عظمیٰ ویب ڈیسک
گلمرگ/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز گلمرگ گونڈولہ سروس کی بحالی کا افتتاح کیا، جس کے ساتھ ہی کشمیر کی اہم ترین سیاحتی سہولیات میں شمار ہونے والی یہ سروس تقریباً ایک ماہ کی بندش کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی۔
گونڈولہ سروس 25 مئی سے معطل تھی۔ شدید بارشوں اور گونڈولا کے پہلے مرحلے میں پیش آنے والی تکنیکی خرابی کے باعث اس کی خدمات روک دی گئی تھیں۔
سروس کی بحالی کے فوراً بعد بڑی تعداد میں سیاحوں نے گونڈولہ کا رخ کیا، جس سے سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور کاروباری حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جو طویل بندش سے متاثر ہوئے تھے۔
شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں واقع مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں افتتاحی تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ گونڈولا سروس ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں کو بدستور اپنی جانب متوجہ کرتی رہے گی۔
واضح رہے کہ 25 مئی کو خراب موسمی حالات اور تکنیکی خرابی کے باعث گونڈولہ آپریشن معطل کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں 65 کیبنوں میں سوار 300 سے زائد سیاح پھنس گئے تھے۔
بعد ازاں بھارتی فوج، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ کارروائی کے ذریعے تمام سیاحوں کو کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
گلمرگ گونڈولہ دنیا کے بلند ترین کیبل کار منصوبوں میں شمار ہوتی ہے اور کشمیر کی سیاحتی صنعت کا ایک اہم ستون مانی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق سروس کی بحالی سے قبل تمام لازمی حفاظتی جانچ، تکنیکی معائنے اور آزمائشی آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل کیے گئے تاکہ سیاحوں کی محفوظ سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایک ماہ بعد گلمرگ گونڈولہ سروس بحال، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے افتتاح کیا