ریاض، انقرہ// سعودی عرب نے امریکا کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی تسلط کو تسلیم کرنے کی مذمت کردی،اس علاقے کو اقوام متحدہ اور خلیجی تعاون کونسل نے تاحال شام کے مقبوضہ علاقے کا رتبہ دے رکھا ہے۔ اس دوران ترکی نے بھی گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت امریکا کو تنبیہہ کرتی ہے کہ اس کے اس عمل سے مشرق وسطیٰ میں جاری امن عمل کو سنگین نقصانات پہنچیں گے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی تسلط کو تسلیم کرنے سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن عمل کو نقصان پہنچے گا بلکہ خطے میں امن وا ستحکام کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔ سعودی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سوموار کے روز جاری ہونے والا امریکی اعلامیہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس دوران ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘‘ ہم 1967 سے اسرائیل کے قبضہ میں گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنے دینے کے امریکی انتظامیہ کے فیصلے سے ناخوش ہیں اور اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔یہ بدقسمتی بھرا فیصلہ ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 (1981) کا جو واضح کرتا ہے کہ امریکی انتظامیہ مغربی ایشیا میں قضیہ کے حل کے بجائے مسئلے کا حصہ بنا ہوا ہے ’’۔وزارت نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ کا فیصلہ ترکی کے لئے ناقابل قبول ہے ۔جاری بیان میں کہا گیا‘‘ بین الاقوامی قانون کے خلاف اسرائیل کی ناجائز اور غیر قانونی کارروائیوں کے جواز کی بے کار کوششوں سے اس علاقے کو اور غیر مستحکم کرنے کے بجائے اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے بنیادی اصولوں پر عمل بین الاقوامی برادری کے تمام اراکین کی ایک ضروری ذمہ داری ہے ’’اس سے پہلے ٹرمپ نے جمعرات کو گولان پہاڑیوں کے قضیہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد جس میں اس علاقے کو شام سے متعلق بتایا گیاہے ، کے ساتھ عمل کرنے والی 50 سالوں سے زیادہ کی امریکی پالیسی کو پلٹتے ہوئے کہاکہ امریکہ کے لئے گولان پہاڑیوں پر مکمل طور پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا وقت ہے ’’۔ٹرمپ کے بیان کی کئی ممالک نے مذمت کی جس میں ایران، شام، ترکی اور روس شامل ہیں۔اسرائیل نے 1967 میں چھ روزہ جنگ کے دوران شام کی گولان پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا. اسرائیل کے 30 اکتوبر 2018 کو علاقے میں مقامی انتخابات کرانے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد لایا گیا جس میں اسرائیل سے اس علاقے سے اپنی فوج کو فوری طور پر واپس ہوجانے کی اپیل کی گئی۔