اسلام آباد // پاکستان نے بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ بدھ کے روز وزیر خزانہ حماد اظہر کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس میں پانچ لاکھ ٹن چینی بھارت سے درآمد کرنے کی منظوری دے دی گئی جبکہ کپاس کو درآمد کرنے کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان آرٹیکل370 منسوخ کرنے کے بعد تجارت پر پابندی عائد تھی۔تاہم گذشتہ سال مئی میں کورونا وائرس کی وبا کے پیشِ نظر حکومت نے بھارت سے ادویات کے لیے خام مال کی درآمد کی اجازت دے دی تھی۔وزیر خزانہ نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا ’’چینی کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر ہم نے پوری دنیا سے درآمدات کی اجازت دی لیکن باقی دنیا میں بھی چینی کی قیمتیں زیادہ ہیں جس کی وجہ سے درآمدات ممکن نہیںہے لیکن ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں چینی کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں کم ہے ، اس لئے ہم نے نجی شعبے کیلئے بھارت سے 5لاکھ ٹن تک چینی کی تجارت کھولنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہاں ہماری سپلائی کی صورٹھال بہتر ہوسکے اور جو معمولی کمی ہے وہ پوری ہوجائے‘‘۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت کپاس کی بہت زیادہ مانگ ہے، ہماری ٹیکسٹائل کی بر آمدات میں اضافہ ہوا اور پچھلے سال کپاس کی فصل اچھی نہیں ہوئی تھی تو ہم نے ساری دنیا سے کپاس کی در آمدات کی اجازت دی ہوئی ہے لیکن بھارت سے اجازت نہیں دی تھی کیونکہ اس کا براہ راست اثر چھوٹی صنعت پر پڑتا ہے کیونکہ بڑی صنعت تو مصر سمیت دیگر ممالک سے بھی منگا لیتی ہیں لیکن چھوٹی صنعتوں کیلئے یہ ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج وزارت کامرس کی تجویز پر ہم نے اقتصادی رابطہ کمیٹی میں فیصلہ کیا ہے کہ ہم بھارت سے کپاس کی بر آمدارت کی بھی اجازت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں چینی کی قیمت میں 20فیصد کا فرق ہے اور اس تجارت کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال کپاس در آمد کی جاتی ہے صرف بھارت سے تجارت کھول رہے ہیں تاکہ ہماری چھوٹی صنعتیں فائدہ اٹھا سکیں ورنہ تو کپاس پاکستان میں ہر سال در آمد کی جاتی ہے۔