اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں عدل و انصاف کی تعریف کر کے عام انسان کے لیے ایک راہ ہموار کی ہے۔اس طرح سے اسلام میں عدل و انصاف کو قائم کرنا بنیادی فریضہ ہے ۔ اس کے بغیر اس دیار ِ فانی کے ساتھ ساتھ دیارِبقا کی زندگی بھی خراب ہوجاتی ہے ۔انصاف انفرادی سطح پر ایک انسان اور اجتماعی طور پر ایک قوم کے ہاتھوں میں ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جس کے ذریعے وہ انسان اور قوم اُن بلندیوں کو چھونے میں کامیاب ہوجاتا ہے جن تک پہنچنے کا اُسے وہم و گمان بھی نہ ہوگا ۔عصر حاضر یا موجودہ معاشرے میں عدل و انصاف کو خالص عدالتوں اورگورنمٹ محکموں تک محدود رکھا گیا ہے ،لیکن ایک عام فرد کی بھی انفرادی سطح پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی سے کام نہ لے بلکہ ہر ممکن کوشش کو بروئے کار لاکر اپنی ذمہ داری کو پورا کرے ۔ دُنیا میں رہنے والے ہر ایک انسان چاہے وہ کسی بھی مذہب یا کسی بھی قوم اور کام سے تعلق رکھنے والا کیوں نہ ہو ،عدل و انصاف سے خود کو دور نہیں رکھ سکتا۔ یہ ایک ایسا چیز ہے جس کے بغیر دُنیاوآخرت کی گاڑی چل ہی نہیں سکتی۔ اسے عملاکر انسانیت ہی نہیں بلکہ چرند و پرند بھی تباہی اور آسمانی آفت سے پہنچ جاتے ہیں ۔ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر ایک کو اپنے اپنے حقوق دیئے جائیں تاکہ دُنیا اور اس میں رہنے والے سبھی مخلوق چین وسکون کی زندگی بسر کرسکیں گے، ورنہ بغیر عدل کے بہت ساری زندگیاں ضائع ، گھروں کے گھر اور ساتھ ہی پوری قوم اُجڑ جاتی ہے ۔ ماں باپ اپنے اولاد سے،اولاد اپنے ماں باپ سے ، میاں بیوی آپسمیں میں ،وغیرہ انصاف کا معاملہ کریں کیونکہ جس گھر ،قوم یا مُلک میں عدل و انصاف کی کرنیں طلوع ہوجاتی ہے تو وہ قوم یا مُلک کبھی بھی زوال کا شکار نہیں ہو جائے گی لیکن جس گھر یاقوم میں عدل و انصاف کی لہریں گردش کرنی چھوڑ دیتی ہے تو پورا سماج یقینی طور زوال کا شکار ہوجاتا ہے۔ بقول اقبال
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دُنیا کی امامت کا
انصاف کے معنی ہے ایک دوسرے کو اُ س کا برابر حق دینا یعنی برابری کا معاملہ کرنا ہے۔ ہر ایک کو اُ س کا حق دے دینا تاکہ آپسی جھگڑوں اوربات بات کے تنائو سے قوم کو بچالیا جائے۔ ایسا نہ ہوکہ کوئی عام انسان، حکمران یا کوئی طاقت کے نشے میں سامنے والے کو ذلیل کرے ۔ایسا کرنے سے سامنے والے کے دل پر کیا بیت رہی ہوتی ہے اُس کا اندازہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ جس انداز سے قرآن و سنت کی عملی تعلیم میں ہمیں عدل و انصاف کو سکھایا گیا تھا لیکن بدقسمتی کی وجہ سے مسلم امہ نے اسے بھلا دیا ہے۔ چاہے گھروں کی بات کریں یا قوم کی ہر جگہ عدل و انصاف کا جنازہ نکالا گیا ہے۔ انصاف نہ ملنے کی وجہ سے والدین اولاد سے ، ہمسایہ دوسرے ہمسائیوں سے ، رعایا حکمرانوں سے بے زار نظر آتے ہیں ۔قرآن پاک میں آیا ہے۔
’’اﷲ تعالیٰ اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ جب لوگوں کا( خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں ) تصفیہ (فیصلہ) کیا کرو تو عدل سے تصفیہ کیا کرو ـ‘‘
(سورہ النساء ، آیت نمبر :۵۸)
الغرض یہ ہے کہ میں کسی بھی مخصوص قوم یا افراد کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہتا بلکہ اس وقت کی انسانیت کو مشکلات سے نکالنے کیلئے اُنہیں پیسوں اور اس صارفیت کے دور میں انصاف کی اشد ضرورت سے باخبر کرانا چاہتاہوںتاکہ پورا سماج اپنے مقصد زندگی کو پانے میں کامیاب و کامران ہوجائیں۔والدین بچوں کو ، اُستاد شاگرد کو ، ہمسایہ دوسرے ہمسائیوں کو، غرض ہر کو اپنی استطاعت کے مطابق عدل اور انصاف سے کام لینا چاہیے کیونکہ کوئی بھی چیز بغیر محنت کے وجود میں نہیں آتا ہے۔ عدل و انصاف نہ ملنے کی وجہ سے انسانیت در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہیںیعنی انسانیت کا اس طرح خاتمہ ہو رہاہے جیسے کہ ایک پرندہ بند پنجرے میں کھانا نہ ملنے کی وجہ سے اپنی جان گوا بیٹھتاہے ۔ جو بھی قوم انصاف کو عام کرنے میں لگ جاتی ہے وہ ترقی کی اُس راہ پر گامزن ہوجاتی ہے کہ جس کی اُڑان ایک ہوائی جہاز سے بھی تیز اور بلند ہوتی ہے ۔ خالی ٹیکنالوجی کا بڑھانا ،پیسوں کا جمع کرنا ، بڑے بڑے بنگلوں میں رہ کر عیش و آرام کی زندگی بسر کرنا ترقی نہیں کہلاتی ہے بلکہ گھروں ،علاقوں اور مُلک وقوم کے اندر ایسا ماحول پیدا کرنا کہ جس میں رہ کر ہر کوئی اپنا کام ایمان داری ،دیانتداری اور سچائی سے سر انجام دیتا ہو اور ساتھ ہی ہر کوئی اپنے آپکو محفوظ سمجھ کر بغیر کسی خوف کے اپنی زندگی کو اُس آزاد پرندے کی طرح بسر کرے جس کی پرواز کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتاہے۔ ایک عام انسان سے لے کر بڑے بڑے آفیسر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ و ہ اپنی اپنی ذمہ داری سمجھ کر عدل و انصاف سے کام لے کر قوم اور سماج میں رہنے والوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں ۔ ورنہ جس قوم میں بددیانتی،جھوٹ اور ناانصافی کا ماحول گرم ہوتا ہے وہ قوم کبھی بھی عروج نہیں پا سکتی ہے ۔ اس سے بچنے کیلئے ہم سب کو مل کر یہ عہد کر لینا چاہئے کہ ہر شخص اپنی انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک کے سارے کاموں میں عدل و انصاف سے کام لیں تاکہ اُجڑا چمن پھر سے پھولوں کی مہک سے آباد ہو جائے۔ آمین !!!