سرینگر//’اپنی پارٹی ‘ صدر محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ گپکار الائنس کا ایجنڈا سمجھ سے بالا تر ہے۔پارٹی کے کو ر گروپ میٹنگ، جس میں جموں وکشمیر کی تازہ ترین سماجی، اقتصادی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی بحث وتمحیص کی گئی، سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طرف کہتا ہے کہ دفعہ370اور35Aپر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا وہیں یہ حزب اختلاف جماعتوں کے میمورنڈم پر دستخط کرنے والوں میں بھی شامل ہے، جس میں خصوصی قوانین کی بحالی کا ذکر بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس اپنے جذباتی نعرؤں کے ذریعے لوگوں کو ترقی پر مبنی سیاست سے دور رکنا چاہتا ہے’’الائنس کے اتحادی نہیں چاہتے کہ ہوسِ اقتدار کی خاطر وقتاًفوقتاً اُن کی طرف سے سرزد ہوئی تاریخی غلطیوں اور مایوس کن ناکامیوں کے لئے اُنہیں ذمہ دار ٹھہرایاجائے‘‘۔ انہوں نے کہاکہ ایسا لگ رہا ہے کہ پی اے جی ڈی کے اہم اتحادی خطہ میں تیزی کے ساتھ بدلتی جغرافیائی وسیاسی صورتحال کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور چاہتے ہیں کہ جموں وکشمیر کے لوگ ہمیشہ امن دشمن طاقتوں کے ناپاک عزائم کا ہی شکار ہوتے رہیں۔انہوں نے کہا’’سینکڑوں ہلاکتوں اور ہزاروں کے بینائی سے محروم ہونے کے باوجود یہ جماعتیں اقتدار سے چمٹی رہیںتاہم آج بھی ووٹ حاصل کرنے کے لئے پی اے جی ڈی کے پاس خوف و ہراس اہم ہتھیار ہے کیونکہ یہ جموں و کشمیر کے لوگوں میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ اور اہمیت کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا’’ہماری یہ خواہش ہے کہ جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ بحال ہو اور ا س ضمن میں ہمیں عدالت ِ عظمیٰ سے مثبت فیصلے کی توقع ہے، اگر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ عوامی خواہشات کے برعکس ہوتا ہے تب بھی اپنی پارٹی ملک کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اس معاملہ کو اُٹھائے گی‘‘۔ حالیہ دورہ ِ جموں وکشمیر کے دوران صدر ِ جمہوریہ ہند رام ناتھ کوند کے ریمارکس جس میں انہوں نے کہاتھاکہ جمہوریت تمام اختلافات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، کا تذکر ہ کرتے ہوئے بخاری نے جموں وکشمیر میں ریاستی درجے کی بحالی اور جلد انتخابات کے مطالبے کو دوہرایا۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کی مشکلات ومسائل کا ازالہ صرف منتخب اور جوابدہ حکومت ہی کرسکتی ہے اور بیروکریٹک نظام اِس کا متبادل نہیں ہوسکتا۔بخاری نے مطالبہ کیاکہ حدبندی کا عمل تیزکیا جائے جس سے جموں وکشمیر میں انتخابی عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔ اِس سے قبل اجلاس میں اپنی پارٹی لیڈران نے مطالبہ کیاکہ سیاسی کارکنان کی سیکورٹی پر نظرثانی کی جائے تاکہ وہ جموں وکشمیر کے اطراف واکناف میں بلاخلل سیاسی عمل جاری رکھ سکیں۔