بانہال//شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے سنبل علاقے میں سنیچر کی شام پیش آئے ایک دلدوز حادثے میں بانہال کے کھڑی علاقے کا ایک جواں سال طالب علم مزدور میکڈم بچھانے کیلئے استعمال کئے جارہے رولر کے نیچے آکر لقمہ اجل بن گیا ۔مہلوک سات بہنوں اور اپنے والدین کا اکلوتا سہارا تھا ۔لقمہ اجل بنے نوجوان کی شناخت فیاض احمد کاچر عمر 18سال ولد عبدالغنی کاچر ساکن آہمہ ، ترگام تحصیل کھڑی ضلع رام بن کے طور کی گئی ۔ تحصیل کھڑی کے ترگام پنچایت کے مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مرحوم فیاض احمد کاچر سات بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور وہ ہائر سیکنڈری سکول کھڑی میں گیارھویں جماعت کا طالب علم تھا ۔ انہوں نے کہا کہ فیاض احمد سات بہنوں اور اپنے والدین کا اکلوتا سہارا تھا اور گھر میں غربت اور افلاسں کی وجہ سے یہ طالب علم مزدوری کرنے کیلئے حال ہی میں بانڈی پورہ گیا ہوا تھا اور وہاں سڑک پر بچھائے جارہے میکڈم کے کام میں اپنی مزدوری کا دن لگا رہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ سنیچر کے روز کام کے دوران وہ میکڈم بچھانے والے رولر یا انجن کے نیچے دب گیا اور موقع پر ہی زمین کے ساتھ بچھ کر اس کی موت واقع ہوگئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ آواز اور شور کے باوجود بھی رولر ڈرائیور اس کی آواز کو نہ سن سکا اور ڈرائیور کو پتہ چلنے تک فیاض احمد لقمہ اجل بن چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بانڈی پورہ سمبل میں قانونی لوازمات کے بعد فیاض احمد کاچر کی میت کو اتوار کی علی الصبح اپنے گھر واقع آہمہ پہنچایا گیا جہاں ہر طرف سے رنج و الم کا سماں تھا اور پرنم آنکھوں کے ساتھ اسے اتوار کی صبح سپرد خاک کی گیا۔ مقامی لوگوں نے اس واقع کی تحقیقات اور مہلوک کے لواحقین کے حق میں بھرپور معاوضہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