کبھی آپ کو محسوس ہوا ہے کہ آپ کے ہمسائے آپ کی بہت عزت کرتے ہیں اگر محسوس ہوتا ہے اور سچ میں وہ آپ کی عزت کرتے ہیں تو بہت اچھی بات ویسے تو آج کل کے ماحول سے مجھے نہیں لگتا کہ کوئی کسی کی عزت کرتا ہوگا شروعات میں اسی بات سے کرتا ہوں کہ کچھ ہمسائے انا پرست ہوتے ہیں انھیں سلام کیا جائے تو جواب نہیں دیتے دعوت دی جائے تو قبول نہیں کرتے اور ہر ایک کو تنقید کی نظر سے دیکھتے ہیںاور ہر ایک میں نقص تلاش کرتے رہتے ہیں۔خیر ابتدا اگر برائی کرنے سے کی جائے تو بری بات مگر ہمارا معاشرہ اناپرست افراد سے بھرا پڑا ہے ۔ بات چل رہی تھی ہمسائے کی تو صاحب میرے ہمسائے مجھے ہمیشہ سے ہی بہت اچھے ملے ہیں جو میراہر طرح سے خیال رکھتے ہیں اگر ہمسائے کی داستاں بچپن سے شروع کروں تو آپ بوریت محسوس کروگے پھر بھی میں سنائوں گاکیونکہ مجھے سننے اورپڑھنے والے افرادبہت کم ہیں اور یہ ستم آپ کو سہنا ہوگا۔ آپ کو معلوم ہوگا گفتگو کے دو آداب ہے ایک جب بیگم بولے تو میاں سنے اور دوسرا جب میاں سنے تو بیگم بولے۔خیر یہ تو ہوئی ادھر ادھر کی بات اب بات کرتے ہیں ہمسائے کی ہمسائے ہونا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ وہ آپ پر اور آپ کے افراد خاندان پر نظریں جمائے رہتے ہیں اور آپ کے گھر کی ہر خبر رکھتے ہیںاور اس خبر کی تشہیر بھی بڑے سلیقے اورکامیابی کے ساتھ کرتے ہیں کہ کس کے گھر میں لڑائی جھگڑا ہوتا ہے کس کے گھر میں مہمانوں کا سیلاب کب امڈھ پڑتا ہے اخبار کب اور کون سا آتا ہے ایک چھوٹے سے ہوا دان سے بڑی بڑی باتیں باہر آجاتی ہے کچھ باتیں تو ہمسائے ایسی معلوم کر لیتے ہیں جو اہل خانہ کو بھی معلوم نہیں ہوتیں۔بچپن کی بات ہے میری پڑوسن آنٹی وہ بڑی اچھی تھیں میری والدہ جب اسکول چلی جاتیں اور میں اسکول سے آتا تو میرا بڑا خیال رکھتیںکھانا گرم کردیتی مجھے ان کے گھر میں بیٹھاتی جب میرے گھر دال بنتی میں ایک کٹوری میں دال لے جاتا اور ان کے پاس سے گوشت والا سالن لے آتاکبھی ان کے پاس دال بنی تو وہ مجھ سے سالن لانے کہہ دیتی کبھی کسی سالن کی تعریف کردوں تو پھر جب جب وہ سالن بناتیں ہمارے پاس بھیج دیا کرتیںابھی ۲۰۱۱ کی بات ہے حسین کالونی کے ایک چچی میرے حج میں میری ہمسایہ بنیں چچی کسی سے کوئی چیز شئیر نہیں کرتیں مگر مجھے برابر جو بناتیںبھیج دیتیںکیونکہ مجھے تعریف کرنے کا فن آتا ہے یہ تو ہوئی ابھی کی بات مگرجب ہم اپنے خود کے گھر میں آئے تو وہاں کے ہمسائے میری والدہ سے اکثر میری شکایت لگادیتے کہ آپ کا بچہ آپکی غیرموجودگی میں دوستوں کو جمع کرتا ہے دن بھر باہر کھیلتا ہے ہمارے چھت پرچڑھ جاتا ہے وغیرہ وغیرہ اس طرح کے قصہ اور کہانیاں ہر ایک کی زندگی میں ہوتے ہونگے۔پہلے ہمسائے ہر دکھ سکھ میں ساتھ دیا کرتے تھے اب گھر کے افراد ہی اپنوں کے دکھوں سے انجان نبے بیٹھے ہیں ایک شاعر نے بہت خوب کہا ہے کہ
