ہمارے معاشرے پرہندی فلموں کے اثرات مرتب ہورہے ہیں اور یہ اثرات بہت ہی منفی ہوتے ہیں ۔ان فلموں میں عورتوں کی عزت کو تار تار ہوتا ہوا دکھایا جاتاہے ۔وہاں پر ایک آوارہ لڑکا کسی لڑکی کی عزت سے کھیلتا ہوا دکھایا جاتاہے۔ اسی عمل کی نقل اتارتے ہوئے معاشرے کا نوجوان لڑکیوں کو چھیڑتا ہے اور ان کی عزت سے کھیل کر اپنے آپ کو ہیرو جتانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اسی طرح سے فلموں میں ایک بیٹی باپ سے بغاوت کرتی ہوئی دکھائی جا تی ہے جب وہ کسی لڑکے سے پیار کا اظہار کرتی ہے اور اپنے ماں باپ کی عزت کا کچرہ کر دیتی ہے۔ ایسی لڑکی کو ان فلموں میں بہادراور سچا دکھایا جا تا ہے جب کہ اس عمل کی مخالفت کرنے والے باپ کو بزدل ،جھوٹا اور اس نام نہاد پیار اور محبت کا دشمن جتایا جاتاہے۔ اسی عمل کی نقل کرتے ہوئے معاشرے میں بیٹیاں اپنے گھر والوں سے بغاوت کر لیتی ہیں اورآوارہ گردیاں کر کے اپنے آپ کو فلموں کے دم پر سچا ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ بعض اوقات بچے والدین کو فلموں میں استعمال کیے گئے ڈائیلاگ سنا کر ان کا منہ بند کر دیتے ہیں۔ جو بیٹی باپ کے سامنے سر جھکا کر بات کرتی تھی، ہندی فلموں کی وجہ سے وہی بیٹی کھلم کھلا باپ سے بغاوت کرتی ہے۔ تقریباً تمام ہندی فلموں کا لب ِ لباب یہی ہو تا ہے کہ بیٹا یا بیٹی باپ سے بغاوت کر کے شادی کر لیتے ہیں اور پوری فلم اسی خیال کے ارد گرد گھومتی ہے جب کہ یہی عمل معاشرے میں دہرایا جاتا ہے اور ہمارا معاشرہ روز بہ روز بے غیرت، بے حیا اور باغی ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ فلموں میں عورتوں کے ساتھ ناشائستہ حرکات کو بڑے فخریہ انداز میں دکھایا جاتاہے۔ یہی نہیں بلکہ ان فلموں میں قتل، مار پیٹ اور چوری جیسی وارداتوں کو دکھایا جا تاہے جس کی وجہ سے معاشرے میں چوری اور قتل جیسی وارداتیں روز رونما ہوتی ہیں اور یہ قاتل اور چور اپنے آپ کو بچانے کے لئے وہی حربے آزماتے ہیں جو فلموں میں دکھائے جا تے ہیں۔ بہت سے چور اور قاتل ان باتوں کا اقرار بھی کر چکے ہیں کہ انہیں یہ ترغیب فلموں سے ملی ہے۔ فلموں میں لوگوں کو منشیات کا استعمال کرتے ہوئے بھی خوب دکھایا جاتاہے۔ اس عمل سے منشیات کا استعمال معاشرے میں بڑھتا جا رہا ہے اور فلموں سے متاثر ہونے والے نوجوان اسی انداز سے ان نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتے ہیں جس طرح ان فلموں میں دکھایا جا تاہے۔
اب آپ سبھی حضرات سمجھ گئے ہونگے کہ فلمیں ہمیں کس طرف لے جا رہی ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ ہم لوگ ایک نیک اور صالح معاشرے کے خواہ ہاں ہیں ۔آخر ایسا کیسے ہو سکتا ہیں جہاں ہر گھر کی دیوار پر ایک ٹیلی ویژن لگا دیا گیا ہو اور گھر کے سبھی لوگ بڑے شوق سے یہ ٹیلی ویژن اور اس پر دکھایا جانے والا ننگا ناچ دیکھ رہیں ہوں جس میں عورتوں کی عزتیں تار تار ہوتی ہوں، وہاں لڑکیوں کے لئے محفوظ معاشرے کی تمنا کیسے کی جا سکتی ہے؟ جہاں کوئی بھی فلم قتل اور چوری جیسے وارداتوں سے خالی نہ ہو ،وہاں ایک پرامن معاشرے کی تمنا کیسے کی جا سکتی ہے؟ اور جہاں فلمیں منشیات کو فروغ دیتی ہوں، وہاں منشیات سے پاک معاشرے کی آرزو کیسے کی جا سکتی ہے؟ یعنی ہم فلموں کے ذریعے کانٹے بوتے جا رہے ہیں اس لیے ہم پھولوں کی تمنا نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ ایک پرانی کہاوت ہے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ ہندی فلموں میں سماجی مسائل کا حل کم اور عریانیت زیادہ ہوتی ہے ۔یہ فلمیں معاشرے میں ایک میٹھے زہر کی طرح کام کرتی ہیں جس کہ وجہ سے ہمارا معاشرہ روز بروز عدم برداشت کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ فیشن پرستی کا بھی شکار بنتا جارہا ہے۔
والدین سے بھی میری گزارش ہے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ فلموں سے ان کے بچوں پر کس طرح کے اثرات مرتب ہورہے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو کس طرح سے ان مضر اثرات سے بچا سکتے ہیں ۔ مجھے ٹیلی ویژن سے اعتراض نہیں ہے لیکن ہمیں اس میں بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ٹیلی ویژن پر معلوماتی پروگرام بھی دکھائے جا تے ہیں۔ ایسے پروگرام دیکھنے سے بچوں کو فائدہ مل سکتا ہے لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے بچے ان فلموں کے عادی بن جائیں اور ان پر طرح طرح کے برے اثرات مرتب ہوں۔ اس لیے ہمیں اپنے گھروں کا ماحول بہتر بنانا چاہیے اور اپنے بچوں کو فلموں کے مضر اثرات کے بارے میں بڑے پیار سے سمجھانا چاہئے۔
رابطہ۔ اویل نورآباد ،کوگام کشمیر