کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے دورافتادہ علاقہ دچھن کے ہونزڈ میں بعد دوپہر اننت نالہ سے 71 روزبعدایک نعش برآمد ہوئی جسکے بعد اسے پی ایچ سی دچھن منتقل کیا گیا۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آج بعد دوپہر انہوںنے اننت نالے میں ڈاناگراری کے مقام پر پتھروں کے نیچے نعش دیکھی جسکے بعدپولیس کو اطلاع دی گئی اور بچائوکاروائی شروع کی گئی۔کئی گھنٹوں کے بعد اس نعش کو نکالا گیا۔ ایس ڈی پی او نثار خواجہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اسکی پہچان45 سالہ بشیر احمد ولد رستم علی کے طور ہوئی جو محکمہ جنگلات میں ملازم تعینات تھا اور بادل پھٹنے کے بعد لاپتہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ نالے میں پانی کا بہائو کم ہوگیا ہے جسکے سبب نعش کو دیکھا گیا اور اسے نکالا گیا۔ان کا کہناتھا کہ نعش کوسی ایچ سی سوید منتقل کیا گیاجسکے بعد اسکے قانونی لوازمات کے بعد آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے لواحقین کو سونپاگیا۔واضح رہے کہ اس سانحہ میں کل 26 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 7 افراد کی نعشوں کو نکالا گیا تھا جبکہ 19افراد ہنوز لاپتہ تھے۔ جبکہ 8رہایشی مکانات و 1 راشن ڈیپو بھی تباہ ہوگیا تھا۔ انتظامیہ نے ریسکیو آپریشن ا یک ماہ سے زائد عرصہ تک چلایاجس میں این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف ، پولیس، فوج و مقامی لوگوں نے حصہ لیا لیکن انھیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