گول//جہاںآج سے وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے ’’نیشنل نیوٹریشن مشن ‘‘ کاملک میں اس کا آغاز جے پور راجستھان سے کیا ہے وہیں اس کے لئے ریاست جموںو کشمیر میں ضلع رام بن سے گول پروجیکٹ اور ریاسی ضلع سے ارناس اور مہور پروجیکٹ کو چنا گیا جہاں آج سے اس اسکیم کو لاگو کیا گیا اور اس کے تحت آج ریلیوں کا بھی اہتمام ہوا۔آج اسی سلسلے میں گول میں ایک ریلی کا اہتمام ہوا جس کا افتتاح اے ڈی سی رام بن نے کیا اور بعد میں ایک جلسہ کا اہتمام ہوا ۔ ریلی گول بازار سے نکلی اور بہتر خوراک سے متعلق تحریر آنگن واڑی ورکروں ، ہیلپروں نے پلے بورڈ وںپر لکھی ۔ اس ریلی میں ہائر سکینڈر سکول کے طلباء و طالبات نے بھی حصہ لیا ۔ جلسہ میں ڈائریکٹر آئی سی ڈی ایس جی ایم صوفی مہمان خصوصی کے طو رپر موجود تھے جنہوں نے یہاں پر آئے ہوئے لوگوں اور آنگن واڑی ورکروں وہیلپروں کو اس اسکیم سے متعلق جانکاری دی ۔ جلسہ میں ڈائریکٹر آئی سی ڈی ایس جی ایم صوفی ، اے ڈی سی رام بن ، ایس ڈی ایم گول پنکج بگوترہ ، کے علاوہ نائب تحصیلدار گول، بلاک میڈیکل آفیسر گول و دوسرے معزز شہری بھی موجود تھے ۔ اس موقعہ پر ڈائریکٹر جی ایم صوفی نے کہا کہ ریاست میں تین پروجیکٹوں کو چنا گیا جن میں گول، مہور اور ارناس ہے ۔انہوں نے اس موقعہ پر بالخصوص سکولی طلباء سے کہا کہ وہ اس اسکیم کے تحت پوری جانکاری حاصل کریں اور اگر کوئی ایسا بچہ دیکھی جس کو نیوٹریشن کی ضرورت ہے اس کو صحت سے متعلق و دوسرے خوراک سے متعلق نیوٹریشن دی جائے گی ۔ انہوں نے اس موقعہ پر کہا کہ دیگر اسکیمیں بھی آئی سی ڈی ایس محکمہ کی جانب سے چلائی جا رہی ہیں جن میں پی ایم ایم وی وائی اسکیم ہے اس کے تحت جن کے کوک میں بچہ ہو اُس کو پانچ ہزار روپے دی جا رہی ہیں اس سلسلے میں اخبارات ، ٹیلی ویژن چینلوں پر بھی اشتہارات دئے گئے ہیں اور اگر دوردراز علاقوں میں کسی کو اس کی جانکاری نہیں ہے وہ محکمہ آئی سی ڈی ایس سے اس کی پوری جانکاری حاصل کریں اور دوسروں تک اس کی جانکاری پہنچائیں ۔ ڈائریکٹر موصوف نے اس موقعہ پر گول میں سی ڈی پی او کی خالی پوسٹ کو کل ہی پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی اور ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ آنگن واڑی سینٹروں میں صفائی و دوسرے چیزوں کو بہتر بنانے کے لئے نیشنل نیوٹریشن مشن کی جو اسکیم ہے اس کے تحت صفائی کے علاوہ دوسرے چیزوں کو بہتر بنانے کے لئے مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں ۔ ڈائریکٹر موصوف نے اس موقعہ پر کہا کہ پہلے آنگن واڑی سینٹر جو نجی عمارتوں میں چلائے جا رہے تھے کا کرایہ صرف دو سو روپے تھا لیکن اب اسے پہاڑی علاقوں میں1500روپے فی ماہ اور شہر میں 3000روپے تک کر دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ سی ڈی پی او کی کہ ذمہ داری ہے کہ وہ نیوٹریشن کو آنگن واڑی سینٹروں تک پہنچائیں تا کہ ہیلپروں اور ورکروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اس موقعہ پر اے ڈی سی نے کہا کہ اس اسکیم کو چلانے کے لئے بہتر طریقے سے سبھوں کو کام کرنا ہو گا اور اس موقعہ پر انہوں نے آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں سے کہا کہ وہ اس اسکیم کو در در تک پہنچائیں تا کہ اس کا فائدہ ہر ایک انسان اٹھا سکے ۔ اس موقعہ پر سکولی بچوں اور آنگن واڑی ورکروں وہیلپروںنے سوچھ بھارت مشن پر تقاریر کیں اور آخر پر بچوں میں انعامات تقسیم کئے گئے ۔ اس موقعہ پر آئی سی ڈی ایس کی جانب سے بہتر طعام کا بھی انتظام کیاگیا تھا ۔