018 میں تصدیق کی کہ ایس بی ایم کی وجہ سے 2014 کے اساسی سال کے مقابلے میں 2019 میں اسہال سے ہونے والی 3 لاکھ جانیں بچ گئیں۔ مزید برآں، 2017 میں یونیسیف کی تحقیق نے ایس بی ایم کے اثرات کے ایک اور پہلو کا انکشاف کیا : معاشی تفویض اختیارات۔ او ڈی ایف گاؤوں میں رہنے والے خاندانوں کو اوسطاً 50,000 روپے کی سالانہ بچت ہوئی، جو ان کے صحت کے اخراجات میں کمی کا براہ راست نتیجہ ہے ، جس سے ذرائع معاش پر صفائی ستھرائی کے اقدامات کے دور رس اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ یونیسیف کی جانب سے 2019 میں کیے گئے ایک جامع ماحولیاتی جائزے میں ماحولیات پر ایس بی ایم کے اثرات کو اجاگر کیا گیا ۔ او ڈی ایف گاؤوں میں زیر زمین پانی کی آلودگی کے امکانات 12.70 گنا کم ہوئے ۔تاہم، ایس بی ایم کے سب سے دور رس اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ کس طرح خواتین کی روزمرہ زندگی میں ایک معیاری تبدیلی آئی ہے جو اب اپنے تحفظ و سلامتی سے سمجھوتا کیے بغیر اپنے ارد گرد آزادی سے گھوم سکتی ہیں۔ یہ ایک بنیادی حق ہے جس کا استحقاق ہر فرد کو ہے ۔ اس کام یابی کا اعتراف یونیسیف نے 2017 میں بھی کیا تھا، جب اس نے بتایا تھا کہ جن علاقوں میں ایس بی ایم کے ذریعے بیت الخلا متعارف کرائے گئے ، وہاں 96 فیصد خواتین نے گھر پر تحفظ کے احساس کی اطلاع دی تھی۔انکے بقول پہلے مرحلے کی کامیابی کے ساتھ، ہندوستان 2020 میں ایس بی ایم – جی مرحلہ دوم میں چلا گیا، جس نے محض تعمیرات سے آگے بڑھ کر کھلے میں رفع حاجت سے پاک (او ڈی ایف) درجہ برقرار رکھنے اور ٹھوس اور مائع فضلے کے انتظام پر توجہ مرکوز کی۔ اس مشن کا مقصد اب مکمل صفائی ستھرائی ہے ، نیز گاؤں کو او ڈی ایف سے او ڈی ایف پلس میں تبدیل کرنا، 2030 تک سب کے لیے محفوظ بیت الخلا اور پانی فراہم کرنے کے عالمی ایجنڈے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا ہے ۔