گول//جہاں ایک طرف سے کورونا کیسوں میں لگا تار اضافے کو لے کر عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے وہیں دوسری جانب عوام کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ چھوٹے طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی کافی ذہنی شکار ہوئے ہیں کیونکہ لگا تار لاک ڈاون میں اضافہ کے ساتھ ساتھ کورونا کیسوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس لے چلتے لاک ڈاون ہی واحد ایک ایسا حل ہے جس سے اس وبائی بیماری کو پھیلنے میں روک کا ذریعہ ہے لیکن ساتھ ساتھ جہاں سرکار لاک ڈاون میں اضافہ کرتی آ رہی ہے وہیں اُن لوگوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے جو چھوٹے پیشہ سے تعلق رکھتے ہیں اور مزدور طبقہ و چھوٹے تاجر عنقریب فاقہ کشی کا شکار ہو جائیں گے ۔ اس کورونا وبال میں جہاں ایک طرف سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اس وبا ء کو اپنے لئے ایک بہت بڑا فائدہ بھی سمجھتے ہیں اور ہر روز غذائی اجناس میں اضافہ کو لے کر بھی عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے ۔ غذائی اجناس میں سرسوں کا تیل جو سو روپے لیٹر ہوتا کرتا تھا وہی تیل آج دو سو کے قریب پہنچ گیا ہے لیکن غریب مزدور کی مزدوری میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا ہے ۔ وہیں اگر سرکار کی جانب سے مفت راشن کی بات کریں گے تو اس طرح کا راشن مہینے میں ایک دو دن کے لئے ہی کافی ہے لیکن باقی پچیس دنوں کے لئے ایک غریب شہری کہاں سے اپنے عیال کا پیٹ پالے گا ۔ گول سب ڈویژن کی اگر بات کریں گے یہاں پر اکثر چھوٹے تاجر اور مزدور پیشہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی رہتے ہیں۔ لاک ڈاون میں لگا تار اضافے کے چلتے جہاں دکانداروں کا کرایہ ایک مار ہے وہیں کچھ ایسی بھی دکانیں ہیں جنہیں دکانیں بند ہونے سے کافی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے جیسے کہ گزشتہ سال میں بھی کافی دکانداروں کو نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ۔ گول سب ڈویژن میں آئے روز کورونا کیسوں میں لگا تار اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو کسی تشویش سے کم نہیں ہے ۔ وہیں ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو اس بات پر بھی سخت تشویش ہے کہ جہاں انتظامیہ گھر گھر ویکسن ، ٹیسٹ وغیرہ کر رہی ہے وہیں بیرون ریاست سے آئے ہوئے مزدور جن کا آنا جانا روز کا معمول ہے یہ کورونا کو گول کے اندر لانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اس طرح سے اگر دیکھا جائے تو ریلوے کمپنیوں میں کام کر رہے مزدور آئے روز مثبت آ رہے ہیں جن کی تعداد بھی بہت زیاد ہ ہے اور ان غیر ریاستی مزدوروں کے ساتھ ساتھ مقامی نوجوان بھی ریلوے کمپنیوں میں کام کرتے ہیں جو شام کو گھر آتے ہیں اس طرح سے انتظامیہ جس کورونا وباء کی چین کو توڑنا چاہتی ہے وہ یہاں سے جڑ جاتی ہے ۔ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ ایسی جگہوں اور ایسے افراد پر کڑی نظر رکھیں جو مثبت آئیں اور ان علاقوں میں سخت بندیں لگا دی جائیں تا کہ کم وقت میں اس زنجیر کو توڑا جا سکے ۔