یو این آئی
گُوہاٹی/سائمن ہارمر کی تباہ کن بالنگ کے باعث جنوبی افریقہ نے دوسرے ٹیسٹ کے پانچویں روز ہندوستان کو دوسری اننگز میں 140 رنز پر ڈھیر کرکے نہ صرف میچ 408 رنز سے جیت لیا بلکہ دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز بھی 0-2 سے اپنے نام کر کے تاریخ رقم کردی۔ جنوبی افریقہ نے پہلی مرتبہ ہندوستانی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیتی ہے ۔چائے کے وقفے تک ہندوستان کی پوزیشن انتہائی نازک ہو چکی تھی اور میزبان ٹیم 90 رنز پر اپنے پانچ کھلاڑیوں سے محروم ہو چکی تھی۔ وقفے کے بعد بھی ہارمر اور کیشو مہاراج کی جوڑی نے ہندوستانی بیٹنگ لائن کو کھل کر کھیلنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔سائی سدرشن 139 گیندوں پر 14 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے ، جبکہ واشنگٹن سندر 16 رنز کے ساتھ پویلین لوٹ گئے ۔روینڈر جڈیجا نے 87 گیندوں پر 54 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی اور کیشو مہاراج کی گیند پر چھکا لگا کر اپنی نصف سنچری مکمل کی، مگر اگلے ہی اوور میں ہارمر نے نیتیش کمار ریڈی کو صفر پر آؤٹ کرکے ہندوستان کی بچی کھچی امیدیں بھی ختم کر دیں۔ مہاراج نے اپنے 64ویں اوور میں جڈیجا اور پھر آخری بلے باز کو آؤٹ کرکے ہندوستانی اننگز 140 رنز پر سمیٹ دی۔پہلے ٹیسٹ میں ٹیمبا باووما کی نصف سنچری نے پروٹیز کی جیت کی بنیاد رکھی تھی، جبکہ گوہاٹی ٹیسٹ میں مْیتھوسامی اور یانسن نے مشکل صورتحال میں اہم شراکت قائم کر کے ٹیم کو بڑے اسکور تک پہنچایا۔ دونوں میچوں میں یانسن اور ہارمر نے ہندوستانی بیٹنگ کو مسلسل پریشان رکھا، جس نے آخرکار تاریخی سیریز فتح کی راہ ہموار کی۔ نیوزی لینڈ کے بعد اب جنوبی افریقہ وہ دوسری ٹیم بن گئی ہے جس نے ہندوستان کو گھریلو ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ کیا ہے ۔ہارمر نے ہندوستان میں جنوبی افریقہ کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹ لینے کا ریکارڈ بنا کر ڈیل اسٹین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ کپتان باووما بھی بطور کپتان 12 میں سے 11 ٹیسٹ جیت کر بغیر شکست کے سب سے کامیاب کپتان بن گئے ہیں اور انہوں نے اس ریکارڈ میں مائیک بریئلی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔سائمن ہارمر نے 23 اوور میں 37 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ کیشو مہاراج نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ مُھتوسامی اور مارکو یانسن کے حصے میں ایک، ایک وکٹ آئی۔اس سے قبل ہندوستان نے اپنی نامکمل اننگز 27 رنز دو وکٹ کے نقصان پر شروع کی تھی۔ صبح کے سیشن میں ہارمر نے پہلے کلدیپ یادو 5اور پھر دھروو جوریل 2 کو آؤٹ کرکے ہندوستان کی ڈرا بچانے کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا۔ کپتان رشبھ پنت نے تیز آغاز کیا مگر 16 گیندوں پر 13 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے ۔ چائے کے وقفے تک بھارت پانچ وکٹ پر 90 رنز بنا چکا تھا اور سائی سدرشن 14 اور جڈیجا 30 جدوجہد کر رہے تھے ۔مارکو جینس کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔
ہندوستان کوپہلی بار ۔400سے زائد رنز سے شکست
ہندوستان کو جنوبی افریقہ نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی بڑی شکست دے کر سیریز دو صفر سے اپنے نام کر لی۔ گوہاٹی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے ہندوستان کو 408 سے ہرایا، جس کے ساتھ ہی یہ ہندوستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی اور پہلی مرتبہ 400 یا اس سے زائد رنز کی شکست بن گئی۔ اس سے قبل 2004 میں ہندوستان کو آسٹریلیا نے ناگپور میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں 342 رنز سے جبکہ پاکستان نے 2006 کے کراچی ٹیسٹ میں 341 رنز سے شکست دی تھی۔یہ جنوبی افریقہ کی 25 سال بعد ہندوستان میں ٹیسٹ سیریز جیتنے کی تاریخی فتح ہے ۔
