پچھلی تین قسطو ں میںمقامی میڈیا کے ارتقائی سفر اور اس پر گزرنے والے حادثوں اور سا نحوں کی جو تاریخ لکھی جارہی تھی وہ ختم نہیں ہوئی ہے ۔ یہ داستاں خاصی طویل ہے اوراس کے کئی اہم موڑ ابھی باقی ہیں تاہم اس بیچ جموں کشمیر میں جو اہم واقعات رونما ہورہے ہیں انہیں نظر انداز کرکے اس تاریخ کو آگے بڑھانے کی نہ ضمیر اجازت دے سکتا ہے اور نہ ذہن، اس لئے اس داستاں کا تسلسل کچھ دیر معطل کرکے اس ہفتے کے بہت اہم او ر ایک لحاظ سے بہت بڑے واقعے پر بات کرتے ہیں ۔ یہ عوامی اتحاد برائے گپکار ڈیکلریشن کے ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل ( ڈی ڈی سی) انتخاب میں شمولیت کا غیر متوقع اور حیرت انگیز واقعہ ہے ۔غیر متوقع اور حیرت انگیز اس لئے کہ اتحاد نے کچھ ماہ قبل اپنے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی گزشتہ سال پانچ اگست سے پہلے کی پوزیشن واپس حاصل کرنے کا موقف اختیار کرتے ہوئے اس کے لئے بھرپور جدوجہد کا عزم کیا تھا اور یہ پوزیشن حاصل کرنے سے پہلے کوئی بھی انتخاب نہ لڑنے کا عہد بھی کیا تھا ۔سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی قاید محبوبہ مفتی کی یہ بات کوئی نہیں بھولا ہے کہ’’ میں تب تک کسی بھی انتخاب میں حصہ نہیں لوں گی جب تک نہ دفعہ 370اور 35اے بحال ہوگا ‘‘۔یہ بات انہوں نے نظر بندی ختم ہونے کے بعد خم ٹھونک کر کہی تھی ۔اُن کی سیاسی دور اندیشی اُس وقت ٹنل کے پار ہونے والے مشوروں اور بنائے جارہے منصوبوںتک نہیں پہنچ پائی۔فاروق عبداللہ اس وقت تک بہت محتاط تھے ۔وہ چین کی بات کرکے قومی سطح پر ایک بڑی خبربنا کر بلکہ ایک بڑا ہنگامہ کھڑا کرکے اپنی سیاسی صحت اور اپنی تنظیم کو آئی سی یو سے باہر نکالنے کی کوشش تو کرتے تھے مگر انتخاب کے بارے میں کوئی بات زبان پر نہیں لاتے تھے ۔ یہاں تک کہ ان کی رہائش گاہ پر گپکار ڈیکلریشن میں شامل جماعتوں کا اجلاس ہوا جہاں اتحاد کی تجویز پر غور ہوا ۔آخر کار کئی میٹنگوں کے بعد 24اکتوبر کو محبوبہ مفتی کی گپکار رہائش گاہ پر پانچ جماعتوں نیشنل کانفرنس ، انڈین نیشنل کانگریس ،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ، پیپلز کانفرنس ، سی پی آئی ایم اور عوامی نیشنل کانفرنس کے درمیان اتحاد ی سمجھوتے پر دستخط ہوئے ۔اس اتحاد کا نام ’’ عوامی اتحاد برائے گپکار ڈیکلریشن رکھا گیا ۔فاروق عبداللہ کو اس کا صدر ، محبوبہ مفتی کو نائب صدر ، محمد یوسف تاریگامی کو کنوینراور سجاد غنی لون کو ترجمان مقرر کیا گیا اور کشمیر کے جھنڈے کو پارٹی کا نشان قرار دیا گیا ۔
یہ ایک غیر معمولی واقعہ اس لئے تھا کہ جموں کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار سیاسی رقیبوں کا ایک اتحاد ہوااور اس کے باوجود کہ مین سٹریم جماعتیں کافی حد تک وہ اعتبار اوراعتماد کھوچکی تھیں جو انہیں کبھی حاصل تھا، مایوس کن سیاسی ماحول میں امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ۔اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ پوری طرح سے مفلوج سیاسی ماحول میں حرکت پیدا ہوئی ۔مجلسوں ، محفلوں ، چائے خانوں اور دکانوں پر بات کرنے کی ایک وجہ پیدا ہوئی اوراتحاد میں شامل جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچوں کو پھر سے سرگرم ہونے کا موقع پیدا ہوا ۔