بانہال // ضلع رام بن میں پی ایم جی ایس وائی ایجنسی کے ذریعے تعمیر کی جانے والی ایک رابطہ سڑک کی تعمیر کی وجہ سے ہائی سکول بلیہوت زون رام بن کی عمارت بڑے بڑے پتھروں اور ملبے کی زد میں آنے کی وجہ سے تباہ ہوگئی ہے اور ہائی سکول کا نظام مقامی پنچایت گھر سے چلایا جا رہا ہے۔ اگرچہ سڑک تعمیر کرنے والی ایجنسی کو ہائی سکول بلیہوت کے دو کمرے گرانے کی سرکاری طور اجازت دی گئی تھی تاہم مبینہ طور پر سکول انتظامیہ اور ٹھکیدار کی سانٹھ گانٹھ کی وجہ سے ہائی سکول بلیہوت کی عمارت کے چاروں کمرے منہدم کئے گئے۔ اس کے علاوہ گذشتہ سال رمسا کے تحت تعمیر کئے گئے اضافی سکول روم کا سیٹ اور دو باتھ روم سیٹ بھی بغیر کسی اجازت اور اطلاع کے رات کے اوقات میں بلڈوزر لگا کر بھاری پتھروں اور ملبے کے نیچے دفن کئے گئے ہیں۔ پرانی سکول عمارت کی جگہ پر سکول کی نئی عمارت تعمیر کی جا رہی ہے لیکن سکول کو غیر قانونی طریقے سے منہدم کئے جانے کی وجہ سے ہائی سکول بلیہوت کے سینکڑوں بچے دربدر ہوگئے ہیں اور سکول کو پنچایت گھر بلیہوت کے تین کمروں سے چلایا جارہا ہے۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ اپریل کے مہینے میں سرکاری ہائی سکول بلیہوت کی اس بلاوجہ اور بلا اجازت کی تباہی کو لیکر بلیہوت کے عام لوگوں اور ولیج ایجوکیشن کمیٹی بلیہوت کے ممبران نے پی ایم جی ایس وائی کے ٹھکیدار کے خلاف اپنے غم وغصے کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں واقع کے دوسرے ہی دن ایجوکیشن کمیٹی اور ہیڈ ماسٹر بلیہوت نے زونل ایجوکیشن افسر رام بن کو ایک تحریری درخواست بھی تفصیلات کے ساتھ لکھ دی لیکن محکمہ تعلیم کے ذمہ داروں کی عدم توجہی اور مبینہ خاموشی کی وجہ سے اس سلسلے میں کوئی قانونی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سکول انتظامیہ اور تعلیمی زونل افسر رام بن نے ٹھکیدار کے خلاف کوئی کاروائی کے بجائے خاموشی اختیار کی اور علاقے کے دو سو سے زائید بچوں کی تعلیم متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی عمارت کے دو کے بجائے چار کمروں کو منہدم کرنے کے بعد سیری سے سینچا تک تعمیر کی جانے والی اس سڑک پر رات کے اندھیرے میں بلڈوزر لگا کرسکول کی نئی اضافی عمارت اور دو باتھ روموں کو بڑے بڑے بولڈروں کو گرا کر تباہ کیا گیا اور ٹھیکدار کی طرف سے نئی عمارت اور باتھ بنانے کا وعدہ بھی کیا گیا لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا جا سکا ہے اور اس کی سزا علاقے کے غریب بچوں کواپنی تعلیم کی قربانی دیکر بھگتنا پڑرہی ہے۔ انہوں نے کہا پنچایت گھر کے تین کمروں میں تین کلاسوں کو بیٹھایا جاتا ہے جبکہ سات کلاسز اور سٹاف ممبران کو باہر کھلے آسمان اور تیز دھوپ میں بیٹھنا مجبوری بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہیڈ ماسٹر ہائی سکول اور ولیج ایجوکیشن کمیٹی بلیہوت کی طرف سے زونل ایجوکیشن افسر رام بن کو ایک چھٹی زیر نمبر HSB/18/364 مورخہ 14 اپریل 2018 کوتحریر کی گئی اور مکمل تفصیل سے آگاہ کیا گیا ،تاکہ اس سلسلے میں پولیس کیس درج کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا زونل ایجوکیشن افسر رام بن نے پولیس کاروائی کرنے کے بجائے اس معاملے کو ایک خط زیر نمبر ZEO/R/18/SSA/1851 مورخہ 04 مئی 2018 کے تحت چیف ایجوکیشن افسر رام بن کو نوٹس میں لاکر اپنے سر کا بوجھ ہلکا کرکے معاملے کو ہی گول کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن کمیٹی کی طرف سے معاملہ رام بن پولیس کی بھی نوٹس میں لایا گیا لیکن انہوں نے اس معاملے کو محکمہ تعلیم کے ذریعے پولیس کو بھیجنے کی صلاح دی لیکن محکمہ تعلیم کے کسی بھی ذمہ دار نے کوئی بھی کاروائی نہ کی بلکہ ہیڈ ماسٹر اور زونل ایجوکیشن افسر ایک دوسرے کو پولیس کیس کرنے کیلئے ذمہ دار گرانتے ہوئے معاملہ کو ملکر بانٹ کر دبا ہی گئے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عوام کے اتنے نقصان اور سرکاری سکول عمارت کی بلاوجہ اجازت کی توڑ پھوڑ کی وجہ سے علاقے کے بچوں کی تعلیم سکول عمارت نہ ہونے کی وجہ سے تباہ ہورہی ہے اور بچے پنچایت گھر کے تین کمروں میں محدود کر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں سڑک کی تعمیراتی ایجنسی کے خلاف قانونی کاروائی کریں اور زیر تعمیر سکول عمارت کو جلد از جلد تعمیر کرکے اسے سکول انتظامیہ کے حوالے کیا جائے تاکہ پنچایت گھر کے تین کمروں سے چلائے جا رہے ہائی سکول بلیہوت کو جلدی اپنی عمارت میں منتقل کیا جا سکے۔