گول//محکمہ جنگلات کی جانب سے جنگل بچائو مہم اگر چہ ایک بہتر قدم ہے لیکن موزوں وقت نہیں ہے جس وجہ سے غریب لوگ محکمہ کی جانب سے سیخ پا ہوئے ۔ سب ڈویژن گول کے مہا کنڈ وغیرہ علاقوں میں کئی روز سے لگا تار محکمہ جنگلات و جنگل بچائو کمیٹیوں کی مشترکہ کاروائی کے دوران کئی لوگوں کی مکی کی فصل تباہ کر دی ہے جس وجہ سے لوگ کافی برہم ہوئے ہیں ۔ مخصوص لوگوں کی اراضی پر فصل تباہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے لوگوں نے کہا کہ اگر محکمہ جنگلات کو اس قسم کی مہم چلانی تھی اگر چہ ہم بھی محکمہ جنگلات کے جنگل بچائو مہم کے خلاف نہیں ہیں لیکن یہ وقت موزوں نہیں ہے محکمہ جنگلات کو چاہئے تھا کہ مارچ میں ہی اس طرح کا قدم اُٹھاتے تا کہ لوگ پہلے ہی جنگلوں میں کھلے عام مکی کی فصل نہیں بوتے ۔ انہوں نے کہاکہ مارچ اپریل کے دوران سب ڈویژن گول میں لوگوں نے ڈھوکوں میں مکی بوئی اور گھاس کی رکھوالی بھی کی لیکن آج جب یہ مکی کی فصل پکنے کو آئی ہے تو آج یہ قدم اٹھانا لوگوں کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب ڈویژن گول کے صدر مقام کے نزدیک بھی لوگوں نے جنگل کی اراضی کو ہڑپ لیا ہے اور اس پر مکی کی فصل بھی تیار کی ہے اور یہ سلسلہ اُن کا سالہا سال سے جاری ہے اور محکمہ جنگلات بھی اس سے واقف ہے تو محکمہ پہلے ان لوگوں کی فصل تباہ کرنے سے کیوں قاصر ہے محکمہ غریب لوگوں کے ہی فصل تباہ کیوں کرتی ہے ۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ گول سب ڈویژن میں جنگل اراضی کو خالی کروائے چاہے اُس میں غریب آئے یا امیر ، سیاستدان آئے یا بیوروکریٹ کیونکہ قانون سب کیلئے ایک ہے تو یہ تلوار صرف غریبوں کی گردنوں پر ہی کیوں گرتی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ اور ان کمیٹیوں کو پہلے وہ جنگل کی اراضی خالی کرائے تو سینکڑوں کنال سب ڈویژن گول کے ساتھ لوگوں نے ہڑپ لی ہے تا کہ دیگر لوگوں کو بھی یہ پتہ چلے کہ محکمہ اور انتظامیہ ایک قانون کے تحت یہ کام چلا رہے ہیں اس طرح کی کاروائی پر ہر طرف سے شک کی نظر سے ہی دیکھا جاتا ہے ۔