پہلے کبھی پڑوسی ایک گھر کا حصہ ہوا کرتے
اب نہ جانے ایک ہی گھر میں کتنے پڑوسی رہتے ہیں
میرے ہمسائے ہیں دولھے بھائی ۳۰۰ اسکوئیرفت کی جگہ ہے اس میں ۳ منزلہ عمارت تعمیر کی اس عمارت میں ۳ کرائے دار اور ان کے ۲ شادی شدہ بچے اور وہ خود میاں بیوی داماد ایک کنوارہ بچہ رہتا ہے اور نیچے والی جو کرایہ دار ہے وہ اپنے خاوند کو بہت ڈانٹتی ہروقت آلوکے ابا کے نام سے شوہر کو پکارتیںہیں رات کا کھانا ۱۱ بجے بناتی ہے جب میںسونے کی کوشش کرتا ہوں مجھے اب ان کے شور کی عادت ہوگئی ایک رات نیند نہیں آرہی تھی بیگم کو کہا بیگم نیند نہیں آرہی تب بیگم کہنے لگی وہ آلو کی ممی کا شور سنائی نہیں دے رہا وہ کہیں شادی میں گئی ہوئی ہیںاس لیے شاید نیند نہیں آرہی۔کبھی کبھی ہمسائیوں کی اتنی عادت ہوجاتی ہے کہ ان کے بغیر کہیں دل نہیں لگتا۔
کہنے کیلئے بہت کچھ ہے مگر اپنی بات کو مختصر کرتے ہوئے کہ اکثر ہمسائے مہینے بھر کا کرانہ ہمارے ہی گھر سے مانگ کر لے جاتے ہیں کبھی ایک کپ دودھ دے دو کبھی دو ٹماٹر کبھی دال کبھی تیل ہم سونے کی تیاری میں رہتے ہیں ابھی نیند لگنے والی ہوتی ہے کہ دروازے پر دستک سنائی دیتی ہے وہ دستک یقینا ہم سائے کی ہوتی ہے کیونکہ وہ ہمارے نیند کے دشمن جو ٹھہرے ۔ ارے کل کی بات ہے ہمارے گھرچھوٹا کڑی پتے کا پودا ہے یہ پودااچھا خاصا بڑا اور ہرا بھراہوگیا تھا آج وہ پت جھڑ کے موسم میں درخت کی مانند ہوگیا ہمسائے کو اگرکچھ حق دو تو وہ ورثے میں کچھ ہاتھ نہیں آنے دیتے۔
بہترین ہمسائے ہونے کامزہ تو رمضان میںآتا ہے جب آپ صرف دو پھل لاتے ہورمضان کی برکت سے پورا دستر خوان بھر جاتا ہے اگر آپ کو ترکیب بتادوں دستر خوان بھرنے کی تو کیسا رہے گا ۔ ایک درجن کیلے اور ایک بڑا تربوز لائیے اسے اطراف کے چار سے پانچ گھر میں تقسیم کردیجئے ان شاء اللہ وہ آپ کے برتن خالی نہیں دینگے۔
دوستو! ہمسائے ہونا بہت ضروری ہے وہ ہمارے اچھے برے وقت میں کام آتے ہیں مگر اس کے لئے ہمیں بے غرض بننا ہوگا ہروقت ان کی مدد کا سوچ کر ان کے ساتھ بھلائی کرنی ہوگی تبھی تو وہ رشتے داروں سے بڑھ آپ کی مدد کرینگے۔
ایک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے
آئو رکھتے ہیں ثمر گھر کی منڈیروںپہ چراغ
کچھ تو ہمسائے کے گھر میں اجالاجائے
��������