توصیف رضا
کتابیں پڑھنا اور اُن کا تقابل کرنا ،اُن کا معیار پرکھنا ایک کٹھن کام ہےاور پھراُن پر اپنی راے قائم کرنا کچھ زیادہ ہی مشکل کام ہے ۔ پچھلے مہینے جن چند کتابوںکے مطالعہ کا موقعہ ملا ، اُن میں ڈاکٹر درخشاں انداربی کا شعری مجموعہ بنام ’’ہتھیلی پہ سورج‘‘ بھی شامل ہے ۔یہ کتاب چھوٹی بڑی پچاس آزاد نظموں پر منظم ہے۔ ہر نظم اپنے آپ میں ایک دنیا ہے ۔ کچھ نظمیں تخلیق کے اعتبار سے نئے تجربات ہیں مگر کچھ نظموں میں پُرانے تجربوں کو وسعت بخشنے کا ایک وسیلا نظر آتا ہے۔ ان نظموں کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اُن کاذائقہ خوب اور انوکھا ہے ۔ نیم کی کڑواہٹ اور آم کی مٹھاس کو یکجا کر کے ایک نئی عبارت سامنے رکھ دی گئی ہے ۔ پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ وادی کشمیر میں بکھرے ہوئے موجود نسوانی کرب و احتجاج کو ایسی زبان دی گئی ہے، جس کی شعلگی قاری کو جھلساتی نہیں بلکہ چِنار کے درختوں کی آگ کا لُطف عطا کرتی ہے۔گویا یہ نظمیں ایک روشن مستقبل کا پتہ دے رہی ہیں ،جس سے آنے والے ہزاروں چراغ روشن ہوںگے ۔ اس روشنی نے ہتھیلی پر سورج سجالیا ہے ۔ وہ اُجالوں کے دیش میں کھڑی دکھائی دے رہی ہے جہاں اندھیرے خود خوف زدہ ہوکر اس کے تعاقُب میںہیں، شاید وہ بھی کِرن کِرن روشنی کے آرزومند ہیں ۔ فِکر کی وادی میں ہر نظم ایک اَلاو کی مانند سُلگ رہی ہے ۔ آگ چونکہ بَرفیلی ہے، لہٰذا شاعرہ کے انداز، فکر اور طرزِ بیان میں ٹھنڈے سے ٹھہراو کا احساس ہوتا ہے ۔ یہ شاعری دراصل حالات ِکشیدہ مگر قابو میں ہے ۔ بِلاشُبہ اِن نظموں کو پڑھنا مُدتوں کے بعد غُسل کے لُطف کے مُترادف ہے ۔ وہ ایک غزل ہی تھی ،جس نے میرا رشتہ درخشاں انداربی کے ساتھ جوڑا تھا ۔ ظاہری طورمیں اِن سے نہیں ملا ہوں مگر ادبی مُلاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ اکثر اُن کی کتابوں کےذریعے اُن سے باتیں کرتا رہتا ہوں ۔ درخشاں انداربی کی شُستہ زبان، آسان لہجہ اور فِکر انگیز اندازِ بیان انہیں اردو ادب میں ایک اعلیٰ مقام عطا کرنے کے لیے کافی ہے۔اُن کی نظمیں بھی اُن کی غزلوں کی طرح ہی ہیں۔ اردو شاعری میں نئے لہجے کی تخلیقات ہیں ۔ درخشاں انداربی کا انسانی نفسیات کا مطالعہ کافی گہرا ہے ۔ اس کتاب میں پائی جانے والی نظموں میں کائنات کے اسرار و رموز، عِرفان و آگہی کی زبان بولتے ہیں ۔ یہ شاعری جلال و جمال کی شاعری ہے ۔ اُن کی نظمیہ شاعری بھی اُن کی غزلوں کی ہی طرح انسانی احساس کو ایک نئی لذّت اور فرحت عطا کرتی ہے۔ اس کتاب کے دلچسپ اور گہرے مطالعے کے بعد کئی ایسے اسرار ہیں، جو مجھ پر کُھل کر سامنے آئے ۔ دراصل شاعری ایک الہام ہے، جس کے لئے یہ ضروری نہيں کہ زبان کس معیار کی ہے ۔ درخشاں انداربی کا اسلوب اور اندازِ بیان اگر چہ سلیس اور خوبصورت ہے مگر نظموں کی گیرائی اور اظہار خیال پڑھنے والے کو متاثر کئے بغیر نہیں چھوڑتا۔ بلینک ورس پوئم ہمارے یہاں مغرب سے مستعار لی گئی ہے ۔ ردائف اور قوافی سے معریٰ و مُبریٰ اس انداز کی شاعری کو ترقی پسند دور میں فروغ حاصل ہوا ۔ دراصل اُس وقت کے شعرا کا اہم مسئلہ ملک کو غلامی کے طوق و سلاسل سے رِہا کرانا تھا اور طبقاتی کشاکش کو دور کرنے کے لیے ایک ایسے زبان کی ضرورت تھی جو قوافی کی محتاج نہ ہو، سَہل ہو اور جس کے وسیلے سے قوم کے مسائل کو بہ آسانی بیان کیا جا سکے۔
بلینک ورس لکھنے والے کچھ شعرا ایسے بھی ہیں جن کی نظموں میں خیال کے تسلسُل کے ساتھ ساتھ گہرای معنویت بھی پائی جاتی ہے اور وہ ناقابلِ فہم بھی نہیں ہیں ۔ ڈاکٹر درخشاں انداربی بھی نظم کی ایک ایک ایسی ہی شاعرہ ہیں جو درونِ ذات اور کائنات پر مبنی اپنے تجربات و مُشاہدات اور نازک ترین احساسات کو علامات و استعارات کی زبان میں کچھ ایسے دلکش اور موثر اسلوب میں بیان کرتی ہیں کہ اُن کی جدت کا طلسم کدۂ حیرت دلوں کو مسخر کرتا ہے ۔ وہ اظہارِ بیان کے طور پر جو الفاظ اور استعارات انتخاب کرتی ہیں وہ اُن کے موضوع اور خیال کی معنویت کے ترسیل و ابلاغ کی راہ میں رخنہ انداز نہیں ہوتے ہیں اور شاعر کے اندرون میں ہلچل پیدا کرنے والے متلاطم جذبات اور احساسات پڑھنے والوں کے دلوں میں خود بخود منتقل ہوکر انہیں اپنے شکنجے میں کَس لیتے ہیں ۔
الفاظ کی گرفت میں نہ آنے والے احساسات کو تخلیق کے سانچے میں وہی ڈال سکتا ہے، جسے مَن چاہے مفاہیم برآمد کرنے کا ہُنر آتا ہو اور جسے اپنے فن پر عبور حاصل ہو ۔ ڈاکٹر درخشاں انداربی ایک ایسی ماہرِ فَن شاعرہ ہے جنہوں نے اس کتاب میں درجنوں معرکتہ الآرا اور شاہکار نظمیں تخلیق کرکے اپنے آفریدگارانہ و سخنورانہ اور خلاقانہ، ساحرانہ جمال و کمال کے دریا بہادئے ہیں ۔ مثال کے لئے بہت ساری نظموں کا ذکر کیا جا سکتا ہے مگر یہاں ان شاندار نظم ’’رتجگا‘‘ کا حوالہ ہی کافی ہوگا ۔ یہ نظم گزری ہوئی جاں افروز اور حیات بخش ساعتوں کی بازیافت کے تفاعل سے منسوب ہے کہ رات اور تنہائی میں شب بیداری ،ماضی کے اُجلے نقوش کی درخشانی و تابناکی سے حزن و یاس کی سیاہی کو اس کے منفی تاثرات سے محروم کرکے اپنی دلجمعی و خوشی کے بہانے تلاش کر ہی لیتی ہے ۔ نظم کی اختتامیہ سطریں بذاتِ خود موضوع کا خلاصہ ہیں، ملاحظہ فرمایں ۔
’’میں رات کے تہہ خانے میں
گُپ چُپ
اُجالے کے آبشار کے نیچے
نہا رہی ہوں‘‘
