سرینگر // ہند وپاک حکومتوں کے درمیان جنگ بندی معاہدہ کے تین ماہ مکمل ہونے کے بعد سرحدی علاقوں میں رونقیں لوٹ آئی ہیں۔پچھلے تین ماہ سے کوئی گولہ باری نہیں ہوئی، نہ کہیں گولہ باری کا خوف ہے اور لوگ امن سے رہ رہے ہیں۔ آر پار افواج نے اس بار عید کے موقعہ پر ٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ پر ایک دوسرے میں مٹھایاں بھی تقسیم کیں۔کرناہ، کیرن اور اوڑی کے لوگ قریب 9برسوں بعد راحت کی سانس لے رہے ہیں۔کرناہ کے سرحدی دیہات ٹیٹوال ، سیماری ، کڑھامہ ، بیاڑی ، امروہی ، دھنی ، سعدپورہ ، جاڈہ ، ہجترہ ،چرکونجی ، ٹنگڈار، نوا گبرہ،جبڈی میں اب کوئی خوف نظر نہیں آرہا ہے۔ لوگ اپنے کھیتی باڑی کے کام کاج میں مصروف عمل ہیں۔یہی صورتحال اوڑی کے کمل کوٹ، چرنڈہ،گوالتہ،سلی کوٹ،گھر کوٹ،جبڈہ اور دیگر سرحدی دیہات کی ہے۔ جبڈہ، جو لائن آف کنٹرول پر اوڑی سیکٹر میں آخری گائوں ہے، میں پچھلے سال گولہ باری سے 50مکان تباہ ہوئے تھے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جموں کشمیر میں 2019میں 1629 فائر بندی کی خلاف ورزیاں ہوئیں جو 2020 میںدوگناہ اضافہ کیساتھ 3200تک پہنچ گئی تھیں۔صرف اوڑی میں 35بار جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔گذشتہ 9برسوں سے کرناہ، کیرن اور اوڑی کے دیہات میں لائن آف کنٹرول کیساتھ لگنے والے علاقوں میں صرف 30 فیصد کھیتی باڑی ممکن ہو سکی۔کرناہ کے قاضی حمید الدین قریشی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ تین ماہ امن قائم رہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کیلئے بہت بڑی بات ہے کہ وہ اپنے کھیتوں میں کام کررہے ہیں اور اپنے لئے ذریعہ معاش پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال2003میں بھی سرحدوں پر جنگ بندی کا ایک معاہدہ ہوا تھا لیکن پھر حالات کشیدہ ہوئے اور لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔کرناہ سیول سوسائٹی چیئرمین پیر زادہ ایس ڈی قریشی کہتے ہیں ’’ امن کی تمنا ہر کوئی رکھتا ہے لیکن دونوں ممالک سے ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ آر پار ترقی کیلئے امن ضروری ہے اور جس طرح کا اقدام دونوںحکومتوںنے پھر سے اٹھایا ہے، اس سے لگ رہا ہے کہ ایک بار پھر سرحدی آبادی کو راحت نصیب ہو گی‘‘ ۔گبرہ کرناہ کے سماجی کارکن غازی شبیر احمد کہتے ہیں کہ پچھلے تین ماہ سے اس سرحدی علاقے میں جو امن کا ماحول لوٹ آیا ہے اور دونوں حکومتوں کے اس اہم فیصلے سے سرحدوں کی رونقیں لوٹ آئی ہیں، وہ مقامی آبادی کیلئے نعمت سے کم نہیں ہیں۔کیونکہ یہاں گولہ باری سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن گئی تھیں اور روز حادثات پیش آتے تھے ۔اوڑی سیول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقے میں جنگ بندی معاہدے پر دوبارہ عملدر آمد سے غیر یقینی کی صورتحال ختم ہوگئی ہے۔انکا کہنا ہے کہ اعتماد بڑھانے کیلئے اب سرینگر مظفر آباد’ کاروان امن‘ بس سروس دوبارہ شروع کی جانی چاہیے نیز آرپار تجارت کی دوبارہ بحالی بہت اہم ہے جس سے باہمی اعتماد بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آر پار کراسنگ پوائنٹ کھولنے سے عوام کے درمیان رابطوں کی بحالی سے دوریاں مزید کم ہونگی۔