ہندوستان میں جیتنا آسان نہیں تھا:مارکرم
سیریز میں ہندوستان پر کلین سوئپ کرنے کے بعد مارکرم نے کہا یہ بہت خوشی کی بات ہے ۔ سب نے شاندار کوشش کی۔ ہندوستان میں جیتنا آسان نہیں تھا۔ کچھ اچھے لمحات کے لیے خوش قسمتی بھی ضروری تھی۔ درست جگہ پر گیند ڈالنے پر بالر کو کریڈٹ جاتا ہے ، اور آپ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں خوش کریں۔ یہ مستقل مزاجی کے ساتھ کرنا پڑتا ہے ۔ ہم نے ٹیم کے طور پر شاندار کھیل پیش کیا اور ہر کسی نے اپنا بہترین کردار ادا کیا۔مارکرم کے اس کارنامے سے نہ صرف جنوبی افریقہ کے کرکٹ ریکارڈ میں اضافہ ہوا بلکہ ان کی ٹیم کے لیے یہ تاریخی لمحہ بھی ہے ، جو ہندوستان میں پہلی مرتبہ ٹیسٹ سیریز جیتنے کے بعد آیا۔
ٹیم کے طور پر بڑی کامیابی :ٹیمبا بووما
جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے کپتان ٹیمبا بَوُوما نے ہندوستان کے خلاف 408 رنز سے حاصل ہونے والی تاریخی فتح کو اپنی ٹیم کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے ۔میچ جیتنے کے بعد بَوُوما نے کہا”یہ ایک بڑی فتح ہے ، خاص طور پر ایسے موقع پر جب میں پچھلے چند مہینوں سے کھیل سے باہر تھا۔ ہندوستان میں حاصل کی گئی یہ فتح ہمارے لیے ایک ٹیم کے طور پر بہت اہم ہے ۔ ہماری سوچ میں بڑا بدلاؤ آیا ہے اور ہماری تیاری بھی بہتر ہے ۔ ہر کھلاڑی جانتا ہے کہ اس کی ذمہ داری کیا ہے اور سب ٹیم کے لیے بھرپور تعاون دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایک ٹیم کے طور پر ہم بہتر پوزیشن میں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کپتان کے طور پر کسی بولر سے گیند لے کر کسی اور کو دینا آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس ٹیم میں ہر کھلاڑی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہتا ہے ۔ سائمن کو 2015 میں ہندوستان میں کھیلنے کا تجربہ حاصل ہے اور وہ کے شوو کے ساتھ بہترین تعاون کر رہے ہیں۔ کگیسو ربادا کی غیر موجودگی میں سائمن ہارمر اور کیشو مہاراج نے اپنی ذمہ داریاں شاندار طریقے سے نبھائی ہیں۔
غلطی سب کی ، سب سے پہلے میری:گمبھیر
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے بدھ کو جنوبی افریقہ کے ہاتھوں سیریز 0-2 سے ہار کے بعد کہا کہ اس شکست کی ذمہ داری ٹیم کے تمام افراد پر عائد ہوتی ہے ۔دوسرے ٹیسٹ می ہندوستان کی 408 رنز سے شکست کے بعد گمبھیر نے کہا”یہ بی سی سی آئی کا فیصلہ ہے ۔ میں نے پہلے بھی کہا ہے ، ہندوستانی کرکٹ اہم ہے ، میں نہیں۔ میں وہی شخص ہوں جس نے انگلینڈ میں نتائج حاصل کیے ، چیمپیئنز ٹرافی اور ایشیا کپ جیتا۔ یہ ایک ایسی ٹیم ہے جو سیکھ رہی ہے ۔”انہوں نے ہار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تیسرے دن 95/1 سے 122/7 تک پہنچنا ٹیم کی کمزوریوں اور بہتر ایگزیکیوشن کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے ۔”غلطی سب کی ہے ، سب سے پہلے میری۔ آپ کسی ایک شخص یا مخصوص شاٹ کو الزام نہیں دے سکتے ۔ میں نے کبھی کسی ایک کو الزام نہیں دیا اور آگے بھی نہیں دوں گا۔گوتم گمبھیر نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے سب سے تیز اور ٹیلنٹڈ کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں، بلکہ کم ہنر رکھنے والے مضبوط کھلاڑی اچھے ٹیسٹ کرکٹر بنتے ہیں۔انہوں نے ملک بھر میں ریڈ بال کرکٹ کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے کہا”اگر آپ واقعی ٹیسٹ کرکٹ کو سنجیدگی سے لیتے ہیں تو اسے ترجیح دیں۔ سب کی کوششیں ضروری ہیں، آپ صرف کھلاڑیوں یا کسی خاص شخص کو الزام نہیں دے سکتے ۔”دریں اثنا، ہندوستانی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ شری کانت نے گوتم گمبھیر پر “بہت زیادہ تجربات” کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ مسلسل انتخاب میں تبدیلیوں نے ٹیم کی استحکام ختم کر دی ہے ۔ شری کانت نے آل راؤنڈرز کے زیادہ استعمال اور پوزیشنل تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھائے ۔