عظمیٰ نیوزسروس
رام بن//رام بن پولیس نے برقی تار کی چوری سے متعلق ایک بڑے کیس کو کامیابی کے ساتھ حل کرتے ہوئے تقریباً 471کلوگرام چوری شدہ مال برآمد کر لیا ہے۔ اس معاملے میں چھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔11/12جون کی درمیانی شب کو نامعلوم افراد نے کووباغ، رام بن سے برقی تار کے دو ڈرم چوری کر لیے۔ اطلاع موصول ہونے پر پولیس اسٹیشن رام بن میں مقدمہ درج کیا گیا اور فوری طور پر تحقیقات شروع کی گئیں۔ دورانِ تفتیش پولیس ٹیموں نے ڈیجیٹل ٹریل اور تکنیکی شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا اور ایک نیلے رنگ کی تین پہیوں والی آٹو لوڈ کیریئر، جسے سبز ترپال سے ڈھانپا گیا تھا، کے ساتھ ایک سرخ رنگ کی سکوٹی جس پر دو افراد سوار تھے، کی نشاندہی کی۔مزید سخت محنت کے نتیجے میں گاڑی کی شناخت رجسٹریشن نمبر JK18A-3726کے طور پر کی گئی۔ ریکارڈ کی جانچ سے معلوم ہوا کہ یہ گاڑی ارشاد حسین ڈار ولد محمد اکبر ڈار ساکن ہوورا یاری پورہ، ضلع کولگام کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
فوری کارروائی کرتے ہوئے تفتیشی ٹیم کولگام روانہ ہوئی اور پولیس اسٹیشن کیموہ کی مدد سے مذکورہ گاڑی کو ارشاد حسین ڈار کے گھر کے باہر سے برآمد کر کے ضبط کر لیا۔ مسلسل پوچھ گچھ کے دوران اس نے چوری شدہ تار کی ترسیل میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا اور اپنے دیگر ساتھیوں کے نام بھی ظاہر کیے۔تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سمیر احمد ولد عبدالرحمن ساکن کووباغ، رامبن نے چوری شدہ تار کی فروخت کا بندوبست کیا تھا اور اپنے ساتھیوں پرویز احمد ولد فاروق احمد شیخ ساکن کووباغ رام بن، محمد شاکر ولد ایوب ساکن کووباغ اور امتیاز شیخ ولد عبدالاحمد شیخ ساکن بنی ہال حال مقیم کائوباغ رام بن کے ساتھ مل کر چوری شدہ مال گاڑی میں لوڈ کیا تھا۔ ملزمان نے سکوٹی پر گاڑی کو نیشنل ہائی وے تک اسکارٹ کیا، جس کے بعد چوری شدہ مال سری نگر کی جانب منتقل کیا گیا۔ملزمان کے انکشاف کی بنیاد پر پولیس نے تقریباً 471کلوگرام چوری شدہ برقی تار کولگام کے ایک کباڑی، ضامن امین ولد محمد امین وانی ساکن یاری پورہ، کے احاطے سے برآمد کر لی۔ برآمد شدہ مال کو قانون کے مطابق ضبط کر کے پولیس تحویل میں لے لیا گیا۔ جرم میں استعمال ہونے والی گاڑی کو بھی ضبط کیا گیا۔ بعد ازاں شریک ملزم محید حسن ولد غلام حسن لون ساکن یاری پورہ کولگام کو گرفتار کیا گیا۔ مزید تحقیقات اور چھاپوں کے دوران سمیر احمد، پرویز احمد، محمد شاکر اور امتیاز احمد کوکائوباغ، رام بن سے گرفتار کیا گیا۔ تمام قانونی کارروائیاں مکمل کی گئیں اور ملزمان کے اہل خانہ کو باقاعدہ اطلاع دی گئی۔چھ ملزمان کی گرفتاری اور چوری شدہ مال کی برآمدگی کے ساتھ اس کیس کو بڑی حد تک حل کر لیا گیا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہےتاکہ دیگر افراد کی شمولیت کا پتہ لگایا جا سکے اور کیس سے متعلق مزید حقائق سامنے لائے جا سکیں۔