1۔ 4 اگست 2019 کوکم و بیش وادی المرکوز سبھی مین سٹریم سیاسی جماعتوں نے اختیار کیاگیا یا اپنایا گیا گپکار اعلامیہ کشمیر کی طویل اور متنازعہ سیاسی تاریخ کی ایک داستان بن چکاہے۔ یہ ایک حاشیہ بھی نہیں بنتا لیکن چونکہ یہ حکومت ہند کیلئے ان جماعتوں کے غیر متعلق ہونے کا ثبوت تھا تو حاشیہ میں جگہ بنا پایاکیونکہ ان کے اس اعلان کہ "ہم جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے تحفظ کے لئے جو بھی ضروری ہوا، کریں گے"کے بمشکل 12 گھنٹے بعد مرکزی حکومت نے اسے ختم کر کے ا ُنہیں عملی طور کہا کہ "نہ ہی آپ اور نہ ہی آپ کیا کریں گے ،کی ہمارے لئے کوئی اہمیت ہے "۔یہ اتنا ہی آسان اور سادہ تھا۔
2۔مرکزی حکومت کی جانب سے غیر متعلقیت کا جو بیج ایک سال قبل بویا گیا تھا،اُس سے اب ٹھیک ایک سال بعد گپکار اعلامیہ2.0کی صورت میں فصل تیار ہوئی جویکجہتی کا مظاہرہ ہے اور مضبوط قوت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس پارٹی اور سی پی آئی (ایم) نے اب اس اعلامیہ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ آیا ان کی شمولیت کو اُن کی متعلقہ’’ہائی کمان‘‘کا آشیرواد حاصل ہے تھایا یہ یکجہتی کا مقامی مظاہرہ ہے ، ان کی شرکت اہم ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے نہ صرف اس سیاسی پیش رفت کا نوٹس لینابلکہ ایک پریس کانفرنس میں اس کی حمایت کرنا ان کے موقف ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جو دونوںجانب اہمیت کا حامل ہے بلکہ بلاشبہ کئی طرح سے خاصا اہم ہے۔تاہم مقامی طور پر اس مشترکہ کارروائی کا شکوک و شبہات کے عیاں و بیاں نعروں سے ہی استقبال ہوگا اور وہ قابل فہم بھی ہے۔ اس وقت یہ سیاسی طبقے کے لئے اپنی ہی آنکھوں میںاپنی غلطیوں پر توجہ کرنے اور نادم ہونے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔عوام کی نظروں میں رستگاری ابھی دور کا خواب ہے۔
3۔دلچسپی سے عاری اور دبا ہوا عوامی موڈ اس وقت ایک متحدہ اور متفقہ اپروچ کے حق میں ہے۔ در حقیقت ، 2014 کے انتخابات کے نتائج کے بعد سے یہ موڈ ایسا ہی تھا جب وادی کا ووٹ این سی اور پی ڈی پی کے درمیان تقسیم ہوگیاتھا ، جس کے نتیجے میں بی جے پی کو ریاست میں سب سے زیادہ 23 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اگرچہ اُس وقت مابعد الیکشن اتحاد کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں تھی گوکہ نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی کو باہری حمایت کی پیش کی تھی تاہم نیشنل کانفرنس تب معترف تھی کہ پی ڈی پی کے محبت میں نہیں بلکہ بی جے پی کو اقتدار سے باہر رکھنے کیلئے اور کشمیر میں ایک ’لولی لنگڑی‘حکومت قائم کرنے کیلئے ہے۔
4۔ ایسا نہیں ہے کہ ان دونوں میں سے انتخاب کرنے کیلئے بہت کچھ ہے۔ دو دہائیاں پہلے صرف این سی کے پاس سیاسی تاریخ اور تاریخی بوجھ یا بارِ سفر تھا۔ اب دو دفعہ تین تین سال تک حکومت میں رہنے کے بعد پی ڈی پی نے بھی دونوں کو تیزی سے حاصل کر لیا ہے۔ ان کی قیادت کی انفرادیت اور انفرادی ترجیحات کو ایک طرف چھوڑ کر ان دونوں کے درمیان بنیادی فرق ذاتی یا شخصیاتی ہے نہ کہ سیاسی۔یہ تامل ناڈو میں AIADMKیا DMKکی طرح نہیں ہیںجو نہ صرف نظریاتی طور مختلف ہیں بلکہ اُن کی ترکیبِ ذات پات اور سپورٹ بیس بھی جداجدا ہیں۔اے آئی اے ڈی ایم کے اعلیٰ درجہ کے ہندئوں کی حامی ہے جبکہ ڈی ایم کے کی بنیاد نچلی ذاتوں،دلتوں اور اقلیتوں میں ہے اور یہ اعلانیہ سیکولر ہے۔پہلی ایک مضبوط مرکز کی حامی ہے جبکہ دوسری وفاق پسندجماعت ہے جو مضبوط ریاستوں کے لئے وکالت کررہی ہے۔