عام رائے یہ بن رہی تھی کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ نہ کچھ ہونا تو بہتر ہے اور یہ قیاس آرائیاں ہر بحث کا موضوع بنیں کہ کیا خصوصی پوزیشن کی بحالی ممکن ہوسکتی ہے ۔دانش وروں کے مباحث میں کچھ تکنیکی پہلو بھی زیر بحث آرہے تھے جن میں سب سے اہم یہ تھا کہ اتحاد میں دو بڑی قومی جماعتیں کانگریس اور سی پی آئی ایم بھی شامل ہیں ۔اتحاد میں ان کی شمولیت کا مثبت پہلو یہ تھا کہ ایک تو اس کی وجہ سے اتحاد کی سیاسی اہمیت میں کافی اضافہ ہوا اور دوم ان کی شمولیت نے اس اتحاد کو قومی دھارے سے جوڑ کے رکھا ۔چنانچہ اس پر وہ الزامات تھونپ دینے کے زیادہ مواقع میسر نہیں آسکے جو اسے علیحدگی پسندی اور پاکستان نوازی کے دائرے میں لاسکتے تھے لیکن یہ دونوں جماعتیں اس اتحاد میں اس لئے شامل تھیں کہ اس کا ایجنڈا مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کے فیصلوں کے خلاف تھا اور یہ سوال اتحاد میں ان کا نام شامل ہونے کے ساتھ ہی پید ا ہوا کہ بی جے پی کے فیصلوں کے خلاف اپنے قومی اور سیاسی نظریات کے ساتھ سمجھوتہ کرنا تو ایک وقتی معاملہ ہے۔ اس کے بعد قومی سطح پر ان کی سیاسی مصلحتیں اور مفادات کہاں تک انہیں مقامی سیاسی جماعتوں کے ساتھ جوڑے رکھ سکتی ہیں ۔سی پی آئی ایم تو خیر اپنے نظریاتی ایجنڈے کے ساتھ مقامی سیاسی خواہشات کو کندھوں پر اٹھالیتی لیکن کانگریس کے لئے ایسا کرنا مشکل تھا، چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا ،کانگریس رفتہ رفتہ اتحاد سے دور ہوتی گئی لیکن تب تک اتحاد کو ایک قومی شناخت مل چکی تھی لیکن اس سے پہلے کہ اتحاد جدوجہد کا کوئی ٹھوس اور موثر منصوبہ تیار کرتا ،جموں کشمیر کی یوٹی حکومت نے ڈی ڈی سی انتخابات کا اعلان کرڈالا جس نے کھیل کا رخ ہی تبدیل کردیا ۔اتحاد نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان اس اعتماد کے ساتھ کیا تھا کہ اس میں شامل جماعتوں کی عدم شمولیت کے نتیجے میں اسمبلی انتخابات کا انعقاد ہی ممکن نہیں ہوسکتا تھا اور اگر ہوتا بھی تو یہ خود بی جے پی کیلئے بدنامی اور ہزیمت کا باعث ہوتا لیکن ڈی ڈی سی انتخاب کی بات ہی بالکل مختلف ہے ۔ معتبر اور بڑی جماعتوں کے بغیر بھی اس انتخاب کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی اور اگر یہ انتخاب قومی دھارے کی بڑی سیاسی جماعتوں کے بغیر ہوگا تو ان جماعتوں کا پہلے ہی سے متاثر ہوا سیاسی اثر و رسوخ ختم ہونے کے امکانات موجود تھے ۔
اس اتحاد کے قیام سے پہلے اپنی پارٹی کے نام سے جو نئی سیاسی جماعت قائم ہوئی تھی، اس نے بھی ریاست کی بحالی کے لئے جدوجہد اور خصوصی حیثیت کی بحالی کے لئے آئینی جدوجہد کا موقف اختیار کررکھا تھا اور وہ زمینی سطح پر کافی وقت سے سرگرمی کے ساتھ کام کرکے اپنی سیاسی طاقت بڑھارہی تھی، اس لئے اتحاد برائے گپکار ڈیکلریشن اپنے قیام کے ساتھ ہی ایک بڑی سیاسی آفت میں مبتلا ہوا ۔چنانچہ اس نے یہ جواز تراش کر کہ ڈی ڈی سی انتخاب میں شمولیت نہ کرکے جو سیاسی خلاء پیدا ہوگا، اسے بی جے پی پورا کرے گی، اس لئے بی جے پی کو روکنے کے لئے انتخاب میں شمولیت کا فیصلہ ناگزیر ہوچکا ہے۔ اس طرح کسی بھی انتخاب میں شمولیت نہ کرنے کا اپنا فیصلہ تبدیل کردیا گیا ۔