واقعہ معاشرے کیلئے سنگین خطرے کی گھنٹی قرار
بلال فرقانی
سرینگر//بڈگام میں کمسن بچی کے ساتھ پیش آئے انسانیت سوز واقعے نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔جبکہ مختلف مذہبی، سماجی، تجارتی انجمنوں اور قانونی ماہرین نے اس افسوسناک سانحہ کو معاشرے کیلئے سنگین خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے اجتماعی بیداری، اخلاقی تربیت اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف مذمتی بیانات یا وقتی ماتم سے حالات تبدیل نہیں ہوں گے بلکہ والدین، علماء، اساتذہ، سماجی اداروں اور حکومت کو مشترکہ طور پر سماجی و اخلاقی زوال، منشیات، عدم جوابدہی اور جرائم کے بڑھتے رجحان کے خلاف موثر مہم چلانی ہوگی۔
جموں و کشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے مبینہ زیادتی اور قتل کو ہولناک قرار دیتے ہوئے مجرموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا اور معاشرے سے اپیل کی کہ وہ اجتماعی طور پر خود کا جائزہ لیں اور اخلاقی گراوٹ کو دور کریں۔انہون نے کہا کہ اسلامی تعلیمات سے دور رہنے کے نتیجے میں اس طرح کے گھناونے جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے اور منشیات سمیت دیگر جرائم کی رفتار بڑھ رہی ہے۔انکا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی بے راہ روی ایک چیلنج بن گیا ہے، س کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ملوث مجرموں کیلئے اوپن کورٹ ٹرائل اور عبرتناک سزائوں کا بھی مطالبہ کیا ۔سیول سوسائٹی فورم سربراہ عبدالقیوم وانی نے کہا ہے کہ صرف ماتم کرنے یا افسوس ظاہر کرنے سے مسئلے حل نہیں ہوں گے بلکہ پورے سماج کو عملی سطح پر بیدار ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ معاشرہ اخلاقی، سماجی اور انسانی اقدار کو فراموش کرتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس طرح کے افسوسناک واقعات سامنے آ رہے ہیں۔عبدالقیوم وانی نے تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم اور کردار سازی پر خصوصی زور دینے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں انسانی اقدار، احترامِ انسانیت اور سماجی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔معروف قانون دان ایڈوکیٹ اعجاز احمد ڈار نے سوشل میڈیا پر متاثرہ بچوں اور بچیوں کی تصاویر اور شناخت عام کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جرم کا شکار معصوم بچوں کی تصاویر یا شناخت کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا نہ صرف غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ قانونا بھی سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کے مطابق بی این ایس کی دفعہ 72، آئی پی سی کی دفعہ 228،اے، پوکسو ایکٹ کی دفعہ 23 اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت متاثرہ کی شناخت ظاہر کرنا قابلِ سزا جرم ہے۔ایڈوکیٹ اعجاز ڈار نے کہا کہ ان قوانین کا بنیادی مقصد متاثرہ اور اس کے اہل خانہ کی عزت، وقار اور شناخت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔سکھ کارڈی نیشن کمیٹی کے سربراہ جگموہن سنگھ رینہ نے کہا کہ کشمیر کبھی جرائم سے پاک اور پرامن معاشرے کے طور پر جانا جاتا تھا، تاہم اب کرائم کی بڑھتی وارداتیں باعثِ فکر بن رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بگاڑ کو روکنے کیلئے مذہبی رہنمائوں، مولویوں، پنڈتوں اور گیانیوں کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ صرف حکومتیں اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتیں بلکہ پورے سماج کو مل کر ذمہ داری نبھانی ہوگی۔کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے جنرل سیکریٹری فیض احمد بخشی نے کہا ہے کہ معاشرے میں بڑھتے جرائم کی روک تھام کیلئے گھروں میں اخلاقی تعلیم کو فروغ دینا اور سماج کا اجتماعی طور پر ایسے معاملات کے خلاف کھڑا ہونا انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ جرائم میں سزا کی کم شرح اور مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر بھی ایسے عناصر کے حوصلے بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ ان کے مطابق جب مجرموں کو بروقت اور موثر سزا نہیں ملتی تو اس سے جرائم کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے۔فیض احمد بخشی نے جوابدہی کے نظام میں فقدان، منشیات کے بڑھتے استعمال اور معاشرے میں پائی جانے والی غیر مساوی صورتحال کو بھی اس سماجی بگاڑ کا اہم سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت، عدلیہ، تعلیمی اداروں اور سماج کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