مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن کے گور نمنٹ ہائی سکول چھونگاں چروان کی دو منزلہ عمارت گزشتہ 2برسوں سے زیر تعمیر ہے تاہم تعمیراتی عمل شروع کرنے کیساتھ ہی ٹھیکیدار غائب ہوگیا تھاتاہم متعلقہ محکمہ نے ابھی تک عمارت کو مکمل کرنے کیلئے کوئی متبادل عملی قدم نہیں اٹھایا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ سکول میں بچوں کو بیٹھنے کی جگہ فراہم کرنے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے 2برس قبل ایک دو منزلہ عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں ٹینڈرنگ کی گئی تھی تاہم ٹینڈر لگانے کے بعد متعلقہ ٹھیکیدار نے تعمیراتی عمل شروع کیا تھا لیکن عمارت کی بنیادیں تعمیر کرنے کے بعد ٹھیکیدار غائب ہو گیا جس کی وجہ سے ابھی تک تعمیراتی عمل التوا کا شکار ہے ۔انہوں نے کہاکہ عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں کئی مرتبہ اعلیٰ حکام و متعلقہ آفیسران سے رجوع کیا گیا تاکہ بچوں کو سہولیات میسر کروائی جاسکیں تاہم ہر مرتبہ جھوٹی یقین دہانیاں کروانے کے بعد کوئی عملی کام نہیں ہوسکا ۔مقامی سرپنچ نے بتایا کہ گور نمنٹ ہائی سکول ایک عمارت پر قائم ہے جبکہ اس سکول میں 300سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں تاہم ان کے بیٹھنے کیلئے 4کمروں کی ایک عمارت موجود ہے جس میں سبھی کلاسوں کے بچوں کو تعلیم فراہم کر نے تکنیکی طورپر ناممکن عمل ہے ۔انہوں نے بتایا کہ بچوں کی زیادہ تعلیم کووڈ کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے تاہم سکول میں بھی ان کا وقت ہی ضائع ہو تا ہے کیونکہ ابھی تک بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں ہیں ۔پنچایتی اراکین نے الزا م عائد کرتے ہوئے کہاکہ عمارت کی تعمیر ٹھیکیدار اور متعلقہ محکمہ کی لاپرواہی کی وجہ سے التواء کا شکار ہو گئی ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ ٹھیکیدار کا کارڈ منسوخ کرنے کیساتھ ساتھ عمارت کو مکمل کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