5۔پی ڈی پی اور این سی کے مابین ایسا کوئی بھی معاملہ نہیں ہے۔ دونوں خود مختاری نواز ہیں۔ دونوں وادی المرکوز ہیں۔پی ڈی پی ابتداء سے ہی ایسی ہی تھی اور کانگریس کے ساتھ اُس پارلیمانی معاہدے کے بعد این سی بھی ویسی ہی ہوگئی جس میں این سی نے جموں کو انتخابی طور طور ر کانگریس کے حوالے کردیاتھا۔ دونوں نقطہ نظر میں وسیع پیمانے پر سیکولر ہیں اگر یہ اس کے کارکنوں اور قیادت کی تشکیل سے ظاہر نہیں ہوتا ہے۔ دونوں پارٹیوں کا معاشرتی سرمایہ بالکل ایک جیسا ہے۔ یہاں طبقاتی تفریق بھی نہیں ہے۔پی ڈی پی کی "پیر" سماجی بنیاد پر بہت کچھ کہاجارہا ہے لیکن یہ کیڈر کی بجائے زیادہ تنظیم کے مائنڈ سیٹ اور اقدار میں ہے۔
6۔اکثر پی ڈی پی کو دیہی پارٹی اور این سی ایک شہری جماعت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ یہ تاثراتی درجہ بندی ممکنہ طور پر نیشنل کانفرنس کی شہری قیادت کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ زرعی اصلاحایت کے طفیل انکے ووٹر دیہی علاقو ں میں کافی گہرائی تک سرایت کرچکے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے پاس ابھی بھی پوری وادی میں ایک وسیع سپورٹ بیس موجود ہے ، جبکہ پی ڈی پی کی ایک گہری دیہی بیس ہے جو جنوبی کشمیر تک ہی محدود تھی۔ شہری متوسط طبقے کا بھی اس میں خاصا حصہ ہے جو 2014 کے انتخابی نتائج سے بھی عیاں ہوتاہے۔ اگرچہ این سی کا ووٹ شیئر بالکل پی ڈی پی کی طرح تھا ، لیکن ووٹروں کے بھاری پھیلائو کی وجہ سے وہ پی ڈی پی سے آدھی سے بھی کم نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
7۔ یہ سچ ہے کہ مفتی محمد سید نے اپنے ذاتی انداز ، سیاسی بصیرت اور حکمرانی کے طریقہ کار سے پی ڈی پی کو ایک مختلف سیاسی ثقافت عطا کی تھی لیکن وہ سیاسی کلچر اُن کے ساتھ ہی دفن ہوگیا۔ واقعی اب این سی اور پی ڈی پی کشمیر کے سیاسی منظر نامہ پر بالکل اسی طرح ہیں جس طرح صابن کی مارکیٹنگ ورلڈ میںلکس اور لیرل ہیں۔واحد فرق صرف پیکیجنگ کا ہے اور یہی واحد فرق این سی اور پی ڈی پی کے درمیان بھی ہے۔چھوٹی پارٹیوں کے لئے بھی یہی صادق آتا ہے۔ اس حد تک 5 اگست 2019 ان پارٹیوں کو اکٹھا کرنے کے لئے محرک فراہم کرتا ہے جو انہیں ایک دوسرے سے منسلک ہونے کی اہم وجہ فراہم کرتا ہے۔
8۔ ان جماعتوں اور خاص طور پر ان کی متعلقہ قیادت کیلئے ایک مشترکہ فورم سیاسی بقا اور انتخابی نجات کا راستہ ہے۔ اگرچہ وہ’’ کشمیریوں کے کاز کی خاطر’’ اپنے گہرے اختلافات کو واضح طور پر دفن کردیں گے ، لیکن حقیقی معنوں میں وہ اپنی انفرادی غلط کاروائیو ں کی پردہ پوشی کررہے ہونگے۔یہ نہ پیچھا چھوڑنے یا ترک والی شرط ہے کیونکہ ایک ساتھ ملنا اپنی پارٹی جیسے نئے چیلنجروں کیلئے راہ ہموار کرتا ہے۔ پہلے سے ہی وہ لوگ تک بھی اس بات کی تصدیق و تائید کرنے کیلئے اچانک گہری نیند سے جاگ گئے جنہوںنے اب تک خاموشی سے ان معاملات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی راہ لی تھی۔ نیز ایسی صورتحال میں جہاں سیاستدان پارٹیوں سے بڑے ہو چکے تھے ، یہ پیش رفت ایک اچھی سرنو بازیافت ہوگی کہ پارٹیاں ، جو ایک سیاسی نظریہ کی منبع ہوتی ہیں ، کتنے ہی زیادہ اثر ورسوخ رکھنے والے افراد سے زیادہ طاقتور ہیں۔