یہ فیصلہ درست ہے یا غلط ،یہ بحث اپنی جگہ ہے لیکن اس فیصلے نے یہ بڑا سوال پیدا کردیا کہ کیا اس سے وہ گپکار ڈیکلریشن ،جس کے سیاسی خاکے کی بنیاد 4اگست 2019کو ڈالی گئی تھی اور جس کی بنیاد پر عوامی اتحاد کے نام سے مشترکہ فورم تشکیل پایا تھا ،کس حد تک باقی رہ گیا ۔ گپکار ڈیکلریشن کا ایجنڈا 5اگست 19سے پہلے کی پوزیشن کا حصول ہی نہیں تھا بلکہ اس کے بعد کی پوزیشن کو تسلیم نہ کرنا بھی تھا اور انتخاب میں شمولیت کا اعلان اس پوزیشن کو تکنیکی طور پر تسلیم کرنا ہے اور اتحاد کے پاس اس پوزیشن کو تسلیم کرنے کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی موجود نہیں تھا ۔اس نے گپکار ڈیکلریشن کی معنویت پر ایسے سوال کھڑے کردئیے جن کا جواب کسی کے پاس نہیں ۔یہ بات مسلمہ ہے کہ سیاست کا کھیل سب سے بڑا جادوئی کھیل ہے اور یہ کھیل کھیلنے والا ذرا سی چوک سے اپنا کھیل خود ہی بگاڑ دیتا ہے ۔گپکار ڈیکلریشن نے مقامی جماعتوں کے بنیادی موقف سمیٹ کر انہیں 53ء سے پہلے کی پوزیشن اور سیلف رول سے 5اگست کی پوزیشن پر پہنچایا اور اب 5اگست کی پوزیشن سے بھی کھسک جانا پڑا ۔بہرحال ان گہری سیاسی کھائیوں سے باہر نکل کر دیکھا جائے تو اس حقیقت کو قبول کرنے کے سوا اور چارہ ہی کیا ہے کہ بائیکاٹ کی سیاست نے ہمیشہ ہی وہ سیاسی خلاء پیدا کردیا جسے آج عوامی اتحاد تسلیم کررہا ہے ۔شیخ محمد عبداللہ جیسا قد آور لیڈر بائیکاٹ کی سیاست سے ہی بائیس سال کے بعد اپنے سیاسی قد و قامت سے نیچے آکر انتخابی سیاست میں پناہ لینے پر آمادہ ہوا ۔عوام کو ہمیشہ یہ دھوکا ہوا کہ بائیکاٹ سیاست سے انتخابی سیاست میں آنے والااب وہ سب کچھ آئینی دائروں میں حاصل کرے گا جو وہ بائیکاٹ سے نہیں کرسکا لیکن ایسا بھی نہیں ہوا ۔علیحدگی پسند سیاست نے بے پناہ عوامی ، سیاسی اور بالادستی کی قوت حاصل کرنے کے باوجود آخر پر نہ صرف اپنا سب کچھ کھودیا بلکہ سٹیٹ کی بچی کھچی حیثیت بھی اسی کی نذر ہوگئی ۔ایسا نہ کسی قوم کے ساتھ ہوا اور نہ ہی کسی قوم کی لیڈر شپ کے ساتھ ۔یہ صرف بدقسمتی نہیں ہوسکتی بلکہ کچھ تو غلط ہوا ہے اور ہورہا ہے جس کا تجزیہ کبھی نہیں کیا گیا ۔ نہ پیچھے مڑکر دیکھا گیا کہ کہاں کب کیا اورکیوں ہوا ہے اور نہ ہی آگے دیکھا گیا کہ کب کیا ہوسکتا ہے ۔ کیا ہونے دینا ہے اور کیا نہیں ۔
اس وقت اب پوری قوم ایک نازک ترین اور تباہ کن دور میں ہے ۔ اس مرحلے پر ہر ایک پر بڑی بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے ۔اس قوم کو مایوسیوں کے دلدل سے بھی نکالنا ہے ۔ اس کے اعتماد اور اعتبار کو بھی بحال کرنا ہے ۔ اسے احساس شکست سے بھی بچانا ہے ۔ اس کی سیاسی ،اقتصادی ، معاشی اور معاشرتی زندگی کو بھی پٹری پر لانا ہے اور اس کی امیدوں اور خواہشوں کو بھی ایک ایسا راستہ دینا ہے جو دشوار بھی نہ ہو اور جس پر ناکامیوں اور نامرادیوں کے روڑے بھی نہ ہو ۔وہ عوامی اتحاد برائے گپکار ڈیکلریشن ہو ، اپنی پارٹی ہو یا علیحدگی پسند خیمے کے بچے کھچے کھنڈر ہوں، سب کو ایک نئی شروعات کے ساتھ ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے طوفانوں میں گھری ہوئی اس قوم کی کشتی کو سہارا دینا ہے اور اسے ساحل تک لیجانا ہے ۔ یہ جدوجہد طویل بھی ہے ۔ کٹھن بھی ہے اور مصائب سے پُر بھی ہے لیکن ناممکن کچھ نہیں ۔ کہیں سمجھوتے بھی کرنے پڑیں گے اور کہیں ٹکرائو بھی ہوگا لیکن اقتدار کی خواہش کے بغیر قوم کی بقاء کے لئے آگے بڑھنا ہوگا ۔ایسا نہ کیا گیا تو پھر ہر اندیشے سے بدتر حالت کا سامنا ہے ۔