یو این آئی
ساؤتھمپٹن/برسٹل میں چوتھا ٹی20 جیت کر سیریز اپنے نام کرنے کے بعد انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے اپنی ٹیم کی کارکردگی کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف وکٹوں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہی ان کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ رہا۔ دوسری جانب ہندوستان پانچویں اور آخری ٹی20 میں مسلسل چھٹی شکست سے بچنے اور کلین سوئپ ٹالنے کے ارادے سے میدان میں اترے گا۔چند ماہ قبل اپنے ہی ملک میں ٹی20 ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم انڈیا اس دورے میں مختلف حالات سے ہم آہنگ ہونے میں ناکام رہی ہے ۔ سست وکٹوں، اضافی باؤنس اور بڑی اسکوائر باؤنڈریز نے ہندوستانی بلے بازوں کی تکنیکی خامیوں کو نمایاں کر دیا ہے ۔سیریز کے آغاز میں جوفرا آرچر نے کہا تھا کہ آئی پی ایل کی “آسان” پچوں کے بعد وہ دوبارہ “حقیقی” کرکٹ کھیل رہے ہیں، اور ہندوستانی بلے بازی اس تبصرے کو غلط ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ہندوستان کے اسسٹنٹ کوچ ریان ٹین ڈوشیٹے نے کہا، ”ہم نے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے پر بہت بات کی ہے ، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس پر عملی طور پر عمل کیا جائے ۔
دو سال بعد آسٹریلیا میں ہونے والا ٹی20 ورلڈ کپ ہمارا اصل ہدف ہے ۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا ہم صرف ہندوستان میں 250 رنز بنانے والی ٹیم رہنا چاہتے ہیں یا دنیا بھر کے مختلف حالات میں کامیاب ہونے والی ٹیم بننا چاہتے ہیں۔”ہندوستان اس دورے میں پہلے ہی آئرلینڈ کے خلاف اپنی پہلی بین الاقوامی سیریز اور 2019 کے بعد انگلینڈ کے خلاف پہلی دوطرفہ ٹی20 سیریز ہار چکا ہے ، اس لیے ساؤتھمپٹن کا میچ اس کے لیے عزت بچانے کا آخری موقع ہوگا۔دوسری طرف انگلینڈ کی نظریں ایک اور کامیابی پر ہیں۔ اگر وہ پانچواں ٹی20 بھی جیت لیتا ہے تو آئی سی سی مردوں کی ٹی20 درجہ بندی میں دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن جائے گا۔ساؤتھمپٹن کی وکٹ سے چیسٹر لی اسٹریٹ جیسی رنز برسانے والی پچ کی توقع نہیں کی جا رہی، جبکہ بڑی اسکوائر باؤنڈریز ہندوستانی بلے بازوں کے لیے ایک بار پھر آزمائش ثابت ہو سکتی ہیں۔مہمان ٹیم اپنی پلیئنگ الیون میں کچھ تبدیلیاں کر سکتی ہے ۔ بیٹنگ لائن اپ میں بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کی تعداد کم کرنے کے لیے سنجو سیمسن کو نمبر تین پر اتارا جا سکتا ہے ، جبکہ سوریانش شیڈگے کو بھی موقع ملنے کا امکان ہے ۔ دوسری جانب ورون چکرورتی اور ہرشیت رانا ہیمسٹرنگ انجری کے باعث سیریز سے باہر ہو چکے ہیں۔انگلینڈ کی ممکنہ ٹیم: فل سالٹ، جوس بٹلر (وکٹ کیپر)، ہیری بروک (کپتان)، جیکب بیتھل، ٹام بینٹن، سیم کرن، ول جیکس، ریحان احمد، جوفرا آرچر، عادل رشید، جوش ٹنگ۔ہندوستان کی ممکنہ ٹیم: ابھیشیک شرما، ویبھو سوریہ ونشی، ایشان کشن (وکٹ کیپر)/سنجو سیمسن (وکٹ کیپر)، شریاس ایر (کپتان)، تلک ورما، شیوم دوبے ، واشنگٹن سندر/سوریانش شیڈگے ، اکشر پٹیل، پرنس یادو، ارشدیپ سنگھ، پرسدھ کرشنا/روی بشنوئی۔