فضائی آلودگی تشویشناک حد تک بڑھ گئی، اعدادوشمار نا قابل یقین
بلال فرقانی
سرینگر//سرینگر میں بدھ کوفضائی آلودگی تشویشناک حد تک بڑھ گئی، جہاں ائر کوالٹی انڈیکس 183 ریکارڈ کیا گیا، جو غیر صحت بخش / انتہائی غیر صحت بخش کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ اعداد و شمار بدھ کی شام6 بجکر 22 منٹ58سکینڈ پر ریکارڈ کیے گئے۔طے شدہ ضوابط کے مطابق فضائی معیار اشاریہ کے پیمانے پر 0 سے 50 تک اچھی، 51 سے 100 معتدل، 101 سے 150 خراب، 151 سے 200 تک غیر صحت بخش، 201 سے 300 شدید جبکہ 301 سے زائد انتہائی خطرناک حالت کو ظاہر کرتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سرینگر میں پی ایم2.5 کی مقدار 102 مائیکروگرام فی مکعب میٹر جبکہ پی ایم10 کی سطح 160 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی اور قومی معیارات سے کہیں زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق باریک ذرات (پی ایم2.5) انسانی صحت کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ یہ سانس کے ذریعے پھیپھڑوں اور خون تک پہنچ جاتے ہیں۔ دیگر آلودہ گیسوں کی سطح نسبتاً کم رہی، جن میں کاربن مونو آکسائیڈ 336 پی پی بی، سلفر ڈائی آکسائیڈ 1، پی پی بی، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ 6 ،پی پی بی اور اوزون 2 ،پی پی بی شامل ہیں، تاہم مجموعی آلودگی کی بڑی وجہ معلق ذرات ہی بنے ہوئے ہیں۔
گزشتہ7نوں کا رجحان
سرینگر میں گزشتہ 7 دنوں کے دوران فضائی معیار میں شدید اتار چڑھاو دیکھا گیا۔ 11 دسمبر کو ائر کوالٹی انڈیکس نسبتاً بہتر رہا اور کم از کم 58 اور زیادہ سے زیادہ 53 ریکارڈ ہوا۔ تاہم 12 دسمبر کو آلودگی میں اضافہ ہوا، جہاں کم از کم ائر کوالٹی انڈیکس 66 اور زیادہ سے زیادہ 172 تک پہنچ گیا۔13 دسمبر کو شہر میں بدترین صورتحال دیکھی گئی، جب ائر کوالٹی انڈیکس کی زیادہ سے زیادہ سطح 173 اور کم از کم 156 ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح 15 دسمبر کو ائر کوالٹی انڈیکس کم از کم 162 اور زیادہ سے زیادہ 166 رہا۔ 16 دسمبر کو وقتی بہتری دیکھنے میں آئی، جب کم از کم ایئر کوالٹی انڈیکس77 رہا، تاہم زیادہ سے زیادہ سطح دوبارہ بڑھ کر 162 تک پہنچ گئی۔
سالانہ فضائی معیار کا جائزہ
سالانہ اعداد و شمار کے مطابق سرینگر میں فضائی معیار مسلسل غیر یقینی رہا ہے۔ 2020 میں اوسط ائر کوالٹی انڈیکس79، 2021 میں کوویڈ کے دوران 80 اور 2022 میں 87 ریکارڈ کیا گیا۔ 2023 میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی اور ائر کوالٹی انڈیکس 53 تک گر گیا، جو39 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔ تاہم یہ بہتری برقرار نہ رہ سکی اور 2024 میں ائر کوالٹی انڈیکس 68 جس دوران28 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 2025 میں 77 ریکارڈ کیا گیا۔تاریخی طور پر اکتوبر 2020 سرینگر کا سب سے زیادہ آلودہ مہینہ رہا، جب ائر کوالٹی انڈیکس193 تک پہنچ گیا، جبکہ فروری 2021 میں شہر نے سب سے صاف ہوا دیکھی، جہاں ائر کوالٹی انڈیکس صرف 4 ریکارڈ ہوا۔
دیگر میٹرو شہروں سے موازنہ
بدھ17دسمبر کے روز سرینگر کا ائر کوالٹی انڈیکس183 رہا جوملک کے کئی بڑے میٹرو شہروں سے زیادہ رہا۔ فضائی آلودگی کے لحاظ سے سری نگر نے احمد آباد166، ممبئی168، پونے171، حیدرآباد176، چنئی 155 اور بنگلورو89 کو پیچھے چھوڑ دیا۔صرف دہلی 238 اور کولکتہ 255 ایسے شہر رہے جہاں سرینگر سے زیادہ آلودگی ریکارڈ کی گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وادی کو بھی آلودگی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے،۔
صحت عامہ کے لیے خطرہ
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس سطح کی آلودگی سانس، دل اور پھیپھڑوں کے امراض میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے یہ صورتحال نہایت خطرناک ہے۔ غیر صحت بخش زمرے میں آنے والا ائر کوالٹی انڈیکس عام افراد پر بھی منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ ماحولیاتی کارکن ڈاکٹر میر مبشر شجاع نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر صحت سے متعلق ایڈوائزری جاری کرے، آلودگی کے ذرائع کو قابو میں لانے کے لیے مو ثر اقدامات کرے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دے، تاکہ سری نگر کی فضا مزید شدید یا خطرناک درجے تک نہ پہنچے۔