کتاب کا مطالعہ جاری تھا اور میری حیرت کی انتہا عروج پر تھی جب میں نے نظم ’’جدائی‘‘ پڑھی، تو حیرت دریا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر بَن گيا ۔ شاعرہ نے اس نظم کو بھی اپنے منفرد اسلوب سے بخوبی پیش کیا ہے ۔ متفرق اور متضاد آوازوں کے باہم تصادم کے نتیجے میں دو فریقوں کے مابین وسیع ہوتی دوری کی کھائی اور کسی کے صبر کی متنازعہ فیہ کیفیت کا حسين شعری اسلوب ملتا ہے اس نظم میں:
’’طرح طرح کی آوازوں کے تصادُم میں
موسیقی کے تار ایسے بج رہے ہیں
جیسے تمہاری خوشحالی میں
فِقر کی طرح بج رہی ہوں‘‘
اس نظم میں نا گفتہ با حالات بیان کئے گئے ہیں ۔ ایک ایسی حالت جہاں ایک چھت کے نیچے،ایسے نا گفتہ با حالت میں جب کہ ایک ساتھ رہنا جہنمی عذاب جھیلنے کے مُترادف ہو جائے تو علاحیدگی یا ترکِ تعلق سے بہتر راستہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ لِہٰذا اس موقع پر شاعرہ کا یہ مشورہ فطری اور درست ہی معلوم ہوتا ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں
’’آو ایک تیسرے راستے پر کچھ قدم ساتھ چلیں
تُم مشرق کی جانب چند قدم نکلو
میں مغرب کی جانب چند قدم جاوں
مزید اس طرح مخالف سمتوں میں قدم بہ قدم آگے‘‘
بڑھتے ہوے فاصلہ نا قابلِ عبور ہوجائیں تو سارے مسائل خود بخود حَل ہوجائیں گے۔ تعلق کے سارے بندھن ٹوٹ جانے پر جو بیگانہ وشی جنم لےگی وہی اس مشکل کا حقیقی حل ہوگی ۔ پھر اس کے بعد اتفاقاّ وہ کبھی سرِ راہ ملے بھی تو اجنبیوں کی طرح ایک دوسرے کے قریب ہوکر کچھ طرح گزریں گے۔
’’پھر اگر ہم لوٹ بھی آئیں
تو پھر با آسانی ایک دوسرے کے پاس سے نکل سکتے ہیں
اپنی اپنی سمتوں کی اور‘‘
اس نظم یہ بتايا گيا ہے کہ رشتے باہمی عزت، قدر و منزلت، مفاہمت اور حقیقی مہر و محبت کے جذبے سے استوار ہوتے ہیں ۔ جن رشتوں میں یہ خوبیاں ہوتی ہے وہی سالم رشتے کہلانے کا استحاق رکھتے ہیں وگرنہ ایک ساتھ ایک جگہ رہنا دشوار ہو جاتا ہے ۔ محبتوں کے جذبات اور باہم مفاہمت کے بغیر حاصل ہوئی قُربت کیا ہوتی ہے ،ایسی قربتوں کا انجام کیا ہوتا ہے شاعرہ نے اس بات کا گہرا تجربہ ہونے کا احساس ظاہر کیا ہے ۔ اُن کی نظم ’’جدائی‘‘ میں سالم رشتے بنانے کے بنیادی اصولوں کی تعلیم ملتی ہے ۔ باہمی رشتے میں خودسپردگی ،سُکھ دُکھ کے اظہار جیسے اہم چیزوں کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ درخشاں انداربی کی ہر ایک نظم ایک احتجائی آواز بن کر لوگوں کے سوئے ہوئے ضمیر جگانے کی کوشش کرتی ہے ۔ پہلے بھی اس بات کاذکر ہو چکا ہے کہ شاعرہ نے انسانی نفسیات کا مطالعہ کافی گہرائی کے ساتھ کیا ہے، اسی مطالعے کا نتیجہ یہ نظمیں ہیں ۔ دراصل یہ نظمیں کسی ریسرچ سے کم نہیں ۔ ہر نظم میں انسانی احساس اور نفسیات کا ایک ایک پڑاو ملتا ہے۔ اس کتاب کے سنجیدہ مطالعہ سے کافی شعرا، طالب علم، محقق اور نقاد حضرات استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