9۔ وادی کی سول سوسائٹی بحیثیت مجموعی اس مشترکہ فورم کوعوامی دانائی کی فتح سمجھتی ہے۔ اگرچہ وہ مین سٹریم کی جانب سے زمین کے ساتھ ناک رگڑنے پر خوش ہیںلیکن پس پردہ جذبہ یہ ہے کہ’’بالآخر ان پر احساس کا سورج طلوع ہوچکا ہے‘‘۔ یقینافی الوقت حمایت کے نعرے نہیں ہیں ، لیکن ایک خوش کن اطمینان تو ہے۔
10۔آج گپکار اعلامیہ 2.0 ، جس کے بارے میں این سی رہنما بشارت بخاری نے صحیح طور پر نشاندہی کی کہ اس کو پیش آمدہ واقعات نے پچھاڑ دیا ہے،کے متن سے زیاد ہ اہم آج کشمیر المرکوز جماعتوں کا ایک مقصد کے ساتھ اکٹھاہونا ہے ۔ اس کی اہمیت اس اتحاد میں ہے۔ ایک بار پھر یہ اتحاد کب تک چلے گا یا کب تک اس کو چلنے کی اجازت دی جائے گی ،ایک ثانوی مسئلہ ہے۔
11۔ اب اگر ایسے اتحادوں کی تاریخ دیکھیں توایسا دوسری دفعہ ہورہا ہے کہ اس طرح کی کوئی سیاسی پیش رفت ہورہی ہے۔ پہلی بارتمام آئینی حکم ناموں کی ماں کہلائے جانے والے پہلے آئینی حکم نامہ کی1854میں اجرائی کے فوراً بعد 1955 میں جب محاذرائے شماری کی بنیاد رکھی گئی تو یہ ایک طرح کا سیاسی اتحاد تھا۔ یہ محاذ جس نے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی رائے شماری کا مطالبہ کیا تھا ، بالآخر 1975 میں اندرا عبد اللہ ایکارڈ پر دستخط کیے۔ اُن 20 برسوں ، جنہیں بعد میں خود شیخ عبد اللہ نے "سیاسی آوارہ گردی" کے نام سے منسوب کیا ، میںانتخابات کے بائیکاٹ نے دہلی کے حمایت یافتہ افراد کے لئے آسان فتوحات کاراستہ ہموار کردیا۔ وہ اب تاریخ ہے۔ 1987 کے انتخابات میں مسلم متحدہ محاذ ،جس کو ایک گروہ سے مماثلت نہیں دی جاسکتی ہے،کے ظہور کے ساتھ جس طرح 1987کے الیکشن میں نمٹا گیا،اُس نے بعد ہونے والی سیاسی پیشرفتوں کی راہ ہموار کی۔
12۔ اب کے لئے ، جس پلیٹ فارم سے گپکار اعلامیہ کا ظہور ہوا ،اُس کو بہترین طور پر ’’مین سٹریم حریت‘‘کے طور بیان کیاجاسکتا ہے۔ ایک خاموش سیاسی گروپ جس کو تین الفاظ پر اکٹھا کیا گیا ہے’سٹیٹس کیو انٹی‘یعنی سابق معاملات بحال کرنا۔
اس طرح کے ایک منظم اقدام کو تذویراتی اقدام میں تبدیل کرنے میں وقت ، عزم اورانا سے پاک کوشش درکار ہوگی۔ یہ بارِ عظیم اور بہت بڑا کام ہے۔ مین سٹریم جماعتوں کے لئے اصل چیلنج یہ ہے کہ اس نوابھرے فورم کو اپنی انفرادی موجودگی کے جوہر سے بڑایا عظیم کیسے بنایا جائے۔ ماحصل حصوں کے مجموعہ سے بڑا ہونا ضروری ہے۔یہ تب ہی ہوگا جب اس اقدام کی اہمیت کو اس کے سیاسی موقف کی ماہیت کے یکساں کیاجائے گا جو اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنا ،خیالات میں دور اندیشی اور اپروچ میں حقیقت پسندی ہونا چاہئے۔
اختتامیہ
جب تک گپکار اعلامیہ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے،علامت پسندی شاید غیر ارادی طور پر حال کے سانحہ اور ماضی کی ستم ظریفی کی عکاسی کرتی ہے۔ گپکار ،گوپیداری کا ایک انگریزی ورژن،وہ جگہ ہے جہاں بادشاہ گوپادھتیہ نے برہمنوں کو آباد کیا تھا جو اُس نے کشمیر کے باہر سے لائے تھے! پنڈت کلہن نے گونندیانسل کی دو معروف شخصیات ہیرا نیاکشا اور ہیرا نیاکشاپوکی دارالحکومتی شہرپاندریٹھن کے مضافات میں گپکار میں رہنے کاذکر کیا ہے۔ کہیں نہ کہیں1890 کی دہائی تک والٹر لارنس کے ذریعہ اس کو "گاؤں" کے طور پر ریکارڈ کیا گیا تھاتاہم1960کے آس پاس یہ نئی طاقت کے اشرافیہ کی رہائش گاہ میں تبدیل ہوگیا۔ اب گپکار سری نگر کیلئے بالکل اُسی طرح ہے جس طرح دہلی باسیوں کیلئے لوٹینز دہلی ہے۔ اورکس طرح نیشنل کانفرنس کا سیاسی محور و مرکز ڈائون ٹائون کے مجاہد منزل سے اَپ ٹائون کے گپکار منتقل ہوا ،یہ اپنے آپ میں کشمیر میں سیاست کی تبدیلی کی ایک کہانی ہے۔
مترجم: ریاض ملک